اے آئی کا پھیلاؤ پاکستان کی روزگار مارکیٹ کو متاثر کر سکتا ہے، ورلڈ بینک کا انتباہ
- رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے والے تعلیم یافتہ نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں
پاکستان کی پہلے سے دباؤ کا شکار روزگار مارکیٹ کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے باعث مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے باعث ملازمتوں کے متاثر ہونے کا خطرہ ان ممالک میں زیادہ ہے جہاں اعلیٰ معیار کی رسمی ملازمتوں کی فراہمی پہلے ہی کمزور ہے۔
ورلڈ بینک کی ورلڈ ڈویلپمنٹ رپورٹ 2026: دی پرامس آف اے آئی کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان خطے کے ان ممالک میں شامل ہے جو مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے لیے زیادہ حساس ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی بلند شرح اور نجی شعبے میں محدود ملازمتوں کے مواقع اس خطرے کو بڑھا رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے والے تعلیم یافتہ نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ مصنوعی ذہانت تیزی سے علم پر مبنی کاموں کو خودکار بنا رہی ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق مصنوعی ذہانت سے ملازمتوں کے متاثر ہونے کا اثر ان معیشتوں میں زیادہ شدید ہو سکتا ہے جہاں اعلیٰ مہارت پر مبنی خدمات روزگار میں اضافے کا اہم ذریعہ رہی ہیں۔ پاکستان پہلے ہی معیاری ملازمتیں پیدا کرنے میں مشکلات کا شکار ہے، اس لیے تیز رفتار اے آئی اپنانے سے ہنرمند گریجویٹس کے لیے روزگار کے مواقع مزید محدود ہو سکتے ہیں، اگر حکومت روزگار پیدا کرنے، دوبارہ تربیت (ری اسکلنگ) اور ڈیجیٹل مسابقت بڑھانے کے لیے اقدامات نہ کرے تو بے روز گاری بڑھ سکتی ہے۔
رپورٹ میں عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا کہ 2026 میں امریکا کی پانچ بڑی اے آئی کمپنیاں، جن میں الفابیٹ (گوگل)، ایمیزون، میٹا، مائیکروسافٹ اور اوریکل شامل ہیں، مجموعی طور پر 775 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی، جو پاکستان کی متوقع 408 ارب ڈالر کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) سے بھی زیادہ ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق ترقی پذیر ممالک مصنوعی ذہانت کے ذریعے وہ ترقی ایک دہائی میں حاصل کر سکتے ہیں جو عام حالات میں ایک صدی لے سکتی ہے، تاہم اس کے لیے حکومتوں کو بجلی، انٹرنیٹ، ڈیجیٹل مہارتوں اور ادارہ جاتی صلاحیتوں میں فوری بہتری لانا ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں جنریٹو اے آئی کے باعث ملازمتوں کے خودکار ہونے کا خطرہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں تقریباً 4.5 فیصد ملازمتیں خطرے سے دوچار ہیں، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح 14.2 فیصد ہے۔
ورلڈ بینک نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے اے آئی کا سب سے بڑا فائدہ ملازمتیں ختم کرنا نہیں بلکہ کارکنوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ مصنوعی ذہانت ڈاکٹروں کو مریضوں کی تشخیص، کسانوں کو فصلوں کے بہتر فیصلوں اور کاروباری اداروں کو پیداواری صلاحیت بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔
ورلڈ بینک کے سینئر نائب صدر اور چیف اکانومسٹ اندرمیت گل نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے ترقی پذیر معیشتوں کو ایک اہم موقع فراہم کیا ہے، جس سے انہیں فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ان کے مطابق ممالک کو بڑے ڈیٹا سینٹرز یا مہنگے اے آئی ماڈلز کی ضرورت نہیں بلکہ مقامی ضروریات کے مطابق کم لاگت والے اے آئی ٹولز کو اپنانا ہوگا۔
رپورٹ میں حکومتوں کو تین مرحلوں پر مشتمل حکمت عملی اپنانے کی تجویز دی گئی ہے: دستیاب اے آئی ٹولز کو استعمال کرنا، انہیں مقامی حالات کے مطابق ڈھالنا اور وقت کے ساتھ جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجی کی طرف بڑھنا۔
ورلڈ بینک نے خبردار کیا کہ اگر ترقی پذیر ممالک نے بروقت اقدامات نہ کیے تو مصنوعی ذہانت عالمی اور مقامی عدم مساوات میں اضافہ، مارکیٹ طاقت کے ارتکاز اور عوامی اداروں پر اعتماد میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اے آئی سے فائدہ اٹھانے کے لیے بجلی، انٹرنیٹ، کمپیوٹنگ سہولیات، مقامی زبانوں میں ڈیٹا اور ہنرمند افرادی قوت کی دستیابی بنیادی ضرورت ہے۔ ورلڈ بینک نے کہا کہ موجودہ وقت میں کیے گئے درست اقدامات ترقی پذیر ممالک کو مصنوعی ذہانت کے دور میں پیچھے رہنے سے بچا سکتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments