پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ طے، علاقائی سلامتی مضبوط بنانے کا عزم
- کسی بھی جارحيت کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا معاہدے کا بنیادی مقصد ہے، ترجمان دفتر خارجہ
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کردیے، ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہو گا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے باضابطہ طور پر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ اجتماعی سلامتی، اسٹریٹجک تعاون اور دفاعی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ہے جبکہ یہ ایک دفاعی اور غیر جارحانہ اتحاد ہے جس کا مقصد کسی بھی ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں۔
ذرائع کے مطابق معاہدے کا مقصد بیرونی سیکیورٹی ضمانتوں پر انحصار کرنے کے بجائے، قابلِ اعتبار ڈیٹرنس (خوفِ انتقام/روک تھام) کے ذریعے تنازع کو روکنا اور علاقائی استحکام اور اسٹریٹجک خود کفالت کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ معاہدہ کسی مسلم نیٹو کی تشکیل ہے یا اس کے تحت کسی قسم کی جوہری چھتری فراہم کی جائے گی۔ ذرائع نے کہا کہ معاہدے کا مقصد طویل عرصے سے جاری دفاعی تعاون کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے ذریعے تینوں ممالک کی باہمی تکمیلی صلاحیتوں کو یکجا کیا گیا ہے۔ پاکستان اپنی جنگی تجربہ رکھنے والی مسلح افواج اور اسٹریٹجک مہارت، سعودی عرب اپنی معاشی طاقت اور علاقائی اثر و رسوخ جبکہ ترکیہ اپنی جدید دفاعی صنعت اور تکنیکی صلاحیتوں فراہم کرے گا۔
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ معاہدے سے تینوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، اسٹریٹجک رابطہ کاری، فوجی تعاون اور دفاعی منصوبہ بندی کو مزید فروغ ملے گا، جبکہ اس کے ذریعے سلامتی کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں وسیع تر تعاون کی بنیاد بھی رکھی جائے گی۔
دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) اشفاق نے اس معاہدے کو تین تزویراتی (اسٹریٹجک) لحاظ سے اہم مسلم ممالک کے درمیان ایک نئے اجتماعی سیکیورٹی فریم ورک کے ابھرنے سے تعبیر کیا، اور کہا کہ اس کی سب سے بڑی اہمیت تزویراتی اعتماد کے ادارہ جاتی بننے میں ہے۔
اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے ترکیہ کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر مہمت اوزکان نے معاہدے کو اکتوبر 2023 میں اسرائیل-غزہ تنازع شروع ہونے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی اہم ترین اسٹریٹجک پیش رفتوں میں سے ایک قرار دیا۔
وزارتِ خارجہ نے جمعہ کو بتایا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کردیے ہیں جس کے تحت اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے اور تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تمام ممالک پر حملہ تصور کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
یہ معاہدہ مکہ کے الصفا محل میں مشترکہ سربراہی اجلاس ہوا۔
سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف نے اس سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ تینوں رہنماؤں نے اپنے دیرینہ تعلقات کا جائزہ لیا اور باہم دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطہ شدید تناؤ کا شکار ہے اور امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کو سخت تنقید اور نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایران اور اس کے اتحادی 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملے کے بعد سے جاری شدید علاقائی کشیدگی کے دوران سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر بمباری کر رہے ہیں اور ان کی توانائی کی ترسیلات کی ناکہ بندی کر رہے ہیں۔
ترکیہ نیٹو کا رکن ہے۔ ایک اور امریکی اتحادی، سعودی عرب دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندگان میں سے ایک اور خلیج کی طاقتور ترین ریاست ہے، جبکہ پاکستان واحد ایٹمی صلاحیت رکھنے والا مسلم ملک ہے۔
یہ معاہدہ تقریباً ایک سال کے طویل مذاکرات کے بعد طے پایا ہے جن کی رپورٹ رائٹرز نے جنوری میں دی تھی اور یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی جنگ نے خلیجی ممالک کی سیکیورٹی کی کمزوریوں کو واضح کر دیا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور دیگر اہم اشیاء کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔
ترک وزیر خارجہ ہاقان فیدان نے جنوری میں کہا تھا کہ انقرہ تعاون اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی پلیٹ فارم کا حامی ہے۔
ایک سعودی اہلکار نے پہلے رائٹرز کو بتایا تھا کہ موجودہ سعودی پاکستانی معاہدے کے تحت کسی بھی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے اور اس میں تمام فوجی وسائل شامل ہیں۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ تینوں ممالک کے تاریخی تعلقات، اخوت کے رشتے اور اسلامی یکجہتی کے ساتھ ساتھ ان کے مشترکہ سٹریٹجک مفادات اور دیرینہ دفاعی تعاون پر مبنی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ اجتماعي تحفظ کو مزید مضبوط بنانے اور خطے اور اس سے باہر امن، سیکیورٹی اور استحکام کو فروغ دینے کیلئے تینوں ریاستوں کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحانہ اقدام کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے اور اس میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ تینوں ریاستوں میں سے کسی بھی ایک کے خلاف مسلح حملے کو ان تمام کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تمام شعبوں میں دفاعی تعاون کو بڑھانے کا فریم ورک بھی فراہم کرتا ہے۔
تینوں ممالک نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کی حمایت کرنا اور سیکیورٹی چیلنجز کا جواب دینے کے لیے ان کی مشترکہ صلاحیت کو تقویت دینا ہے۔
ایک ترک اہلکار نے بتایا کہ معاہدے میں مشترکہ دفاع سے متعلق شق شامل ہے۔ یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، جس میں صرف دفاع کی صورت میں باہمی تعاون کا وعدہ کیا گیا ہے۔اہلکار نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص فریق کے خلاف نہیں ہے، خطے کے دیگر ممالک کے لیے کھلا ہے اور یہ کسی بھی موجودہ دوطرفہ یا کثیر جہتی انتظامات کو منسوخ یا منقطع نہیں کرتا۔
تاہم تینوں ممالک خاص طور پر اسرائیل اور ایران دونوں کے بڑھتے ہوئے جارحانہ فوجی موقف کے بارے میں تشویش رکھتے ہیں، جبکہ ان کا دیرینہ امریکی اتحادی علاقائی کشیدگی کو قابو میں رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔
طاقتور سیاسی علامت
سعودی عرب کے تھنک ٹینک گلف ریسرچ سینٹر کے چیئرمین عبدالعزیز صقر نے کہا اس سربراہی اجلاس کی سیاسی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ مسلم دنیا کی تین بااثر ترین ریاستیں ایک ایسے وقت میں جمع ہو رہی ہیں جب شدید غیر یقینی کی صورتحال ہے، جو سیکیورٹی امور پر مزید باریک بینی سے ہم آہنگی کے لیے علاقائی اور درمیانی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی آمادگی کو ظاہر کرتی ہے۔
عبدالعزیز صقر نے مزید کہا کہ اگر اسے ادارہ جاتی شکل دی جائے اور ٹھوس تعاون میں ڈھالا جائے تو یہ سہ فریقی فریم ورک تینوں ممالک کے مشترکہ سفارتی اور دفاعی وزن کو مضبوط کر سکتا ہے، جبکہ خطے کے اندر سے ابھرتے ہوئے سیکیورٹی نظام کی تشکیل میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔
ترکیہ کے پاس نیٹو کی دوسری بڑی فوج ہے۔ خلیج کی سب سے طاقتور ریاست، سعودی عرب اسلام کے مقدس ترین مقامات کا مسکن اور دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندگان میں سے ایک ہے، جبکہ پاکستان واحد ایٹمی مسلح مسلم ملک ہے۔
ترک صدر اردوان کی آمد سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف عاصم منیر کے ہمراہ مکہ مکرمہ میں عمرہ کی ادائیگی کی۔
انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی، جن کے ملک پر 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران کے علاوہ یمن میں ان کے اتحادی حوثیوں اور عراق میں ملیشیا کی جانب سے بار بار حملے کیے گئے ہیں۔
اس تنازع نے ریاض کے خلیجی اتحادیوں کی سیکیورٹی کو بھی درہم برہم کر دیا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی زیادہ تر بحری ترسیلات کو بند کر دیا ہے، جو جنگ سے پہلے عالمی توانائی کی سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے کی گزرگاہ تھی۔
























Comments