علاقائی کشیدگی: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے کا امکان
- معاہدہ تقریباً ایک سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد طے پایا ہے
مقامی ذرائع کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب جمعہ کو ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کریں گے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں شدید کشیدگی جاری ہے اور امریکی و اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والے ایران کی جانب سے خلیجی ریاستوں کو بھی حملوں کا سامنا ہے۔
اگرچہ اس معاہدے نے بڑی مسلم طاقتوں کے ابھرتے ہوئے اتحاد کو مزید مستحکم کردیا ہے لیکن ہر ریاست کی ذمہ داریوں کے حوالے سے فوری طور پر کوئی صفاٸی یا وضاحت سامنے نہیں آئی۔
ترکیہ کے ایک عہدیدار نے معاہدے پر دستخط کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔
ترکیہ نیٹو کا رکن ہے۔
امریکہ کا ایک اور اتحادی سعودی عرب دنیا کے سرفہرست تیل برآمد کرنے والوں اور خلیج کی طاقتور ترین ریاستوں میں سے ایک ہے جب کہ پاکستان واحد ایٹمی صلاحیت کا حامل مسلم ملک ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ معاہدے پر دستخط کے لیے جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔
یہ معاہدہ تقریباً ایک سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد طے پایا ہے جن کے بارے میں رائٹرز نے جنوری میں رپورٹ کیا تھا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کے ساتھ جنگ نے خلیجی ریاستوں کی سلامتی کی کمزوریوں کو نمایاں کردیا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور دیگر اہم اشیا کی ترسیل متاثر ہورہی ہے۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے جنوری میں کہا تھا کہ انقرہ تعاون اور استحکام کے فروغ کے لیے ایک وسیع تر علاقائی سلامتی کے پلیٹ فارم کے حق میں ہے۔
ایک سعودی عہدیدار نے اس سے قبل رائٹرز کو بتایا تھا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان پہلے سے موجود ایک معاہدے کے تحت دونوں میں سے کسی ایک پر حملے کو دونوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے اور اس میں تمام فوجی ذرائع استعمال کرنے کی شق شامل ہے۔
پاکستانی فوج اور حکومت نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔ سعودی حکومت نے بھی تبصرے کی درخواست پر فوری ردِعمل نہیں دیا۔


























Comments