آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات، خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ
- برینٹ خام تیل کے سودے 99 سینٹ یا 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 83.48 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو بھی اضافہ جاری رہا، کیونکہ ایران اور عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے مجوزہ ضوابط پر پیش رفت نے توانائی کی ترسیل کے مستقبل سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا۔
برینٹ خام تیل کے سودے 99 سینٹ یا 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 83.48 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 85 سینٹ یا 1.1 فیصد اضافے سے 78.84 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
جمعرات کو بھی تیل کی قیمتیں 3 ڈالر سے زائد اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھیں، جب ایران میں ایک ایسے مسودہ قانون پر غور کی اطلاعات سامنے آئیں جس کے تحت امریکا، اسرائیل اور دیگر دشمن قرار دیے جانے والے ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ مجوزہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں پر ان کے کارگو کی مالیت کے 20 فیصد تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی تھی، اس لیے اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی مارکیٹ پر فوری اثر ڈالتی ہے۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹِم واٹرر کے مطابق سرمایہ کار اب بھی کسی مستقل معاہدے کے حوالے سے شکوک کا شکار ہیں، کیونکہ رواں سال پہلے بھی ایک عارضی انتظام زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکا تھا۔ ان کے بقول اسی غیر یقینی صورتحال نے تیل کی قیمتوں کو سہارا دے رکھا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایک ایرانی رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی ابتدائی مسودہ قانون کا جائزہ لے رہی ہے۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق ایران آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے جہازوں سے کارگو کی مالیت کے 5 سے 7 فیصد تک فیس وصول کرنے کا خواہاں ہے، جبکہ عمان تقریباً 3 فیصد فیس کی تجویز پر غور کر رہا ہے۔ دوسری جانب امریکا کسی بھی قسم کی فیس کی مخالفت کر رہا ہے۔
ادھر چار صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں اور انشورنس سے متعلق سخت شرائط کے باعث مجوزہ معاہدے پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا۔
دوسری جانب یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جمعرات کو یمن کے صوبوں ماریب اور حضرموت میں سعودی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جاری جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔

























Comments