BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-0.9%)
KSE100 Decreased By (-0.81%)
KSE30 Decreased By (-0.81%)
BAFL 59.64 Decreased By ▼ -0.20 (-0.33%)
BIPL 27.12 Decreased By ▼ -0.06 (-0.22%)
BOP 34.12 Decreased By ▼ -1.16 (-3.29%)
CNERGY 12.90 Decreased By ▼ -0.23 (-1.75%)
DFML 18.21 Increased By ▲ 0.13 (0.72%)
DGKC 213.25 Decreased By ▼ -3.76 (-1.73%)
FABL 98.95 Decreased By ▼ -1.00 (-1%)
FCCL 57.64 Decreased By ▼ -0.33 (-0.57%)
FFL 16.18 Decreased By ▼ -0.24 (-1.46%)
GGL 24.12 Decreased By ▼ -0.24 (-0.99%)
HBL 333.50 Increased By ▲ 7.29 (2.23%)
HUBC 212.35 Decreased By ▼ -1.07 (-0.5%)
HUMNL 10.61 Decreased By ▼ -0.20 (-1.85%)
KEL 7.45 Decreased By ▼ -0.03 (-0.4%)
LOTCHEM 27.91 Increased By ▲ 0.16 (0.58%)
MLCF 101.00 Decreased By ▼ -1.98 (-1.92%)
OGDC 320.98 Decreased By ▼ -2.80 (-0.86%)
PAEL 43.08 Decreased By ▼ -0.82 (-1.87%)
PIBTL 16.60 Decreased By ▼ -0.08 (-0.48%)
PIOC 271.90 Decreased By ▼ -4.29 (-1.55%)
PPL 229.48 Increased By ▲ 0.01 (0%)
PRL 71.50 Increased By ▲ 1.39 (1.98%)
SNGP 102.50 Decreased By ▼ -1.16 (-1.12%)
SSGC 26.70 Decreased By ▼ -0.41 (-1.51%)
TELE 8.65 Decreased By ▼ -0.07 (-0.8%)
TPLP 15.14 Decreased By ▼ -0.54 (-3.44%)
TRG 60.10 Decreased By ▼ -1.03 (-1.68%)
UNITY 12.11 Increased By ▲ 0.07 (0.58%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

امریکہ ایران معاہدہ جنگ کے خاتمے کا وعدہ تو کرتا ہے، مگر اس پر عملدرآمد کا طریقہ تاحال غیر واضح

  • ٹرمپ کا دعویٰ: امریکا ایران تنازع ختم، معاہدہ دوسرے مرحلے میں داخل
شائع اپ ڈیٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے ہونے والے عبوری معاہدے پر شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں، کیونکہ شپنگ کمپنیوں کے مطابق آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کے باوجود اعتماد کی بحالی میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، جبکہ معاہدے سے جڑے کئی بنیادی سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع ختم کرنے کا معاہدہ “طے پا چکا ہے” اور اب یہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، تاہم اس کی تفصیلات تاحال عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں اور دونوں ممالک کے مطابق مستقل جنگ بندی کے لیے ابھی مزید مذاکرات درکار ہیں۔

یہ عبوری معاہدہ اپریل میں اعلان کردہ نازک جنگ بندی کو مزید 60 روز تک بڑھا دے گا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا، جسے ایران نے فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد عملی طور پر بند کر دیا تھا۔

مذاکرات کے اگلے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل جیسے مشکل امور پر بات کی جائے گی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق یہ مذاکرات جمعہ کو جنیوا میں اس فریم ورک معاہدے پر دستخط کے بعد شروع ہوں گے۔

وہ دو دیگر بڑے معاملات، جو ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنگ کا جواز قرار دیا تھا، یعنی ایران کی علاقائی مسلح گروہوں کو حمایت اور اس کے میزائل پروگرام کو محدود کرنا، ان مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہونے کی توقع نہیں۔

ٹرمپ نے جی-7 ممالک کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ہمارا ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے، یہ کامیاب بھی ہو سکتا ہے، اب یہ دوسرے مرحلے میں جا رہا ہے جو میرے خیال میں زیادہ آسان ہوگا۔“

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کے جمعہ کو جنیوا میں رسمی دستخطی تقریب میں شرکت کا امکان ہے۔

حتمی معاہدہ ابھی تشکیل کے مرحلے میں

تیل کی قیمتیں منگل کو نئی تین ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں، ایک دن پہلے تقریباً 5 فیصد کمی کے بعد، تاہم توانائی کے شعبے کے حکام کے مطابق مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس کی مکمل بحالی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پیر کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ عبوری معاہدہ جنگ روکنے کی جانب ”اہم قدم“ ہے، لیکن مستقل جنگ بندی کا حتمی معاہدہ ابھی تک مکمل شکل اختیار نہیں کر سکا۔

وینس نے سی این این کو بتایا کہ دستخط شدہ یادداشت ایک “بہت عمومی دستاویز” ہے، جبکہ امریکی حکام کے مطابق تفصیلات آئندہ دو روز میں جاری کی جائیں گی۔

ان کے مطابق اس میں ایران کے لیے ”اہم سطح کی پابندیوں میں نرمی“ شامل ہے۔ وینس نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ٹرمپ جمعہ سے پہلے معاہدے کو عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔

دونوں فریقین کو اس تنازع کے بعد مزید دباؤ کا سامنا ہے جس میں کم از کم 7 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت ایران اور لبنان میں تھی، اور جس نے عالمی توانائی منڈیوں کو بھی متاثر کیا۔

یہ معاہدہ ٹرمپ کو ان کی اپنی جماعت کے اندر تنقید کے خطرے سے دوچار کرتا ہے، جبکہ ایران کی قیادت کو معاشی دباؤ میں کمی نہ آنے کی صورت میں عوامی احتجاج کے خدشے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

امریکی اور ایرانی حکام کے مطابق یہ معاہدہ بالآخر ایران کے لیے اہم معاشی فوائد لا سکتا ہے، جس میں پابندیوں میں نرمی اور بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہے۔ اس کے علاوہ 300 ارب ڈالر پر مشتمل ایک تعمیر نو فنڈ کے قیام کی بھی تجویز ہے، جسے خلیجی ممالک فراہم کریں گے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان فوائد کے بدلے ایران کو یہ یقین دہانی کرانا ہوگی کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور لبنان میں حزب اللہ جیسے گروہوں کی حمایت بھی ختم کرے گا۔

ایرانی حکام، جو ہمیشہ جوہری ہتھیار بنانے کے ارادے کی تردید کرتے رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران رکی ہوئی یورینیم افزودگی پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی کے سوا انہوں نے کوئی بڑی رعایت نہیں دی۔

شپنگ پر احتیاط

اگرچہ تازہ معاہدہ ایران کی آبنائے ہرمز پر گرفت کم کر سکتا ہے، جو عام طور پر عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کا راستہ ہے، تاہم شپنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ معمول کی ٹریفک کی بحالی میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

ایک بڑی تشویش تنگ آبی گزرگاہ میں ممکنہ بارودی سرنگوں کی موجودگی ہے۔ یونانی میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی ڈیپلوس کے ایک عہدیدار کے مطابق مکمل مائن سویپنگ آپریشن میں “ہفتوں سے مہینوں” لگ سکتے ہیں۔

ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر عمان کے ساتھ مشترکہ کنٹرول برقرار رکھے گا۔ امریکہ نے کہا ہے کہ یہ راستہ 60 روز کے لیے ٹول فری کھلا رہے گا اور توقع ہے کہ یہ شق حتمی معاہدے کا حصہ ہوگی۔

ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر کہا کہ تیل سے بھرے جہاز آبنائے ہرمز سے نکلنا شروع ہو گئے ہیں اور وہ “جنوبی ہائی وے” کے راستے آگے بڑھ رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق امریکی فوج خلیجی توانائی کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے خفیہ شپ ٹو شپ تیل منتقلی کے متعدد آپریشنز کی نگرانی کر رہی ہے۔

لبنان پر غیر یقینی صورتحال

امریکی اتحادی اسرائیل اور ایران کے حامی حزب اللہ کے درمیان لبنان میں جاری تنازع، جس کے باعث 12 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، ایک اور پیچیدگی کے طور پر موجود ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت وہاں مکمل جنگ بندی ضروری ہے، تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجیں برقرار رکھے گا اور حزب اللہ کے حملوں کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھے گا۔

انہوں نے کہا: ”ایران ہم سے انخلا چاہتا تھا، لیکن میں اپنے مؤقف پر قائم رہا۔“ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ وہ لبنان میں اسرائیل کے طرزِ عمل سے ”خوش نہیں“ ہیں، کیونکہ وہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے ایران کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں براہِ راست شرکت نہیں کی۔

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل کا لبنان سے انخلا، جس میں وہ مارچ میں حزب اللہ کی جنگ میں شمولیت کے بعد داخل ہوا تھا، معاہدے کی شرط نہیں ہے۔

عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔

Comments

200 حروف