ٹرمپ کی دھمکی کے بعد امریکا کے ایران پر نئے فضائی حملے
- یہ حملے امریکا کے فوجی مفادات کو آگے بڑھانے اور سفارتی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہیں، امریکی وزیر دفاع
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید کارروائیوں کی دھمکی کے چند گھنٹوں بعد امریکا نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایران میں متعدد اہداف پر نئے فضائی حملے کیے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ یہ حملے ایران کی مسلسل جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی بندرگاہی شہر سیریک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ مغربی تہران میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امن معاہدے کی جانب پیش رفت نہ ہوئی تو امریکا ایران پر شدید حملے کرے گا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ یہ حملے امریکا کے فوجی مفادات کو آگے بڑھانے اور سفارتی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو مذاکرات بھی طاقت کے ذریعے کیے جائیں گے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکی کارروائیوں میں ایسے آبی ذخائر کو نشانہ بنایا گیا جو 10 دیہات کو پینے کا پانی فراہم کرتے تھے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اسے جنگی جرم قرار دیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان اپریل میں ہونے والی نازک جنگ بندی کے باوجود حالیہ ہفتوں میں متعدد حملے اور جوابی کارروائیاں ہو چکی ہیں۔ ایران نے اردن، کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، تاہم امریکی حکام کے مطابق کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔
ادھر قطر کا ایک وفد، جو دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کر رہا ہے، تازہ صورتحال پر مذاکرات کے لیے تہران پہنچ گیا ہے۔ دوسری جانب جنگ کے باعث عالمی تیل منڈی شدید متاثر ہوئی ہے اور خام تیل کی قیمت تقریباً 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
ایران نے اپنی شرائط میں لبنان پر اسرائیلی حملوں کا خاتمہ، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کے اعتراف کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے پر زور دے رہا ہے۔ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے عزائم کی تردید کرتا ہے۔























Comments