پاکستان کا دعویٰ : امریکا اور ایران کسی معاہدے کے قریب ہیں، رپورٹ
- پاکستان جاری امریکی و ایرانی تنازع کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں سرگرمِ عمل ہے
پاکستان نے عندیہ دیا پے کہ امریکا اور ایران ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کے قریب ہیں جس سے ان کشیدگیوں میں کمی لائی جاسکتی ہے جنہوں نے توانائی کی عالمی منڈیوں کو متاثر کر رکھا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بلومبرگ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایک مرتبہ پھر حالات امن معاہدے یا کسی سمجھوتے کے حق میں بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا گزشتہ دو، تین روز کے دوران ملنے والے اشارے یہ ہیں کہ ہم کسی نہ کسی سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
پاکستان نے جاری امریکا ایران تنازع کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ یہ تنازع 28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوا، جس کے جواب میں ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔
ان کوششوں کو چین، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور اقوام متحدہ سمیت مختلف علاقائی اور عالمی شراکت داروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سراہا اور حمایت کی گئی ہے۔
خواجہ آصف کے بیان کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آئی، برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 21 سینٹ یا 0.24 فیصد کم ہوکر 11:38 جی ایم ٹی تک 87.51 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت بھی 4 سینٹ یا 0.05 فیصد کمی سے 82.09 ڈالر فی بیرل رہی۔
پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امن معاہدے کے لیے ایران کی شرائط کے جواب میں اپنے مطالبات پیش کیے تھے، جن میں ایران سے جنگوں، حملوں اور احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ اس مطالبے سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششیں پیچیدہ ہونے کا امکان ہے۔
بعد ازاں اسی روز انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور ایرانی بارودی سرنگوں سے اس اہم تیل گزرگاہ کو صاف کردیا ہے۔
فروری کے اواخر میں ایران تنازع شروع ہونے سے قبل دنیا بھر میں روزانہ استعمال ہونے والے تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً پانچویں حصے کی سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی۔






















Comments