پاکستان نے گلگت بلتستان کے انتخابات پر بھارتی اعتراضات مسترد کر دیے، کشمیر پر اپنے موقف کا اعادہ
- پاکستان نے گلگت بلتستان کے حوالے سے بھارت کے "بے بنیاد" تبصروں کو مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت پر زور دیا
پاکستان نے جمعے کے روز گلگت بلتستان میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے بھارت کے بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ”بے بنیاد“ قرار دیا اور نئی دہلی پر پروپیگنڈے کے ذریعے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارت کے یہ ریمارکس ”حقیقت اور افسانے کو خلط ملط کرنے کی ایک مانوس اور سوچے سمجھے انداز میں کی جانے والی کوشش“ کا حصہ ہیں، اور اسلام آباد ان دعوؤں کو ”اس حقارت کے ساتھ مسترد کرتا ہے جس کے وہ مستحق ہیں“۔
یہ بیان جموں و کشمیر کے متنازع خطے کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر لفظی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ بھارت جموں و کشمیر کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع خطے پر ”غیر قانونی قبضہ“ کیے ہوئے ہے، اور کہا ہے کہ یہ دہائیوں پرانا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے طویل حل طلب مسئلہ ہے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ اس تنازع کے منصفانہ اور پائیدار حل کی واحد صورت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر دیانتدارانہ عملدرآمد ہے، جو کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزاد اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے حقِ خودارادیت کی ضمانت دیتی ہیں۔
اسلام آباد نے بھارت پر مقبوضہ جموں و کشمیر ( آئی آئی او جے کے) میں ”سنگین اور منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں“ کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ بھارتی فورسز خطے میں نافذ ”جابرانہ قوانین“ کے تحت استثنا اور جواب دہی سے بالاتر ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کے گلگت بلتستان سے متعلق دعوے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں، اور نئی دہلی ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جو کشمیریوں کے حقوق کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات واپس لے، پابندیوں پر مبنی قوانین منسوخ کرے، اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، غیر جانبدار مبصرین اور غیر ملکی میڈیا کو علاقے تک رسائی دے۔
بیان میں بھارت سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خودارادیت کے استعمال کا موقع فراہم کرے۔
























Comments