ایران مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی مزید متاثر ہوگئی ، مارکو روبیو
- امریکہ ایران تنازع میں شدت، سفارتی کوششیں تعطل کا شکار؛ عالمی توانائی کی گزرگاہیں متاثر اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے، جس کے باعث جاری تنازع نے عالمی سطح پر توانائی کی دو اہم ترین آبی گزرگاہوں کو شدید متاثر کر دیا ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی بحری جہازوں کی ناکہ بندی کی دھمکی کے بعد بحیرہ احمر میں ایشیا جانے والے مزید چار سعودی خام تیل بردار جہازوں نے اپنا راستہ بدل لیا ہے۔ ایران کی جانب سے تنگہ ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد اب روزانہ لاکھوں بیرل سعودی تیل ینبع بندرگاہ بھیجا جا رہا ہے، تاہم نہر سویز کا طویل راستہ ترسیل میں ہفتوں کی تاخیر کا باعث بن رہا ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے ایران کے مرکزی اور مغربی علاقوں میں حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ تہران نے کویت میں پانی اور توانائی کے مراکز اور کویت، بحرین و اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔منیلا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے واضح کیا کہ اگر ایران سنجیدہ ہو تو امریکہ بھی تیار ہے، وگرنہ اپنے اور اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے تنگہ ہرمز پر ایرانی کنٹرول کو دنیا کے لیے خطرناک قرار دیا۔ دوسری طرف پاکستانی ثالثی میں 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز سامنے آئی ہے، جبکہ پاکستان نے سعودی تیل کی برآمدات روکے جانے کی حوثی دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے۔
اس بڑھتی کشیدگی اور امریکی حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں اور انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔























Comments