پیٹرولیم مصنوعات: احتجاج کی لہر سے حکومت کی یومیہ قیمتوں کی پالیسی خطرے میں
- روزانہ پیٹرولیم قیمتوں میں تبدیلی سے غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ جائے گی، سائٹ ایسوسی ایشن
تاجروصنعتکار برادری نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک سے پٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے کے حکومت کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ پالیسی صنعت، تجارت اور وسیع تر معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں کا طریقہ کار تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے ذریعے تیار کیا جانا چاہیے۔
سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر عبدالرحمان فدا نے اپنے بیان میں حکومت کے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین کرنے کے فیصلے کو ملکی صنعت، برآمدات اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے ایک نیا اور سنگین معاشی بوجھ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی صنعت پہلے ہی بلند بجلی و گیس نرخ، بھاری ٹیکسوں اور پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں روزانہ پیٹرولیم قیمتوں میں تبدیلی سے غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ جائے گی۔
عبدالرحمان فدا نے کہا کہ صنعت و تجارت کو سب سے زیادہ نقصان دو عوامل پہنچاتے ہیں، ایک مہنگی توانائی اور دوسرا غیر یقینی کاروباری ماحول۔ اگر صنعتکار کو ہر صبح یہ معلوم نہ ہو کہ ایندھن کی قیمت کیا ہوگی اور پیداواری لاگت کس حد تک بڑھ جائے گی تو وہ نہ اپنی مصنوعات کی قیمت مقرر کر سکتا ہے اور نہ ہی مستقبل کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی صنعت روزانہ قیمتیں تبدیل نہیں کر سکتی جبکہ برآمدی شعبہ کئی ماہ پہلے آرڈرز بک کرتا ہے، اس دوران اگر ایندھن مہنگا ہوتا رہے تو برآمد کنندگان عالمی منڈی میں مسابقت برقرار نہیں رکھ سکتے۔
عبدالرحمان فدا نے تجویز دی کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کم از کم ماہانہ بنیاد پر کرے تاکہ صنعت اور کاروبار کو استحکام مل سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتوں کے باعث حکومت کو مالی دباؤ کا سامنا ہے تو وہ اپنی لیوی میں ردوبدل کرکے قیمتوں کو ایک ماہ تک مستحکم رکھے۔
صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم اور متعلقہ حکام صنعتکاروں کے تحفظات کا سنجیدگی سے نوٹس لیں گے تاکہ صنعتی سرگرمیاں، برآمدات اور روزگار مزید متاثر ہونے سے بچ سکیں۔
علاوہ ازیں سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایس ایم اے پی) کے بانی چیئرمین اسماعیل ستار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا یومیہ تعین کرنے کے حکومتی فیصلے کو صنعت، تجارت اور مجموعی معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف سے فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پہلے ہی بجلی، گیس اور بھاری ٹیکسوں کے باعث پیداواری لاگت صنعتکاروں کی برداشت سے باہر ہو چکی ہے، ایسے میں اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ تبدیل ہوتی رہیں تو کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی اور صنعتیں چلانا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔
اسماعیل ستار نے کہا کہ ایک طرف حکومت کاروبار اور صنعت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے دعوے کرتی ہے جبکہ دوسری جانب ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جو صنعتی شعبے کے لیے نئی مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کاروبار اور صنعت ہی بند ہو گئے تو حکومت کے لیے ٹیکس اور ریونیو کا حصول بھی مشکل ہو جائے گا کیونکہ ملکی معیشت کا انحصار صنعتی و تجارتی سرگرمیوں پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل نہ صرف صنعتکاروں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی مہنگائی کی نئی لہر کا باعث بنے گا جبکہ پہلے ہی عوام شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ حکومت کو ایسے فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے جو معیشت، صنعت اور عوام پر مزید بوجھ ڈالیں بلکہ ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں صنعتیں بلا رکاوٹ چل سکیں اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو۔
اسماعیل ستار نے نمک کی صنعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نمک قیمت میں کم مگر بھاری وزن کی حامل مصنوعات میں شامل ہے جس کے باعث اس کی نقل و حمل کی لاگت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ تبدیل ہوتی رہیں تو ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں مسلسل اتار چڑھاؤ کاروباری منصوبہ بندی کو متاثر کرے گا اور تاجروں کے لیے قیمتوں کا تعین اور سپلائی چین برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
انہوں نے تجویز دی کہ حکومت یومیہ قیمتوں کے بجائے ہفتہ وار بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے اور اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ نافذ کرنے سے قبل صنعت، تجارت اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایسے اقدامات سے معیشت اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔
پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ہفتہ وار سے روزانہ کی بنیاد پر منتقل کرنا ایک اہم معاشی اصلاحات ہے لیکن اسے مکمل شفافیت، واضح طور پر بیان کردہ لائحہ عمل اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پیٹرول پمپ مالکان کے ساتھ بامعنی مشاورت کے بغیر نافذ نہیں کیا جانا چاہیے۔






















Comments