حوثیوں کے خطرے کے باوجود امریکہ ایران مذاکرات کی امید پر تیل کی قیمتیں مستحکم
- برینٹ خام تیل کے سودے 18 سینٹس یا 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 88.28 ڈالر فی بیرل پر بند
عالمی مارکیٹ میں پیر کو تیل کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی امیدوں نے قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جب کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹوں کے باعث قیمتیں ابتدائی اضافے کے بعد واپس آئیں۔
برینٹ خام تیل 18 سینٹس اضافے کے ساتھ 88.28 ڈالر جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی 34 سینٹس کمی کے ساتھ 82.15 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق ثالثوں نے کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے جس سے عالمی مارکیٹ پر دباؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کی حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کی ٹریفک انتہائی کم ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تجارتی جہازوں کی بحالی تقریباً رک چکی ہے اور یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد انتہائی کم رہ گئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر محفوظ سمندری راستے پر دھماکوں کے بعد دو آئل ٹینکرز کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے سے تیل کی عالمی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ جنگ سے قبل دنیا کی 20 فیصد تیل کی سپلائی اسی راستے سے ہوتی تھی۔ مزید برآں ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کی تنصیبات پر حملہ کیا تو حوثی بحیرہ احمر کا راستہ بھی مکمل طور پر بند کر سکتے ہیں۔























Comments