امریکہ کے ایران پر نئے حملے مکمل، مسلسل دسویں رات بھی بمباری جاری
- ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملے جاری رکھنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے، واشنگٹن
امریکی فوج نے پیر کی شب اعلان کیا کہ اس نے ایران پر نئے حملوں کا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق ان حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، میزائل اور ڈرون لانچنگ مقامات، بحری فوجی صلاحیتوں اور فضائی دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ اعلان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے کیا۔
امریکی فوج کے مطابق ایران پر حملوں کا یہ تازہ مرحلہ تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہا، جبکہ یہ مسلسل دسویں رات تھی جب امریکہ نے ایران پر حملے کیے۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملے جاری رکھنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
بیان کے مطابق ایران کی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور ان خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔
جنگ کے دوران ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ساتھ ساتھ لبنان پر اسرائیلی کارروائیوں میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
اس جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ہفتے کے اختتام پر جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 17 ہو گئی۔
پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے بعد ایران سے انتقام لینے کا عزم ظاہر کیا۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ ایران میں حملوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے توانائی کے تنصیبات اور پلوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
1949 کے جنیوا کنونشنز کے تحت جنگ کے دوران ایسے مقامات پر حملے ممنوع ہیں جو شہری آبادی کی بنیادی ضروریات کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے اس نوعیت کے اہداف پر حملوں کی سابقہ دھمکیوں کے بعد امریکہ میں بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے رواں سال خبردار کیا تھا کہ ایسے حملے ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔























Comments