حکومت نے جی ایم ٹی این اور عالمی سکوک پروگراموں کے لیے عالمی بینکوں کے کنسورشیمز کا اعلان کر دیا
- یہ تقرری تین سال کی مدت کے لیے قابلِ عمل رہے گی، وزارت خزانہ
حکومت نے پاکستان کے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (جی ایم ٹی این) اور انٹرنیشنل سکوک پروگراموں کے لیے معروف بین الاقوامی بینکوں کے کنسورشیمز (اتحاد) مقرر کر دیے ہیں، جس سے بیرونی مالیاتی حکمتِ عملی کے تحت مستقبل میں عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
وزراتِ خزانہ کے مطابق اس وقت واشنگٹن ڈی سی میں موجود وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے منتخب شدہ بینکوں کے سینئر حکام کے ساتھ ایک ورچوئل اجلاس کی صدارت کی، جو مالیاتی اداروں کے ساتھ حکومت کی اس حکمتِ عملی پر مبنی شراکت داری کے آغاز کا مظہر ہے۔کھلے اور مسابقتی عمل کے ذریعے کی جانے والی یہ تعیناتیاں تین سال کی مدت کے لیے قابلِ عمل رہیں گی اور ان میں یوروابانڈز، انٹرنیشنل سکوک اور پاکستانی روپے کی قدر سے منسلک (امریکی ڈالر میں قابلِ ادائیگی) بانڈز شامل ہیں۔
یوروابانڈز کے کنسورشیم میں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، سٹی بینک، ڈوئچے بینک، امارات این بی ڈی کیپٹل اور ایم یو ایف جی سیکیورٹیز ایشیا لمیٹڈ شامل ہیں۔ بین الاقوامی سکوک کے کنسورشیم میں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، دبئی اسلامک بینک، سٹی بینک، امارات این بی ڈی کیپٹل اور المشرق بینک شامل ہیں، جبکہ پاکستانی روپے کے امریکی ڈالر میں قابلِ ادائیگی بانڈز کے کنسورشیم میں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، سٹی بینک اور ڈوئچے بینک شامل ہیں۔وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ کنسورشیم روایتی اور اسلامی دونوں قسم کے مالیاتی طریقوں کے ذریعے پاکستان کے عالمی جاری کردہ بانڈز کی معاونت کریں گے۔ حکومت ضروری قانونی اور ریگولیٹری کارروائی اور دستاویزات کی تکمیل کے بعد مالی ضروریات کے مطابق بین الاقوامی منڈیوں کا رخ کرے گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تقرریاں کسی ایک بار کے فنڈز جمع کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک مستحکم، متنوع اور دیرپا بیرونی مالیاتی فریم ورک قائم کرنے کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایم یو ایف جی سیکیورٹیز ایشیا لمیٹڈ اور المشرق بینک کی شمولیت سے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کا تعلق مزید مضبوط ہوا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک اشاریے، مالیاتی استحکام، مضبوط بیرونی معاشی تحفظات، ساختاتی اصلاحات میں پیش رفت اور کریڈٹ اسپریڈز میں کمی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا ہے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی دوبارہ واپسی کے امکانات کو تقویت دی ہے۔وزارت کے مطابق اس کا بنیادی مقصد ملک کے سرمایہ کاروں کے دائرہ کار کو وسیع کرنا، قرضوں کی لاگت کو کم سے کم رکھنا اور عالمی قرضوں کی منڈی میں پاکستان کی طویل المدتی موجودگی کو مضبوط بنانا ہے۔





















Comments