امریکہ ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں، خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی
- برینٹ خام تیل کے فیوچر 35 سینٹ یا 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 88.87 ڈالر فی بیرل پر آ گئے
عالمی منڈی میں منگل کے روز خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کار ایک جانب امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں اور ممکنہ جنگ بندی کی اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان تازہ حملوں اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کی دھمکی نے منڈی کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار رکھا۔
برینٹ خام تیل کے فیوچر 35 سینٹ یا 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 88.87 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل ستمبر کے سودوں کے لیے 82.47 ڈالر فی بیرل پر تقریباً مستحکم رہا۔ دونوں بینچ مارک گزشتہ روز ایک ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح سے نیچے ٹریڈ کر رہے تھے۔
ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کریں گے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے اور عالمی توانائی کی سپلائی و تجارتی راستوں کو خطرات لاحق ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کی دھمکی اہم پیش رفت ہے، کیونکہ اس سے دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندگان میں سے ایک کی سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران کو ثالث ممالک کی جانب سے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز موصول ہوئی ہے۔ اس کا مقصد 17 جون کو طے پانے والے عبوری معاہدے کو بچانا اور 28 فروری سے جاری جنگ کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
یہ سفارتی کوششیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ نے ایران کے مختلف شہروں پر تازہ حملے کیے، جبکہ ایران کی پاسداران انقلاب نے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران پر حملوں کے ایک اور مرحلے کے آغاز کا اعلان بھی کیا۔
ادھر رائٹرز کے ابتدائی سروے کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکہ میں خام تیل اور پٹرول کے ذخائر میں کمی جبکہ ڈیزل اور دیگر ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس پر بھی سرمایہ کاروں کی گہری نظر ہے۔























Comments