اسٹاک ایکسچینج میں شدید اتار چڑھاؤ : کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 1 فیصد کمی
- بینچ مارک انڈیکس 174,429.92 کی سطح پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں مسلسل فروخت کے دباؤ کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 1 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
مارکیٹ کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، جس سے بینچ مارک انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 176,255.64 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ تاہم جلد ہی فروخت کا دباؤ دوبارہ لوٹ آیا اور صبح سے دوپہر کے اوائل تک مارکیٹ میں رفتہ رفتہ کمی کا رجحان رہا۔دوپہر کے وقت فروخت کے دباؤ میں شدت آئی، جس نے انڈیکس کو دن کی کم ترین سطح 174,104.06 پوائنٹس تک گرا دیا۔اگرچہ سیشن کے آخری گھنٹوں میں سستے حصص کی خریداری (بارگین ہنٹنگ) دیکھنے میں آئی، جس سے انڈیکس کو کچھ بحالی کا موقع ملا لیکن یہ بحالی ابتدائی نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,703.64 پوائنٹس یا 0.97 فیصد کی کمی کے ساتھ 174,429.92 کی سطح پر بند ہوا۔
ایک اہم پیش رفت میں رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کی درخواست کی ہے جس کی منظوری کی صورت میں نقدی کے شدید بحران سے دوچار جنوبی ایشیائی معیشت کو بڑا سہارا مل سکتا ہے۔
یہ درخواست ایران جنگ سے متعلق مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کے بعد سامنے آئی جس سے سفارتی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا اور یہ توقعات بھی پیدا ہوئیں کہ اسلام آباد واشنگٹن اور دیگر شراکت داروں سے معاشی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔
منگل کو مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں ممکنہ کمی کی امید پر منتخب خریداری کی حوصلہ افزائی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوا، تاہم امریکہ اور ایران کے تعلقات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے۔
گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 205.83 پوائنٹس یا 0.12 فیصد اضافے سے 1,76,133.57 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ایشیائی مارکیٹوں میں کاروبار کے آغاز پر حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ سرمایہ کاروں نے امریکی مارکیٹوں میں آنے والی بحالی سے مثبت اشارے لیے اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو نظر انداز کیا، حالانکہ حوثی باغیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتے ہوئے تنازع میں ایک نیا محاذ کھولنے کی دھمکی دی ہے۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 1.2 فیصد بڑھ گیا جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 6 فیصد سے زائد اوپر گیا۔ ادھر جاپان کا نکی 225 انڈیکس 1.9 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ ہوا جبکہ ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں 0.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 91.55 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی وجہ یہ بنی کہ سعودی عرب سے ایشیا جانے والا خام تیل لے جانے والے دو آئل ٹینکرز نے منگل کو یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے حملوں کی دھمکیوں کے بعد بحیرۂ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کرلیا۔
دوسری جانب گزشتہ شب امریکی ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا جس سے مسلسل تین روزہ مندی کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اس بہتری کی بڑی وجہ سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص میں بحالی تھی کیونکہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ جولائی کے ابتدائی ہفتوں میں جنوبی کوریا کی سیمی کنڈکٹر برآمدات تقریباً تین گنا بڑھ گئیں جبکہ جون میں تائیوان کے برآمدی آرڈرز کا اشاریہ بھی مارکیٹ کے اندازوں سے بہتر رہا۔






















Comments