خیبر پختونخوا کے ارکانِ اسمبلی کی جانب سے ضم شدہ اضلاع اور ملاکنڈ میں ٹیکسوں کے نفاذ کی مخالفت پاکستان کی مالیاتی سیاست کے ایک جانے پہچانے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ مطالبہ ان علاقوں کے دفاع کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو تاریخی طور پر محرومی کا شکار رہے ہیں اور جنہوں نے تنازعات، نقل مکانی، کمزور بنیادی ڈھانچے اور طویل عرصے تک نظراندازی کا سامنا کیا ہے۔ یہ شکایات جائز ہیں، تاہم ان کی بنیاد پر اخذ کیا جانے والا نتیجہ درست نہیں۔
نمائندگی کے بغیر ٹیکس نہیں کا اصول ایک بالکل مختلف آئینی پس منظر میں سامنے آیا تھا۔ امریکی نوآبادیاتی باشندوں نے ایسے ٹیکسوں کی مخالفت کی تھی جو ایک ایسی پارلیمنٹ کی جانب سے عائد کیے گئے جس میں ان کی کوئی منتخب نمائندگی موجود نہیں تھی۔
مسئلہ خود ٹیکس عائد کرنے کا نہیں تھا بلکہ سیاسی رضامندی اور جواب دہی کے فقدان کا تھا۔
یہ دلیل سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع یا ملاکنڈ پر براہِ راست لاگو نہیں ہوتی۔ ان علاقوں کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی موجود ہے۔ ان کے منتخب نمائندے قانون سازی، بجٹ پر بحث اور عوامی وسائل کی تقسیم کے عمل میں حصہ لیتے ہیں۔ انہیں ٹیکس عائد کرنے والے اداروں سے خارج نہیں کیا گیا۔
اس کے برعکس وہ انہی اداروں کو دیگر علاقوں پر لاگو ذمہ داریوں سے مسلسل استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔
نمائندگی کا مطلب یہ حق ضرور دیتا ہے کہ ٹیکسوں پر سوال اٹھائے جائیں، ان کے اثرات کو چیلنج کیا جائے اور ان کے استعمال کے بارے میں جواب دہی کا مطالبہ کیا جائے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی علاقے کو مستقل طور پر ٹیکس نظام سے باہر رہنے کا حق حاصل ہو۔
یقیناً متاثرہ علاقوں میں اضافی سرکاری اخراجات کے لیے ایک مضبوط جواز موجود ہے۔ سابقہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے ساتھ انفرااسٹرکچر، انتظامی انضمام، پولیسنگ، انصاف، تعلیم اور صحت سے متعلق وعدے بھی کیے گئے تھے۔
ان میں سے بہت سے وعدوں پر عملدرآمد سست روی کا شکار رہا یا وہ مطلوبہ انداز میں پورے نہیں کیے جا سکے، لہٰذا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو فنڈز کی منتقلی میں تاخیر اور کمزور عملدرآمد پر جواب دہ بنانا ضروری ہے۔
تاہم ترقیاتی وعدوں کی تکمیل میں ناکامی کو محض اس بنیاد پر غیر معینہ مدت تک ٹیکس استثنیٰ کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے متعلق ضرور ہیں لیکن ایک دوسرے کا متبادل نہیں ہیں۔ ایک مسئلہ ریاست کی اس ذمہ داری سے متعلق ہے کہ وہ تاریخی محرومیوں کے ازالے کے لیے اقدامات کرے۔
جبکہ دوسرا مسئلہ ان شہریوں اور کاروباری اداروں کی ذمہ داری سے متعلق ہے جو معاشی طور پر ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں قومی آمدن میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔
صرف جغرافیائی بنیادوں پر دیا گیا ٹیکس استثنیٰ بھی ایک غیر مؤثر طریقہ کار ہے۔ کم آمدن رکھنے والے غریب گھرانے، جن کی قابلِ ٹیکس آمدن بہت کم یا بالکل نہیں ہوتی، انکم ٹیکس میں رعایتوں سے محدود فائدہ اٹھا پاتے ہیں۔
اصل فوائد زیادہ تر ایسے کاروباری اداروں، تاجروں اور اثاثہ رکھنے والے افراد کو حاصل ہوتے ہیں جن کی آمدن ٹیکس کے دائرے میں آتی ہے۔ عملی طور پر یہ پالیسی کمزور اور ضرورت مند شہریوں کے مقابلے میں تجارتی مفادات کا زیادہ مؤثر تحفظ کر سکتی ہے۔
اس سے ملحقہ علاقوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے درمیان عدم توازن بھی پیدا ہوتا ہے۔ وہ کاروبار جو معمول کے مطابق ٹیکس ادا کرتے ہیں، اس وقت نقصان میں آ جاتے ہیں جب ان کے حریف صرف انتظامی حدود کی بنیاد پر ٹیکس چھوٹ سے فائدہ اٹھا رہے ہوں۔
ایسے انتظامات ٹیکس سے بچاؤ کے مواقع پیدا کرتے ہیں، دستاویزی نظام کو کمزور کرتے ہیں اور اشیا یا لین دین کو ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں کے ذریعے منتقل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انصاف یا معاشی کارکردگی دونوں حوالوں سے ایسے اقدامات کا دفاع مشکل ہے۔
وسیع تر قومی تناظر میں یہ مؤقف مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ پاکستان کا مالیاتی نظام پہلے ہی محدود تعداد میں موجود دستاویزی ٹیکس دہندگان پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے جن میں تنخواہ دار افراد، رسمی کاروباری ادارے اور ٹیکس شدہ اشیا و خدمات کے صارفین شامل ہیں۔ ریٹیل، زراعت، رئیل اسٹیٹ اور غیر رسمی معیشت کے بڑے حصے اب بھی کم ٹیکس ادا کرتے ہیں یا مناسب طور پر دستاویزی شکل میں نہیں آئے۔
اس کا نتیجہ واضح ہے، چونکہ ٹیکس کا دائرہ محدود ہے، اس لیے حکومتیں بار بار انہی افراد اور اداروں پر بوجھ بڑھاتی ہیں جو پہلے ہی ٹیکس نظام میں شامل ہیں۔ نتیجتاً ٹیکس کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے، ود ہولڈنگ نظام وسیع کیا جاتا ہے اور بالواسطہ ٹیکسوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
اس طرح نظام مزید غیر منصفانہ ہوتا جاتا ہے جبکہ ٹیکس کے خلاف مزاحمت بھی بڑھتی ہے کیونکہ ٹیکس دہندگان کو نہ تو وسیع پیمانے پر شمولیت نظر آتی ہے اور نہ ہی مناسب عوامی سہولیات میسر آتی ہیں۔
یہ مالیاتی جال (فِسکل ٹریپ) کا مرکزی نکتہ ہے۔ پاکستان بہت کم لوگوں سے بہت کم ٹیکس اکٹھا کرتا ہے اور نتیجے میں ان خدمات کی فراہمی کے لیے جدوجہد کرتا ہے جو ٹیکس کے حوالے سے عوامی قبولیت کو مضبوط کر سکتی ہیں۔ ہر نئی چھوٹ اس جال کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔
یہی پاکستان کا بنیادی مالیاتی جال ہے۔ ملک بہت کم افراد اور اداروں سے بہت کم محصولات حاصل کرتا ہے اور اسی وجہ سے ایسی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرتا ہے جو عوام میں ٹیکس ادائیگی کے لیے قبولیت کو مضبوط بنا سکتی ہیں۔ ہر نئی ٹیکس چھوٹ اس مسئلے کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔
یہ مؤقف کہ ٹیکس وصولی سے پہلے سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں، خاص طور پر ان علاقوں میں قابلِ فہم محسوس ہوتا ہے جہاں ریاستی موجودگی تاریخی طور پر جابرانہ، غیر مستقل یا غیر مؤثر رہی ہو۔ تاہم اگر اسے ایک عمومی اصول کے طور پر اپنایا جائے تو اس کا اطلاق ناممکن ہو جاتا ہے۔
عوامی سہولیات کے لیے آمدن درکار ہوتی ہے۔ اگر ٹیکس وصولی کو اس وقت تک مؤخر کردیا جائے جب تک بنیادی ڈھانچہ، صحت، تعلیم اور سیکیورٹی ایک قابلِ قبول معیار تک نہ پہنچ جائیں تو ملک کے بیشتر علاقے یہی مؤقف اختیار کرسکتے ہیں۔
اس کے برعکس مؤقف بھی ناکافی ہے۔ ریاست محض اس وقت رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کی توقع نہیں کرسکتی جب وہ محدود شفافیت، کمزور خدمات اور معمولی جواب دہی فراہم کرے، لہٰذا ٹیکس اور عوامی سہولیات کے درمیان تعلق ایک کے بعد دوسرے مرحلے کا نہیں بلکہ دونوں کے بیک وقت آگے بڑھنے کا ہے۔
اس کے لیے مکمل استثنا یا اچانک واپسی کے بجائے ایک مالیاتی معاہدے (فسکل کمپیکٹ) کی ضرورت ہے۔
ضم شدہ اضلاع اور ملاکنڈ میں ٹیکسوں کا نفاذ شفاف اور مقررہ مدت پر مبنی مرحلہ وار منتقلی کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ چھوٹے کاروباروں اور کم آمدنی والے گھرانوں کو ٹیکس کی حد مقرر کرنے، آسان ٹیکس نظام اور مخصوص ریلیف کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے جبکہ بڑے تجارتی اداروں کو بتدریج معمول کے ٹیکس نظام میں شامل کیا جائے۔
اسی کے ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہر متاثرہ ضلع کے لیے زیرِ التوا ترقیاتی وعدوں، سالانہ مختص فنڈز اور عملدرآمد کی پیش رفت کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کرنی چاہئیں۔
ایسا طریقہ کار تاریخی محرومیوں کا اعتراف بھی کرے گا اور مستقل مالیاتی استثنیٰ کو ادارہ جاتی شکل دینے سے بھی گریز کرے گا۔
منتقلی کے اس عمل میں منتخب نمائندوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہیں اس بات کا مطالبہ کرنا چاہیے کہ وعدہ کیے گئے فنڈز جاری کیے جائیں، ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں اور ٹیکس اقدامات کو مقامی معاشی حالات کے مطابق ترتیب دیا جائے۔ انہیں یہ بھی یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے کہ ٹیکس کا بوجھ چھوٹے تاجروں اور عام گھرانوں پر غیر متناسب طور پر نہ پڑے۔
لیکن ٹیکس قبول کرنے سے غیر مشروط انکار ایک پائیدار پالیسی مؤقف نہیں ہو سکتا۔ اس سے نہ ملک کے محدود ٹیکس دائرے کا کوئی حل نکلتا ہے، نہ علاقائی پسماندگی کے خاتمے کا کوئی راستہ ملتا ہے اور نہ ہی عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے مالی وسائل پیدا کرنے کا کوئی قابلِ اعتماد طریقہ سامنے آتا ہے۔
پاکستان کا مالیاتی نظام اس وقت تک منصفانہ نہیں بن سکتا جب تک ہر منظم گروہ خصوصی استثنیٰ حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے۔ ایسی سودے بازی کا نتیجہ انصاف نہیں بلکہ ٹیکس کا بوجھ ان لوگوں پر منتقل ہونا ہے جو اس سے بچنے کی کم ترین صلاحیت رکھتے ہیں۔
ضم شدہ اضلاع اور ملاکنڈ زیادہ ترقی، مضبوط اداروں اور انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے حقدار ہیں۔ ان مطالبات پر سختی سے عمل کیا جانا چاہئے، تاہم یہ قومی ٹیکس فریم ورک سے باہر رہنے کا مستقل حق قائم نہیں کرتے۔
نمائندگی کے بغیر ٹیکس نہیں کا نعرہ سیاسی مساوات کے مطالبے کے طور پر سامنے آیا تھا۔ نمائندگی کو ان ذمہ داریوں سے استثنیٰ حاصل کرنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا جو خود سیاسی مساوات کا تقاضا کرتی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026






















Comments