امریکا اور روس یوکرین پر میامی میں مذاکرات کریں گے، وائٹ ہاؤس
- یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے برلن میں کیف اور ٹرمپ کے ایلچیوں کے درمیان دو روزہ ملاقاتوں کے دوران پیش رفت کا خیرمقدم کیا
امریکی اور روسی حکام اس ہفتے کے آخر میں میامی میں یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر نئی بات چیت کے لیے ملاقات کریں گے۔ یہ بات بدھ کو وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتائی۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے برلن میں کیف اور ٹرمپ کے ایلچیوں کے درمیان دو روزہ ملاقاتوں کے دوران پیش رفت کا خیرمقدم کیا، تاہم ساتھ ہی اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ ماسکو ایک “نئے سال کی جنگ” کی تیاری کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وفد میں صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر کی شرکت متوقع ہے، جبکہ روسی وفد میں صدر ولادیمیر پوتن کے اقتصادی ایلچی کیریل دمتریئیف شامل ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے تاہم امریکی اور روسی ٹیموں کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران روس کی تقریباً چار سالہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی سفارتکاری میں تیزی آئی ہے۔ اس سے قبل نومبر میں وِٹکوف اور کشنر نے کریملن میں صدر پوتن سے ملاقات کی تھی، جبکہ برلن میں یوکرینی قیادت اور یورپی رہنماؤں سے بھی بات چیت ہوئی۔
اس کے باوجود فریقین کے درمیان گہرے اختلافات برقرار ہیں۔ یوکرین اور امریکا کا کہنا ہے کہ مستقبل کی سلامتی ضمانتوں کے معاملے پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اس بات پر اختلاف موجود ہے کہ یوکرین کو کن علاقوں سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
دوسری جانب صدر پوتن نے بدھ کے روز کہا کہ ماسکو جنگ میں اپنے اہداف ہر صورت حاصل کرے گا، جن میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جنہیں روس اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ یہ بیان اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ امن کوششوں کے باوجود تنازع کے حل کی راہ اب بھی دشوار ہے۔
























Comments
Comments are closed.