ایران کے سپریم لیڈر 6 ماہ بعد بھی منظر عام سے غائب، قیادت پر سوالات اٹھنے لگے
- واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے الیکس واتانکا نے کہا کہ سوال اب یہ نہیں رہا کہ مجتبیٰ زندہ ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا ایران کے پاس ایک فعال سپریم لیڈر موجود ہے
ایران میں جنگ شروع ہونے والے فضائی حملوں کے 6 ماہ بعد بھی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایرانی عوام کے سامنے مکمل طور پر غائب ہیں، جس کے باعث ملک کی قیادت اور ان کے کردار سے متعلق سوالات میں اضافہ ہورہا ہے۔
ایرانی حکام اور دیگر اعلیٰ ذرائع کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای بدستور اقتدار میں ہیں اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر منظر عام سے دور رہتے ہوئے اپنی صحت یابی کے دوران پسِ پردہ امور چلا رہے ہیں۔ تاہم ان کی تقرری کے ایک ہفتے بعد سے اب تک ان کی کوئی تصویر، ویڈیو یا آڈیو پیغام جاری نہیں کیا گیا۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے الیکس واتانکا نے کہا کہ سوال اب یہ نہیں رہا کہ مجتبیٰ زندہ ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا ایران کے پاس ایک فعال سپریم لیڈر موجود ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی عوام کے سامنے ان کے واحد پیغامات چند تحریری بیانات کی صورت میں سامنے آئے ہیں جنہیں نیوز براڈکاسٹرز نے پڑھ کر سنایا۔ گزشتہ ماہ اپنے والد کی آخری رسومات کے پورے ہفتے کے دوران بھی وہ منظر عام پر نہیں آئے۔
اعلیٰ حکام کے مطابق ان کی غیر موجودگی کی وجہ قاتلانہ حملوں کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ اعلیٰ حکام سے باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتے، اہم رپورٹس وصول کرتے اور بڑے معاملات پر حتمی فیصلے کرتے ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان نے 10 اگست کو دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے مجتبیٰ خامنہ ای سے 7 گھنٹے طویل ملاقات کی۔
تاہم سخت گیر حامیوں میں بھی شکوک پیدا ہورہے ہیں۔ قم میں بسیج ملیشیا کے ایک رکن نے کہا کہ عوام کا اعتماد بڑھانے کے لیے انہیں اپنے رہنما کی آواز سننے یا ان کی موجودگی کی کوئی علامت دیکھنے کی ضرورت ہے۔
دریں اثنا، پاسداران انقلاب ایران کے طاقت کے ڈھانچے میں مرکزی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ ذرائع کے مطابق جنگ کے آغاز سے اس کا اثر و رسوخ بڑھا اور وہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے گرد تشکیل پانے والے نئے حکومتی نظام میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔
ایران کی معیشت جنگ کی لاگت اور تیل برآمدات کی طویل بندش کے باعث شدید دباؤ میں ہے، جس سے ریال کی قدر متاثر ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل غیر موجودگی خطرناک صورتحال پیدا کرسکتی ہے، کیونکہ مختلف دھڑے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں سپریم لیڈر دراصل کیا چاہتے ہیں۔
























Comments