BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-1.31%)
KSE100 Decreased By (-0.7%)
KSE30 Decreased By (-0.67%)
BAFL 56.50 Decreased By ▼ -0.37 (-0.65%)
BIPL 24.75 Decreased By ▼ -0.21 (-0.84%)
BOP 30.14 Decreased By ▼ -0.21 (-0.69%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.99 Decreased By ▼ -4.46 (-2.32%)
FABL 93.90 Decreased By ▼ -0.24 (-0.25%)
FCCL 52.15 Decreased By ▼ -0.64 (-1.21%)
FFL 14.50 Decreased By ▼ -0.22 (-1.49%)
GGL 19.19 Decreased By ▼ -0.37 (-1.89%)
HBL 303.50 Decreased By ▼ -2.60 (-0.85%)
HUBC 199.40 Decreased By ▼ -2.02 (-1%)
HUMNL 9.90 Decreased By ▼ -0.26 (-2.56%)
KEL 6.05 Decreased By ▼ -0.04 (-0.66%)
LOTCHEM 26.35 Decreased By ▼ -0.11 (-0.42%)
MLCF 91.30 Decreased By ▼ -1.86 (-2%)
OGDC 313.75 Decreased By ▼ -2.98 (-0.94%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.72 Increased By ▲ 0.04 (0.27%)
PIOC 240.45 Decreased By ▼ -2.76 (-1.13%)
PPL 221.70 Decreased By ▼ -5.21 (-2.3%)
PRL 91.32 Decreased By ▼ -1.70 (-1.83%)
SNGP 90.81 Decreased By ▼ -1.03 (-1.12%)
SSGC 23.29 Decreased By ▼ -0.52 (-2.18%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.70 Decreased By ▼ -0.27 (-2.08%)
TRG 55.90 Decreased By ▼ -0.66 (-1.17%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
مارکٹس

امریکی روزگار رپورٹ اور امن مذاکرات سے متعلق خدشات، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

  • برینٹ خام تیل کے فی بیرل نرخ میں 84 سینٹ، یا 1.02 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 83.33 ڈالر پر پہنچ گیا
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں نے ابتدائی کمی کا رخ تبدیل کرتے ہوئے امریکی حکومت کی جانب سے ملازمتوں میں کمی کی رپورٹ اور ایران و امریکا کے درمیان پانچ ماہ سے جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے مذاکرات سے متعلق خدشات کے باعث دوبارہ اضافہ کیا۔

صبح 10:28 بجے سی ڈی ٹی (15:28 جی ایم ٹی) تک برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 84 سینٹ، یا 1.02 فیصد بڑھ کر 83.33 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے نرخ میں 89 سینٹ، یا 1.15 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 78.18 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

جمعرات کو تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمتیں 3 ڈالر فی بیرل سے زیادہ اضافے پر بند ہوئی تھیں۔ اس کی وجہ ایران کی جانب سے ایک ایسے بل کا جائزہ لینا تھا جس کے تحت امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں پر آبنائے ہرمز میں داخلے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل فروری کے آخر تک دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی یومیہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔

رواں ہفتے کے آغاز میں تیل کی قیمتوں میں اس وقت کمی آئی تھی جب تنازع کے ممکنہ حل کی امید بڑھ گئی تھی، تاہم دونوں بینچ مارکس میں ہفتہ وار بنیاد پر 9 فیصد سے زائد کمی متوقع ہے۔

پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلین نے کہا، ’’جمعہ کو مارکیٹ کی تمام تر توجہ روزگار کی رپورٹ پر ہے۔‘‘

امریکی حکومت نے جمعہ کو بتایا کہ جولائی میں امریکی معیشت میں 23 ہزار ملازمتوں کی کمی ہوئی۔

فلین کے مطابق، ’’اس کا مطلب ہے کہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا امکان کم ہوگیا ہے۔‘‘

فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافہ صارفین کی قوتِ خرید کم کرتا ہے، کیونکہ معیشت بھر میں شرح سود بڑھنے سے صارفین کی جیب میں موجود رقم کا زیادہ حصہ اشیا خریدنے کے بجائے قرض دینے والے اداروں کو ادائیگی میں چلا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن اسٹیشنز جیسے مصنوعات فراہم کرنے والوں کے لیے رقم کم رہ جاتی ہے۔

تجزیہ کاروں نے یہ بھی کہا کہ رواں ہفتے ہونے والی پیش رفت سے عندیہ ملتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے کارگو کی مالیت کا 5 سے 7 فیصد فیس وصول کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب عمان تقریباً 3 فیصد فیس پر بات کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن کسی بھی قسم کی فیس کے حق میں نہیں۔

صنعت سے وابستہ چار ذرائع نے کہا کہ مجوزہ معاہدے پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا، کیونکہ امریکی پابندیاں اور کسی بھی ادائیگی سے متعلق سخت انشورنس شرائط اس میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

ایس ای بی ریسرچ کے بیارنے شیلڈروپ نے کہا، ’’ایران۔عمان معاہدے کی موجودہ شکل اور اس کے نتیجے میں ایران کو حاصل ہونے والا اختیار ایسی کوئی چیز نہیں جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی طور پر قبول کرسکیں۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو انہیں اندرونِ ملک شدید سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘

وانڈا انسائٹس کے بانی وندنا ہری نے کہا کہ ممکنہ معاہدے سے متعلق رواں ہفتے سامنے آنے والے اشاروں نے مارکیٹ کے رجحان میں اتار چڑھاؤ پیدا کیا ہے، تاہم مارکیٹ تاحال اس بارے میں لاعلم ہے کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے آخر کیا پیش رفت ضروری ہے۔

دریں اثنا، ایک اعلیٰ سعودی عہدیدار نے بتایا کہ سعودی عرب کو خلیجی ریاست کے شمال میں عراقی ملیشیاؤں اور جنوب میں یمن کے حوثیوں کی جانب سے جلد مربوط حملوں کا خدشہ ہے، جن کی نگرانی ایران کی اسلامی پاسدارانِ انقلاب کرے گی۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے عہدیدار نے جمعرات کی شب بتایا کہ سعودی عرب، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سمیت شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

یمن کے حوثیوں نے کہا ہے کہ انہوں نے جمعرات کو یمن کے مأرب اور حضرموت میں سعودی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

جمعہ کو مسلم ممالک کے ان اتحادیوں کو یکجا کیا گیا جو خطے میں بڑھتی ہوئی جنگ کے خدشے پر تشویش میں مبتلا ہیں، جبکہ اس تنازع کے نتیجے میں خلیجی تیل برآمد کرنے والے ممالک پر میزائل حملے جاری ہیں۔

ٹرمپ نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔

دریں اثنا، اعداد و شمار سے واقف چار ذرائع کے مطابق بحیرہ اسود میں ڈرون حملوں کے باعث جولائی میں کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (سی پی سی) کے تیل کی ترسیل میں پانچویں حصے تک کمی ہوئی، کیونکہ روس اور یوکرین کی جنگ کا دائرہ بڑھتے ہوئے قازقستان اور مغربی تیل کمپنیوں کی فروخت بھی متاثر ہوئی۔

Comments

200 حروف