ایران کی جانب سے حزب اللہ کی حمایت کے اعلان نے وسیع تر امن معاہدے کو مشکوک بنادیا
- عباس عراقچی نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ اُس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک لبنان میں جاری جنگ بھی اپنے اختتام کو نہیں پہنچ جاتی
ایران نے اپنے لبنانی اتحادی حزب اللہ کی حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلائے، جس سے امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع تر تنازع کے خاتمے کے لیے عبوری معاہدے کو درپیش پیچیدگیوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔
ایران نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کو واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کی شرط قرار دیا ہے، جس کا مقصد اب اپنے چوتھے ماہ میں داخل علاقائی جنگ کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت کی بحالی ہے۔
حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لڑائی کا تازہ دور مارچ کے آغاز میں اس وقت شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے۔ حزب اللہ کا کہنا تھا کہ اس کی کارروائیاں تہران کی حمایت میں کی جا رہی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کی شب لبنانی ٹی وی چینل المیادین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ جنگ اسی وقت ختم ہوگی جب لبنان میں بھی اس کا خاتمہ ہوگا۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’لبنان میں جنگ کے خاتمے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اسرائیلی افواج ان علاقوں سے واپس جائیں جن پر انہوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔‘‘
یہ بیانات حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کی جانب سے لبنان میں لڑائی روکنے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آئے۔ اس معاہدے میں اسرائیلی افواج کے انخلا کی کوئی شق شامل نہیں تھی اور نہ ہی حزب اللہ مذاکرات کا حصہ تھی۔
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور کہا ہے کہ اس کی افواج نہ تو لبنان سے واپس جائیں گی اور نہ ہی وہاں اپنی کارروائیاں روکیں گی۔
جنگ بندیوں کے باوجود خطے بھر میں جھڑپیں جاری
ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا کہ حزب اللہ نے ’’حالیہ جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور وہ ہمارا اتحادی ہے۔ اس لیے ہم حزب اللہ کی حمایت کرتے ہیں اور اس کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں پر مضبوطی سے قائم ہیں۔‘‘
نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر کے مطابق رضائی نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ لبنانی دارالحکومت بیروت پر دوبارہ حملے کی دھمکیوں پر عمل درآمد سے باز رہے۔
انہوں نے کہا، ’’آج ہم ایک بار پھر اس شریر حکومت کو خبردار کرتے ہیں کہ لبنان چھوڑ دے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ لبنان کسی بھی معاہدے اور کسی بھی جنگ بندی کا لازمی اور ناقابلِ جدا حصہ ہوگا۔‘‘
واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ لبنان کے حوالے سے پیش رفت ہو رہی ہے اور یہ ملک امن کا مستحق ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ’’یہ معاملہ بہت عرصے سے چل رہا ہے، آپ جانتے ہیں۔‘‘
لبنان کے ساتھ ساتھ غزہ، شمالی اسرائیل اور کویت کے رہائشی بھی اس ہفتے حملوں کی زد میں رہے، حالانکہ امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندیوں کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد مکمل جنگ بندی کے بجائے ’’زیادہ محدود انداز میں فائرنگ‘‘ کو یقینی بنانا ہے۔
بدھ کے روز خلیج میں ایرانی اور امریکی افواج کے درمیان حملوں کا تبادلہ ہوا، جو اپریل کے آغاز کے بعد سے شدید ترین جھڑپوں میں سے ایک تھا۔ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے پر لڑائی رک گئی تھی۔
جمعے کو ایک مبینہ ڈرون حملے کے بعد عمان کے مینا الفحل ٹرمینل پر دھماکے کے باعث تیل کی لوڈنگ عارضی طور پر معطل کر دی گئی، معاملے سے واقف دو ذرائع نے بتایا، تاہم بعد ازاں معمول کی سرگرمیاں بحال ہو گئیں۔
عبوری معاہدہ پیچیدہ معاملات کو بعد کے لیے چھوڑ دے گا
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری نقل و حمل بڑی حد تک روک دی۔
اس اہم آبی گزرگاہ سے تجارت اب اپنی سابقہ سطح کے ایک محدود حصے تک سمٹ چکی ہے، حالانکہ اس کے ذریعے ماضی میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل ہوتی تھی۔
اس تنازع نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے اور دیگر اشیا کی رسد کی زنجیروں (سپلائی چینز) کو بھی متاثر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے جمعے کو خبردار کیا کہ ایندھن اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات لاکھوں افراد کو بھوک کے مزید قریب دھکیل رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران ایک عبوری معاہدے کے حصول کے لیے بالواسطہ مذاکرات میں مصروف ہیں، جس کا مقصد جنگ کو روکنا ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر پیچیدہ معاملات کو آئندہ مذاکرات کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔
کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت تہران اربوں ڈالر کی تیل آمدنی تک رسائی، خام تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں سے استثنا، اپنی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے متعلق اثر و رسوخ کا خواہاں ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو کہہ چکے ہیں کہ ان کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، نے صحافیوں کو بتایا کہ واشنگٹن کو ایران سے افزودہ یورینیم نکالنے کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں۔
اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اگر ہم ایسا کرنا چاہیں تو میرا نہیں خیال کہ وہ ہمیں روک سکتے ہیں، لیکن اس کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’یہ دفن ہو چکا ہے۔‘‘
ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایرانی پارلیمان کے نائب اسپیکر حمید رضا حاجی بابائی نے جمعے کو کہا کہ یورینیم افزودگی ایران کا حق ہے، اور ٹرمپ یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ ایران کا ’’سب سے طاقتور ایٹمی بم‘‘ دراصل آبنائے ہرمز ہے۔
























Comments