BR100 Decreased By (-0.22%)
BR30 Decreased By (-0.55%)
KSE100 Decreased By (-0.16%)
KSE30 Decreased By (-0.14%)
BAFL 57.23 Increased By ▲ 0.36 (0.63%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.22 Decreased By ▼ -0.13 (-0.43%)
CNERGY 13.04 Decreased By ▼ -0.08 (-0.61%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 190.00 Decreased By ▼ -2.45 (-1.27%)
FABL 94.11 Decreased By ▼ -0.03 (-0.03%)
FCCL 52.61 Decreased By ▼ -0.18 (-0.34%)
FFL 14.59 Decreased By ▼ -0.13 (-0.88%)
GGL 19.25 Decreased By ▼ -0.31 (-1.58%)
HBL 306.40 Increased By ▲ 0.30 (0.1%)
HUBC 201.00 Decreased By ▼ -0.42 (-0.21%)
HUMNL 10.01 Decreased By ▼ -0.15 (-1.48%)
KEL 6.17 Increased By ▲ 0.08 (1.31%)
LOTCHEM 26.45 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
MLCF 92.81 Decreased By ▼ -0.35 (-0.38%)
OGDC 315.22 Decreased By ▼ -1.51 (-0.48%)
PAEL 35.15 Decreased By ▼ -0.48 (-1.35%)
PIBTL 14.74 Increased By ▲ 0.06 (0.41%)
PIOC 242.50 Decreased By ▼ -0.71 (-0.29%)
PPL 223.75 Decreased By ▼ -3.16 (-1.39%)
PRL 92.30 Decreased By ▼ -0.72 (-0.77%)
SNGP 91.60 Decreased By ▼ -0.24 (-0.26%)
SSGC 23.70 Decreased By ▼ -0.11 (-0.46%)
TELE 7.68 Decreased By ▼ -0.12 (-1.54%)
TPLP 12.70 Decreased By ▼ -0.27 (-2.08%)
TRG 56.42 Decreased By ▼ -0.14 (-0.25%)
UNITY 8.07 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
دنیا

مشرقِ وسطیٰ میں بڑی پیشرفت: اسرائیل، لبنان جنگ بندی پر متفق، ایران ڈیل کا امکان بڑھ گیا

  • کویت کے ہوائی اڈے پر فائرنگ نہیں کی، پاسداران انقلاب
شائع اپ ڈیٹ

ٹرمپ انتظامیہ نے بدھ کو بتایا کہ اسرائیل اور لبنان نے کشیدگی اور لڑائی کے خاتمے کے لیے جنگ بندی پر عملدرآمد کرنے پر اتفاق کرلیا ہے جسے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ وسیع تر معاہدے کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

تہران جس نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو جزوی طور پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کے خاتمے سے مشروط کر رکھا تھا، اس سے قبل کویت پر حملہ کر چکا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کے ائرپورٹس کو نقصان پہنچا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے جبکہ دوسری جانب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب حملے کیے تھے۔

واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی، ایران نواز حزب اللہ کی طرف سے مکمل جنگ بندی اور جنوبی لیتانی سیکٹر سے اس کے تمام جنگجوؤں (آپریٹوز) کے انخلا سے مشروط ہے۔

دونوں فریق گزشتہ ماہ جنگ بندی پر متفق ہوگئے تھے تاہم جھڑپیں جاری رہیں۔ اسرائیل نے مارچ میں لبنان پر حملہ کیا تھا تاکہ ایرانی حمایت یافتہ لبنانی جنگجو تنظیم حزب اللہ کا تعاقب کیا جاسکے جس نے تہران کی حمایت میں سرحد پار حملے کیے تھے۔

کویت اور آبنائے (ہرمز) میں ہونے والے یہ حملے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان پہلے سے ہی کمزور جنگ بندی کا امتحان لینے والا تازہ ترین واقعہ ہیں جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی یہ آبنائے بڑے پیمانے پر بند ہے۔

کویتی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے ڈرون اور میزائل حملے میں ہوائی اڈے کی تنصیبات اور سفارتی مشنز کو نقصان پہنچنے کے بعد کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازیں معطل کر دی گئیں، اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور 60 سے زائد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا کہ بعد ازاں کویت ائیرویز اور جزیرا ائیرویز نے حفاظتی اقدامات اٹھانے کے بعد اپنی پروازیں دوبارہ شروع کر دیں۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ایران کی ایلیٹ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ انہوں نے کویت کے ہوائی اڈے پر کوئی فائرنگ نہیں کی اور اس تباہی کا ذمہ دار امریکی انٹرسیپٹر (دفاعی) میزائلوں کو ٹھہرایا جو اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے تھے۔

امریکی فوج نے اس دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی ڈرونز نے جان بوجھ کر ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔

اس سے قبل، ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر، ایک امریکی فضائی اڈے اور پنایا نامی ایک بحری جہاز پر حملہ کیا ہے۔

تاہم امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ خطے میں داغے گئے ایرانی بیلسٹک میزائل اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔

امریکی سنٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی ایران میں دفاعی حملوں کا ایک نیا سلسلہ (راؤنڈ) شروع کیا ہے جس میں میزائل داغنے کے مقامات اور بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، اس کے علاوہ ایرانی حملوں کی کوششوں کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ قشم پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔

Comments

200 حروف