آبنائے ہرمز، عالمی معیشت کی 34 کلومیٹر طویل شہ رگ
- یہ تنگ راستہ خاموشی سے دنیا کی توانائی، تجارت اور استحکام کا غیر معمولی بڑا حصہ اپنے ذریعے منتقل کرتا ہے
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان 34 کلومیٹر چوڑا ایک تنگ سمندری راستہ ہے، جس میں ہر سمت میں صرف دو شپنگ لین موجود ہیں۔
اس میں بظاہر ایسی کوئی بات نہیں جو اسے عالمی معیشت کی بے چینی کے مرکز میں لے آئے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کیونکہ یہ تنگ راستہ خاموشی سے دنیا کی توانائی، تجارت اور استحکام کا غیر معمولی بڑا حصہ اپنے ذریعے منتقل کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کے حساس ترین اسٹریٹجک گزرگاہوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ یہ محض ایک چوک پوائنٹ نہیں بلکہ وہ واحد شریان ہے جو عالمی معیشت کو سانس لینے کے قابل رکھتی ہے۔
میں اپنی روزمرہ زندگی میں ان جہازوں کے لیے عالمی ری انشورنس مارکیٹس میں خطرات کی قیمت کا تعین کرتا ہوں جو اس راستے سے گزرتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں، مجھے بدترین ممکنہ حالات پر غور کرنے کا معاوضہ ملتا ہے—اگر دنیا کے اس ایک ایسے مقام پر کچھ غلط ہو جائے جہاں خلل برداشت نہیں کیا جا سکتا تو کیا ہوگا۔
جنگ سے پہلے ایک عام دن میں 120 سے زائد تجارتی جہاز اس تنگ راستے سے گزرتے تھے، جو 20 ملین بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات لے جا رہے ہوتے تھے۔ یہ دنیا میں 24 گھنٹوں میں استعمال ہونے والے کل تیل کا 20 فیصد حصہ، سمندری راستے سے ہونے والی عالمی تیل تجارت کا ایک چوتھائی، اور خام تیل کی عالمی تجارت کا ایک تہائی بنتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کی 20 فیصد ایل این جی، سمندری راستے سے جانے والی یوریا کھاد کا دو تہائی تک، میتھانول کا ایک تہائی، سلفر کا نصف اور امریکہ کی درآمد کردہ ایلومینیم کا تقریباً 21 فیصد بھی اسی راستے سے گزرتا ہے۔
28 فروری کے بعد جب امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے شروع ہوئے تو ایران نے عملاً اس آبنائے کو بند کر دیا۔ 21 تجارتی جہاز نشانہ بنے، بارودی سرنگیں بچھائی گئیں اور منتخب ٹول ٹیکس نافذ کیے گئے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ قطر نے عالمی ایل این جی سپلائی کا 20 فیصد ایک ہی رات میں روک دیا۔ یورپ میں گیس کی قیمتیں دگنی ہو گئیں۔
جنگی خطرات کی انشورنس 15 فیصد تک پہنچ گئی، جو اب بھی تقریباً 5 فیصد کے قریب ہے۔ اس کا ہر پیسہ آخرکار صارفین کو پیٹرول پمپ، سپر مارکیٹ اور فیکٹری کی سطح پر ادا کرنا پڑتا ہے۔
لیکن اصل نقصان زیادہ خاموش اور خطرناک ہے—عالمی غذائی تحفظ کے حوالے سے: کھاد۔ خلیجی ممالک عالمی یوریا تجارت کا تقریباً 21 فیصد اور امونیا کا 15 فیصد فراہم کرتے ہیں۔ جب ایل این جی کی سپلائی رکی تو کھاد کی پیداوار بھی رک گئی۔ قیمتیں 50 فیصد بڑھ گئیں۔ امریکی کسان مکئی کی بجائے سویا بین کی طرف جا رہے ہیں۔ انٹرنیشنل رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے خبردار کیا ہے کہ ایشیا کی اگلی فصل کو شپنگ بحران سے زیادہ کھاد کی کمی متاثر کر سکتی ہے۔
ایک دوست نے کہا کہ دنیا خود کو ڈھال لے گی۔ نہیں، اتنی جلدی نہیں۔
صرف سعودی عرب اس آبنائے سے گزرنے والے تیل کا 37.2 فیصد فراہم کرتا ہے۔ عراق 22.8 فیصد، یو اے ای 12.9 فیصد، ایران 10.6 فیصد اور کویت 10.1 فیصد دیتا ہے۔ یہ پانچ ممالک مجموعی طور پر 93.6 فیصد سپلائی فراہم کرتے ہیں۔ خریدار بھی محدود ہیں: چین 37.7 فیصد، بھارت 14.7 فیصد، جنوبی کوریا 12 فیصد اور جاپان 10.9 فیصد لیتے ہیں۔
پائپ لائنز بڑھانا؟ اس میں سال لگیں گے اور تب بھی صرف 7 سے 8 ملین بیرل یومیہ تک پہنچا جا سکے گا، جبکہ عام بہاؤ 20 ملین بیرل ہے۔ نئے ایل این جی ٹرمینلز؟ 5 سے 10 سال۔ کھاد کے کارخانے؟ کم از کم 3 سے 5 سال۔ اس دوران فصلیں متاثر ہوں گی، مہنگائی بڑھے گی، اور سب سے زیادہ نقصان غریب طبقے کو ہوگا۔
امریکہ چاہتا ہے کہ ایران نہ صرف جوہری پروگرام سے باہر نکلے بلکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول بھی چھوڑ دے۔ جبکہ تہران پابندیوں کے خاتمے اور ٹول ٹیکس وصول کرنے کے حق کا مطالبہ کر رہا ہے۔ دونوں فریق دراصل ایک ہی اثاثے پر مذاکرات کر رہے ہیں: دنیا کے اس اہم دروازے پر۔
پاکستان نے ان مذاکرات کی میزبانی کی، مگر اب خود ایل این جی کی دگنی قیمتوں اور لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ بھارت اپنی 15 فیصد تیل درآمدات اسی راستے سے کرتا ہے، جس کی لاگت براہ راست ڈیزل اور صنعت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
تہران اور واشنگٹن روزانہ 20 ملین بیرل تیل اور 112 ارب مکعب میٹر ایل این جی کے توازن کو آزمائش میں ڈال رہے ہیں۔ یہ آبنائے کبھی کسی ایک کے کنٹرول کے لیے نہیں بنی تھی، مگر کوئی نہ کوئی اسے کنٹرول کرنے کی کوشش ضرور کرے گا۔
اور باقی دنیا؟ ہم سب اسی نازک شریان کے ذریعے سانس لے رہے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ کوئی اسے کاٹ نہ دے۔























Comments