ریاض ایئرپورٹ کے قریب آگ اور دھوئیں کے بادل، حوثیوں کا سعودی دارالحکومت پر حملوں کا دعویٰ
- حوثیوں کے مطابق حملوں میں ریاض کے علاوہ بحیرہ احمر کے شہر ینبع میں سعودی آئل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا
یمن کے حوثیوں نے ہفتہ کو دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی دارالحکومت ریاض میں میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ اس سے چند گھنٹے قبل شہر کے مرکزی ہوائی اڈے کے قریب آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بڑے بادل دیکھے گئے تھے۔
حوثیوں کے مطابق حملوں میں ریاض کے علاوہ بحیرہ احمر کے شہر ینبع میں سعودی آئل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی یمن کے دارالحکومت صنعا میں ہونے والے حملے کے ردعمل میں کی گئی۔
سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف سرگرم فوجی اتحاد نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ہفتہ کی صبح یمن سے ریاض کی جانب داغا گیا ایک میزائل تباہ کردیا۔ اتحاد کے مطابق بش اور فرسان سمیت جنوب مغربی سعودی شہروں، مغربی شہر طائف اور ینبع میں شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں بھی ناکام بنادی گئیں۔
سعودی سول ڈیفنس نے رات گئے ریاض اور دارالحکومت کے مشرق میں واقع الخرج میں ممکنہ فضائی حملوں کے خطرے سے متعلق شہریوں کو موبائل فون پر الرٹس جاری کیے۔ ریاض کے علاقے العلیا میں رائٹرز کے صحافی نے الرٹ ختم ہونے سے قبل دھماکوں کی آوازیں سنیں۔
حوثیوں نے جولائی سے سعودی عرب کے خلاف حملے تیز کر رکھے ہیں، جن میں سعودی شہر، توانائی کا بنیادی ڈھانچہ اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی شامل ہیں۔ ان حملوں سے عالمی تیل کی ترسیل کو نئے خطرات لاحق ہوگئے ہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے دوران۔
دریں اثنا ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا ہے کہ حوثی حملوں کے باعث سعودی عرب کو فوجی معاونت کی ضرورت پڑسکتی ہے اور ترکیہ پاکستان سمیت سہ فریقی دفاعی معاہدے کے تحت مدد کیلئے تیار ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر حوثیوں کے مسلسل حملوں اور یمن میں فوجی کشیدگی کی شدید مذمت کی ہے۔
























Comments