کسی بھی تنازع میں پاکستان سعودی عرب کا دفاع کرے گا، خواجہ آصف
- حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف جارحیت میں کوئی شک نہیں، وزیر دفاع
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کسی بھی تنازع کی صورت میں پاکستان سعودی عرب کا دفاع کرے گا، انہوں نے یمن کے حوثی باغیوں سے متعلق ایک بار پھر پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اسلام آباد کے عزم کا اعادہ کیا۔
خواجہ آصف نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’ہم کسی بھی تنازع میں سعودی عرب کی مدد کے لیے موجود ہوں گے، خواہ خطرہ حوثیوں کی جانب سے ہو یا کسی ملک یا کسی بھی دوسرے گروہ کی طرف سے جو سعودی عرب کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔ ہم ان کے دفاع کے لیے موجود ہوں گے۔‘‘
ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان لڑائی شدت اختیار کرگئی ہے اور ریاض اس تنازع میں مزید فعال کردار ادا کررہا ہے۔
حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کر رکھا ہے اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف حملوں کے دعوے کرتے رہے ہیں۔
پاکستان نے حالیہ دنوں میں دوطرفہ اور کثیرالجہتی دفاعی معاہدوں کے تحت سعودی عرب کے ساتھ اپنے سکیورٹی وعدوں کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے۔
18 ستمبر کو انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے ’’کسی بھی حد تک‘‘ جائے گا، جبکہ انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اسلام آباد کے عزم کو ’’غیر مشروط‘‘ قرار دیا تھا۔
خواجہ آصف اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر صورتحال بگڑتی ہے تو پاکستان حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ ’’عملی اور سفارتی‘‘ طور پر کھڑا ہوگا۔
وزیر دفاع نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ اس میں ’’بالکل کوئی شک نہیں‘‘ کہ حوثی سعودی عرب کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے ایک معاہدے کا پابند ہے، اور مزید کہا کہ ’’ہمارے پاس جو بھی وسائل دستیاب ہیں، وہ سعودی عرب کے لیے بھی دستیاب ہوں گے۔‘‘
خواجہ آصف بظاہر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدوں کا حوالہ دے رہے تھے۔
دونوں ممالک نے ستمبر 2025 میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے (ایس ایم ڈی اے) پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
پاکستان اور سعودی عرب ترکیہ کے ساتھ مکہ دفاعی اتحاد کا بھی حصہ ہیں۔ 7 اگست کو دستخط کیے گئے اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان نے گزشتہ ہفتے ریاض میں ملاقات کی اور اتحاد کے تحت اپنے وعدوں کو ’’فوری طور پر عملی شکل دینے‘‘ اور مؤثر فوجی تعاون میں تبدیل کرنے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔
الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف نے حوثیوں کو ’’سعودی عرب کے دشمن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’سعودی عرب کا ہر دشمن پاکستان کا دشمن ہے۔‘‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران حوثیوں کو اپنا پراکسی تسلیم نہیں کرتا۔
خواجہ آصف نے کہا، ’’ان میں سے بعض پراکسی گروہ بے قابو ہوچکے ہیں۔ مجھے تاریخ میں جانے کی ضرورت نہیں، میں اس کی متعدد مثالیں دے سکتا ہوں،‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ممالک کی جانب سے تشکیل دیے گئے پراکسی گروہ اپنے الگ ایجنڈے تشکیل دے سکتے ہیں اور بالآخر ’’بے قابو‘‘ عناصر بن سکتے ہیں۔
























Comments