ایران کا امریکی پابندیوں کے باعث معیشت کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کیلئے کوششیں تیز کرنے کا فیصلہ
- امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کو 6 ماہ مکمل ہونے کے بعد جنگ تعطل کا شکار دکھائی دے رہی ہے
ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کے باعث معیشت کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے کوششیں تیز کرے گا، جبکہ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے کی صورت میں امریکا کو زیادہ تیز، بھاری اور تکلیف دہ جواب دیا جائے گا۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کو 6 ماہ مکمل ہونے کے بعد جنگ تعطل کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔ جون میں طے پانے والا ابتدائی جنگ بندی معاہدہ ختم ہوچکا ہے جبکہ امن عمل بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں بھی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
اگست کے بیشتر عرصے میں فوجی کارروائیوں میں وقفے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان جوابی حملے دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کی جانب سے 2 امریکی بحری جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد امریکی فورسز نے ہفتے کو 3 ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کو بہت دیر ہونے سے پہلے سمجھ لینا چاہیے کہ حالات بدل چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے مفادات اور سلامتی پر کسی بھی حملے کا زیادہ تیز، بھاری اور تکلیف دہ جواب دیا جائے گا۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ آئندہ چند روز میں آبنائے ہرمز کے باہر ایک محدود زون کا اعلان کیا جائے گا، جس میں خلیج کے بعض علاقے بھی شامل ہوں گے۔ نئے زون میں داخل ہونے والے کسی بھی جہاز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکی پابندیوں، تیل کی برآمدات کی ناکہ بندی اور پابندیوں سے بچنے کے راستوں کی روک تھام نے ملکی معیشت پر شدید دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ایران کے وزیر اقتصادیات علی مدنی زادہ نے کہا کہ حکومت معاشی دباؤ کا مقابلہ اصلاحات کے ذریعے کرے گی اور پابندیاں ایران کی پالیسی تبدیل نہیں کرسکتیں۔
ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے بتایا کہ جنگ سے قبل ملک کی 90 فیصد خام تیل برآمدات خارک جزیرے سے ہوتی تھیں۔ ان کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران خارک جزیرے کو تقریباً 550 مرتبہ نشانہ بنایا گیا، تاہم یہ مرکز اب بھی کام کررہا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے روزانہ 9 ملین بیرل سے زیادہ تیل کی ترسیل جاری ہے اور جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی یا اس سے زیادہ سپلائی برقرار ہے۔
























Comments