BR100 Decreased By (-0.6%)
BR30 Decreased By (-1.16%)
KSE100 Decreased By (-0.55%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 56.92 Increased By ▲ 0.05 (0.09%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.07 Decreased By ▼ -0.28 (-0.92%)
CNERGY 12.97 Decreased By ▼ -0.15 (-1.14%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.35 Decreased By ▼ -5.10 (-2.65%)
FABL 93.80 Decreased By ▼ -0.34 (-0.36%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.45 Decreased By ▼ -0.27 (-1.83%)
GGL 19.02 Decreased By ▼ -0.54 (-2.76%)
HBL 305.56 Decreased By ▼ -0.54 (-0.18%)
HUBC 200.00 Decreased By ▼ -1.42 (-0.7%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.25 Decreased By ▼ -0.21 (-0.79%)
MLCF 91.49 Decreased By ▼ -1.67 (-1.79%)
OGDC 314.50 Decreased By ▼ -2.23 (-0.7%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.66 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
PIOC 239.99 Decreased By ▼ -3.22 (-1.32%)
PPL 222.69 Decreased By ▼ -4.22 (-1.86%)
PRL 91.18 Decreased By ▼ -1.84 (-1.98%)
SNGP 90.70 Decreased By ▼ -1.14 (-1.24%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.64 Decreased By ▼ -0.16 (-2.05%)
TPLP 12.65 Decreased By ▼ -0.32 (-2.47%)
TRG 56.48 Decreased By ▼ -0.08 (-0.14%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

سینیٹر سلیم مانڈی والا کا کیمیکلز، ڈائز کے مسائل قائمہ کمیٹی کے ایجنڈے پر لانے کا اعلان

  • تاجر بجٹ کے وقت نہیں، پورا سال آوازاٹھائیں، چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے خزانہ
شائع اپ ڈیٹ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کراچی کی تاجر برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مسائل صرف بجٹ کے دنوں میں اٹھانے کے بجائے پورے سال حکومت اور پارلیمنٹ سے رابطے میں رہے تاکہ پالیسی سازی کے مرحلے پر بروقت ازالہ ممکن بنایا جاسکے۔

چیمبرز اور ٹریڈ ایسوسی ایشنز اکثر بجٹ سے ایک ہفتہ قبل یا بجٹ کے دوران اپنے مسائل لے کر آتی ہیں جبکہ اس وقت بجٹ کی بیشتر تجاویز اور فیصلے حتمی شکل اختیار کرچکے ہوتے ہیں اس لیے ان میں تبدیلیاں لانا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ای ایف ایس، 3 فیصد اضافی ٹیکس، کمرشل امپورٹرز اور صنعت کے درمیان ٹیکس سے متعلق مسائل پورے سال اٹھائے جائیں۔ ٹریڈ ایسوسی ایشنز کو بجٹ کا انتظار کرنے کے بجائے سال بھر متعلقہ وزارتوں، ایف بی آر اور پارلیمنٹ سے رابطے میں رہنا چاہیے۔

یہ بات انہوں نے مقامی ہوٹل میں پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے سالانہ عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

عشائیے میں چیئرمین پی سی ڈی ایم اے سلیم ولی محمد، وائس چیئرمین شارق فیروز، چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو قاضی حفظ الرحمان، صدر کراچی چیمبر ریحان حنیف، پی سی ایم اے چیئرمین ہارون علی خان، چوہدری نصیر، ناصرحیات مگوں، محمود سلام،ناصرفتح،رشید کھتری،شاہد وسیم،سلیم مکاتی،شاہد بشیر،فرید واؤڈا، دیگرممبران کے علاوہ ڈپٹی ہائی کمشنر بنگلہ دیش اور فیصل آباد سے وفد نے شرکت کی۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی خزانہ سلیم مانڈی والانے پی سی ڈی ایم اے کی جانب سے کیمیکلز اینڈ ڈائز سیکٹر کو درپیش ٹیکس، درآمدات، ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس)، ای انوائسنگ اور دیگر مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے پی سی ڈی ایم ممبران کو پارلیمانی سطح پر تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے سلیم ولی محمد کی جانب سے اجاگر کیے گئے مسائل پر یقین دلایا کہ ان معاملات کو دوبارہ قائمہ کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا اور ایف بی آر، وزارت خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو کمیٹی میں بلا کر مسائل پر بات کی جائے گی۔

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کمرشل امپورٹرز اور صنعتی سیکٹر کے مفادات ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے کیونکہ دونوں کا ایجنڈا مختلف ہے تاہم دونوں کے لیے مشترکہ بنیاد تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو نقصان نہ پہنچے۔

انہوں نے ای ایف ایس سے بعض شعبوں کو نکالنے کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شعبے کو برآمدات اور درآمدات کے تناسب یا دیگر پالیسی وجوہات کی بنیاد پر اسکیم سے نکالا گیا ہے تو اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا، تاجر برادری اپنے کیسز اور اعدادوشمار کے ساتھ معاملات پیش کرے تاکہ انہیں مناسب فورم پر اجاگر کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بجٹ بناتے وقت اپنے مالی اہداف اور آئی ایم ایف سے متعلق ذمہ داریوں کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔ اگر کسی ایک شعبے کو ریلیف دیا جاتا ہے تو بعض اوقات اس کا مالی بوجھ کسی دوسرے شعبے پر منتقل کرنا پڑتا ہے۔

قبل ازیں چیئرمین سلیم ولی محمد نے مہمان خصوصی کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ ای ایف ایس کے غلط استعمال کی روک تھام، ٹیکس عدم مساوات ختم کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ کیمیکل، ڈائز سیکٹر ٹیکسٹائل، لیدر اور فارماسیوٹیکل سمیت برآمدی صنعتوں کی سپلائی چین کا اہم حصہ ہے۔ای ایف ایس درآمدات میں 70 فیصد سے زائد اضافہ ہوا مگر برآمدات میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوا۔درآمدات کو حقیقی زرمبادلہ یا لیٹر آف کریڈٹ سے منسلک، 40 فیصد حد مقرر اور 3 سالہ کھپت و برآمدی ڈیٹا کی بنیاد پر سالانہ آڈٹ کیا جائے۔

انہوں نے3 فیصد اضافی سیلز ٹیکس ختم کرنے، کمرشل، صنعتی درآمد کنندگان کو یکساں مواقع اور ای انوائسنگ کے مسائل سینیٹ، وزارت خزانہ اور ایف بی آر سے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا مطالبہ کیا۔

Comments

200 حروف