دونوں ممالک کی جانب سے قائم کیے جانے والے تجارتی کونسل کے تحت ابتدائی اقدامات میں 30 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر باہمی ٹیرف میں کمی پر بات چیت شامل ہے۔
ژو رونگ جی 1994 میں انقلابی مالیاتی حکمتِ عملی کے معمار تھے۔ اس سے قبل مقامی حکومتیں ٹیکس وصول کرتی تھیں اور اس کا معمولی سا حصہ مرکز کو منتقل کرتی تھیں، جس کے باعث مرکزی حکومت وسائل کی کمی کا شکار رہتی تھی