حقیقت یہ ہے کہ انکم ٹیکس وصولیوں کا 75 سے 80 فیصد حصہ ودہولڈنگ ٹیکس پر مشتمل ہے، جو عملاً سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیا جاتا ہے۔ دیانت داری سے دیکھا جائے تو اس آمدن کو انکم ٹیکس کے بجائے سیلز ٹیکس میں شمار کیا جانا چاہیے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان بھی یہ نکتہ ایف بی آر کے سامنے اٹھا کر اس حوالے سے سفارشات دے چکے ہیں، مگر اب تک ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔
یہ ڈیوٹی پاکستان کسٹمز ٹیرف (پی سی ٹی) کے ہیڈنگ 8702، 8703 اور 8704 کے تحت آنے والی استعمال شدہ گاڑیوں پر لاگو ہوگی، بشرطیکہ متعلقہ شرائط پوری کی جائیں۔
غیرقانونی سیمنٹ سازی نہ صرف ٹیکس چوری کے ذریعے خزانے کو بھاری نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ماحولیاتی، معیار، حفاظت اور دیگر ریگولیٹری تقاضوں کو نظرانداز کرتی ہے