پاکستان کو مزید منصوبوں کی نہیں، بلکہ تزویراتی تسلسل، مؤثر عمل درآمد اور ایسے ادارے کی ضرورت ہے جو اگلے بحران سے بچنے کے بجائے ایسا معاشی نظام تشکیل دے جو اگلے بحران کو جنم ہی نہ لینے دے
پاکستان کو قرض لے کر موجودہ اخراجات پورے کرنے کی طویل عرصے سے جاری روایت ترک کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو جامع ٹیکس اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات خود وضع کرکے مؤثر انداز میں نافذ کرنا ہوں گی۔
14 برس قبل ہم نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس قوانین کی تشکیل کے عمل سے پارلیمان بتدریج غائب ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ غیاب اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ آئین کا یہ وعدہ کہ ٹیکس صرف باخبر اور سنجیدہ قانون سازی کے عمل کے ذریعے عائد کیے جائیں گے، رفتہ رفتہ ایک ایسے نظام میں بدل گیا ہے جہاں انتظامیہ کی تجاویز کو پارلیمان نہایت محدود جانچ پڑتال کے بعد رسمی منظوری دے دیتی ہے۔