14 برس قبل ہم نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس قوانین کی تشکیل کے عمل سے پارلیمان بتدریج غائب ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ غیاب اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ آئین کا یہ وعدہ کہ ٹیکس صرف باخبر اور سنجیدہ قانون سازی کے عمل کے ذریعے عائد کیے جائیں گے، رفتہ رفتہ ایک ایسے نظام میں بدل گیا ہے جہاں انتظامیہ کی تجاویز کو پارلیمان نہایت محدود جانچ پڑتال کے بعد رسمی منظوری دے دیتی ہے۔
کمیٹی کی ذمہ داریوں میں اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے نشاندہی کردہ خامیوں کا جائزہ لینا اور ٹیکس پالیسی آفس کو ان کے حل کے بارے میں مشاورت فراہم کرنا شامل ہے
مذاکرات میں شامل ایک ذریعے نے کہا، ’’حکومت بجٹ کے اعلان کے بعد آخری وقت میں تبدیلیوں سے بچنا چاہتی ہے۔ اہم مالیاتی اعداد و شمار پر آئی ایم ایف کا اعتماد اور اتفاقِ رائے حاصل کرنا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔‘‘
حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کھانے کے تیل، ڈیری مصنوعات، انفنٹ نیوٹریشن اور فریزڈ فوڈز جیسی بنیادی اشیا کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تھرڈ شیڈول میں شامل کیا جائے