امریکا ایران مذاکرات پر غیر یقینی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- برینٹ خام تیل کے فرنٹ منتھ فیوچرز 62 سینٹ یا 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 84.39 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو معمولی اضافہ دیکھا گیا، ایک روز قبل نمایاں کمی کے بعد سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کا دوبارہ جائزہ لیا۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید حملے مؤخر کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم سفارتی پیش رفت نہ ہونے کے باعث منڈی میں بے یقینی برقرار ہے۔
برینٹ خام تیل کے فرنٹ منتھ فیوچرز 62 سینٹ یا 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 84.39 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 61 سینٹ یا 0.7 فیصد بڑھ کر 80.95 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ اس سے قبل پیر کے روز برینٹ میں 7 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی میں 5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
پیر کو قیمتوں میں اس وقت کمی آئی جب صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف مزید حملے فی الحال روک رہے ہیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کا انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ نہ کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں اور نہ ہی کسی ملاقات کا شیڈول طے ہے۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق ٹرمپ کے مؤقف سے تیل کی قیمتوں پر دباؤ تو کم ہوا ہے، لیکن صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے۔ ان کے بقول اگر دوبارہ میزائل حملے شروع ہوئے یا آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تو قیمتیں تیزی سے دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے اختلافات بھی برقرار ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ جون میں ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو آبی گزرگاہ کھولنا تھی، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ معاہدے میں اس کی خودمختاری برقرار رکھی گئی ہے۔
بارکلیز کے مطابق 31 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز سے خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی یومیہ خالص برآمدات بڑھ کر 4.2 ملین بیرل ہو گئیں، جو اس سے پہلے ہفتے 3.2 ملین بیرل یومیہ تھیں۔
ادھر بحیرہ احمر میں سکیورٹی خدشات بھی برقرار ہیں۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق سعودی پرچم بردار چھ سپر ٹینکروں نے خلیج عدن سے اپنا راستہ تبدیل کرکے جنوبی افریقہ کا رخ کیا، جبکہ دو سعودی آئل ٹینکر باب المندب سے گزرے۔ برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی اطلاع دی ہے کہ عمان کے قریب ایک مال بردار جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس سے عالمی توانائی سپلائی کے لیے دونوں اہم بحری گزرگاہوں پر خطرات بدستور برقرار ہیں۔























Comments