مارکو روبیو کا بحرین کا دورہ، ایران معاہدے پر خلیجی حمایت حاصل کرنے کی کوشش
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو جمعرات کو بحرین کے حکام سے ملاقات کریں گے، یہ ان کے مشرقِ وسطیٰ کے دورے کا آخری مرحلہ ہے، جس کا مقصد ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کے ساتھ ابتدائی امن معاہدے کو خلیجی عرب اتحادیوں کے سامنے پیش کرنا ہے جو اس پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔
مارکو روبیو نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا مشن نہایت حساس ہے، کیونکہ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کو دی جانے والی ممکنہ رعایتیں خطے میں طاقت کے توازن اور تیل کی ترسیل کے نظام کو تبدیل کر سکتی ہیں۔
وہ بدھ کی رات بحرین کے دارالحکومت منامہ پہنچے، جہاں امریکی بحریہ کا ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر موجود ہے۔ اپنے دورے کے دوران وہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں سعودی عرب، قطر، عمان، متحدہ عرب امارات اور کویت شامل ہیں۔
یہ تین روزہ دورہ خلیجی خطے کا پہلا اعلیٰ سطح سفارتی مشن ہے جو گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے فریم ورک معاہدے کے بعد کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل متحدہ عرب امارات اور کویت کے دوروں میں مارکو روبیو نے یقین دہانی کرائی کہ مجوزہ معاہدہ ایران کے حق میں حد سے زیادہ نہیں ہوگا، کیونکہ ایران نے جنگ کے دوران کئی خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا تھا۔
انہوں نے کویت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی کوئی بات قبول نہیں کرے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے لامحدود نیوکلیئر معائنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم تہران نے اس دعوے کی تردید کی ہے، جس سے امن معاہدے کی پائیداری پر سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
دونوں فریقین نے مذاکرات کے مالی پہلوؤں، آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور لبنان میں جاری تنازع کے بارے میں بھی مختلف مؤقف اپنایا ہے۔
خلیج تعاون کونسل کے تمام چھ ممالک امریکا کے اہم اتحادی ہیں اور جنگ کے دوران انہوں نے واشنگٹن کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کی۔ یہ ممالک ایران کے حملوں سے بھی متاثر ہوئے۔
ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کا امریکا کے ساتھ سیکیورٹی تعلق ازسرنو تشکیل پانے کی صورت میں خطے میں امریکی عسکری حکمتِ عملی پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔




















Comments