BR100 Decreased By (-0.23%)
BR30 Decreased By (-0.01%)
KSE100 Decreased By (-0.19%)
KSE30 Decreased By (-0.24%)
BAFL 59.02 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 27.17 Decreased By ▼ -0.09 (-0.33%)
BOP 36.46 Increased By ▲ 0.46 (1.28%)
CNERGY 11.94 Increased By ▲ 0.69 (6.13%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.12 (0.66%)
DGKC 218.03 Decreased By ▼ -2.16 (-0.98%)
FABL 100.40 Decreased By ▼ -0.15 (-0.15%)
FCCL 57.36 Increased By ▲ 0.48 (0.84%)
FFL 16.58 Increased By ▲ 0.07 (0.42%)
GGL 24.62 Increased By ▲ 0.72 (3.01%)
HBL 324.62 Decreased By ▼ -0.98 (-0.3%)
HUBC 225.64 Increased By ▲ 2.06 (0.92%)
HUMNL 10.79 Increased By ▲ 0.04 (0.37%)
KEL 7.32 Decreased By ▼ -0.10 (-1.35%)
LOTCHEM 27.14 Decreased By ▼ -0.06 (-0.22%)
MLCF 102.07 Decreased By ▼ -1.02 (-0.99%)
OGDC 319.19 Increased By ▲ 0.70 (0.22%)
PAEL 43.88 Decreased By ▼ -0.50 (-1.13%)
PIBTL 16.84 Decreased By ▼ -0.06 (-0.36%)
PIOC 274.84 Decreased By ▼ -1.02 (-0.37%)
PPL 221.55 Decreased By ▼ -0.93 (-0.42%)
PRL 63.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.09%)
SNGP 103.79 Decreased By ▼ -1.12 (-1.07%)
SSGC 27.28 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
TELE 8.62 Decreased By ▼ -0.19 (-2.16%)
TPLP 14.98 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
TRG 63.29 Increased By ▲ 0.92 (1.48%)
UNITY 11.51 Decreased By ▼ -0.39 (-3.28%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)
دنیا

ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسا ہے، ترک وزیر خارجہ

  • معاہدے کا مقصد ایران یا کسی اور ملک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ رکن ممالک کی مشترکہ سلامتی کو یقینی بنانا ہے، ہاکان فیدان
شائع اپ ڈیٹ

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسے باہمی دفاعی معاہدے کی نوعیت رکھتا ہے، تاہم اس کا مقصد ایران یا کسی اور ملک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ رکن ممالک کی مشترکہ سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے ہاکان فیدان نے کہا کہ اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تاہم کسی بھی ممکنہ ردعمل کی نوعیت، حد اور طریقہ کار کا فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک کسی رکن ملک پر حملہ نہیں ہوتا، کسی بھی ملک کو خطرہ تصور نہیں کیا جائے گا۔

جمعے کے روز ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع کو یقینی بنانا ہے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے میزائل حملوں نے خلیجی ممالک کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

ہاکان فیدان نے بتایا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششیں گزشتہ دو سال اور آٹھ ماہ سے جاری تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کے تحت نیٹو کی طرز پر وزرائے دفاع و خارجہ کی ایک کمیٹی قائم کی جائے گی، جبکہ اس کا جنرل سیکریٹریٹ سعودی عرب میں ہوگا۔ اتحاد کے عملی امور کا تعین کمیٹی کے پہلے اجلاس میں کیا جائے گا۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر رجب طیب اردوان کی خواہش ہے کہ یہ اتحاد صرف تین ممالک تک محدود نہ رہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض تکنیکی معاملات طے ہونے کے بعد مصر بھی اس معاہدے میں شامل ہونے کا ممکنہ امیدوار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں ترکیہ، پاکستان، سعودی عرب اور مصر نے خطے کے مسائل، خصوصاً ایران سے متعلق صورتحال پر مشاورت کے لیے آر فور گروپ تشکیل دیا ہے۔ ہاکان فیدان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں سے جہاز رانی کے تحفظ کے لیے قائم بین الاقوامی اتحاد میں ترکیہ کو بھی شامل ہونا چاہیے کیونکہ محفوظ بحری تجارت انقرہ کے مفادات سے براہِ راست وابستہ ہے۔

Comments

200 حروف