پی ٹی اے نے ای سم کی نئی قیمتوں اور منتقلی کی پالیسی کا اعلان کردیا، وسط اگست سے اطلاق
- پی ٹی اے نے ای سم کے اجرا کی زیادہ سے زیادہ ابتدائی فیس 1,500 روپے مقرر کردی
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) سے مشاورت کے بعد ای سم سروسز سے متعلق چارجز کو معقول بناتے ہوئے ای سم کے ابتدائی اجرا کی زیادہ سے زیادہ فیس 1,500 روپے مقرر کردی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت صارفین اپنی ای سم کو ہم آہنگ موبائل فونز کے درمیان 10 مرتبہ تک مفت منتقل کرسکیں گے، جبکہ نظرثانی شدہ پالیسی کا اطلاق اگست 2026 کے وسط تک کردیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایک پارلیمانی کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں سامنے آئی ہے، جس نے ٹیلی کام ریگولیٹر کو صارف دوست ای سم منتقلی کی نظرثانی شدہ پالیسی حتمی شکل دینے کی ہدایت کی تھی، جس کا مقصد غیر ضروری طور پر کسٹمر سروس سینٹرز کے چکر لگانے کی ضرورت کم کرنا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق موجودہ طریقہ کار کے تحت بھی ایک ای سم کو اصل خریداری اور ایکٹیویشن کے وقت جاری کیے گئے اسی کیو آر کوڈ کے ذریعے ایک موبائل فون سے دوسرے فون میں مخصوص تعداد میں منتقل کیا جاسکتا ہے، جس پر کوئی اضافی فیس عائد نہیں ہوتی۔
تاہم سی ایم اوز سے مشاورت کے بعد ریگولیٹر نے اب چارجز کے ڈھانچے کو باضابطہ طور پر معقول بناتے ہوئے ای سم کے ابتدائی اجرا کی زیادہ سے زیادہ فیس 1,500 روپے کردی ہے، جبکہ صارفین کو ای سم کو 10 ڈیوائسز تک مفت منتقل کرنے کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ نظرثانی شدہ فریم ورک رواں ماہ کے وسط تک نافذ العمل ہوجائے گا۔
پارلیمانی کمیٹی نے پی ٹی اے کو یہ ہدایت بھی کی تھی کہ وہ ایک محفوظ ڈیجیٹل طریقہ کار وضع کرے، جس کے ذریعے صارفین کو کسٹمر سروس سینٹرز کا رخ کیے بغیر ہم آہنگ ڈیوائسز کے درمیان ای سم منتقل کرنے کی سہولت حاصل ہو، جبکہ سکیورٹی کے مضبوط معیارات بھی یقینی بنائے جائیں۔
علاوہ ازیں، پی ٹی اے نے کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ وہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) اور سیلولر آپریٹرز کے ساتھ مل کر صارفین کی تصدیق کا ملٹی فیکٹر نظام متعارف کرانے پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد سم کے اجرا اور ملکیت کی تصدیق کے سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
ریگولیٹر کے مطابق اس حوالے سے اس وقت دو تجاویز زیر غور ہیں۔
پہلی تجویز کے تحت نادرا پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے سم کے اجرا کی سہولت فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔
توقع ہے کہ اس اقدام سے اہل صارفین کو دور بیٹھے اپنی شناخت کی تصدیق مکمل کرنے کی سہولت ملے گی اور روایتی بائیومیٹرک تصدیق کے لیے ذاتی طور پر حاضر ہونے کی ضرورت کم ہوجائے گی۔
دوسری تجویز میں سیلولر آپریٹرز کی موبائل ایپس کے ذریعے سیلف سروس بائیومیٹرک تصدیق متعارف کرانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت صارفین سم کے اجرا اور متعلقہ خدمات کے لیے آپریٹرز کی ایپس کے ذریعے نادرا کے ڈیٹا بیس سے اپنی شناخت کی تصدیق کرسکیں گے۔
پی ٹی اے نے بتایا کہ دونوں اقدامات کے تکنیکی اور عملی فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے لیے نادرا اور سی ایم اوز کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔
کمیٹی نے ریگولیٹر کو خصوصی طور پر ہدایت کی تھی کہ نئے تصدیقی نظام میں چہرے کی شناخت اور آنکھ کی پتلی (آئرس) کی تصدیق کی ٹیکنالوجیز شامل کی جائیں، جبکہ بزرگ شہریوں، معذور افراد اور ایسے دیگر صارفین کے لیے بھی سہولت فراہم کی جائے جنہیں روایتی بائیومیٹرک تصدیق میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

























Comments