BR100 Increased By (0.21%)
BR30 Increased By (0.98%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Decreased By (-0.15%)
BAFL 61.24 Increased By ▲ 0.26 (0.43%)
BIPL 27.37 Decreased By ▼ -0.24 (-0.87%)
BOP 36.12 Decreased By ▼ -0.26 (-0.71%)
CNERGY 8.50 Increased By ▲ 0.17 (2.04%)
DFML 21.63 Increased By ▲ 1.97 (10.02%)
DGKC 219.77 Increased By ▲ 2.58 (1.19%)
FABL 96.61 Decreased By ▼ -1.03 (-1.05%)
FCCL 58.47 Increased By ▲ 0.96 (1.67%)
FFL 18.30 Increased By ▲ 0.24 (1.33%)
GGL 23.15 Increased By ▲ 0.03 (0.13%)
HBL 303.34 Increased By ▲ 0.84 (0.28%)
HUBC 226.35 Decreased By ▼ -3.76 (-1.63%)
HUMNL 11.55 Decreased By ▼ -0.12 (-1.03%)
KEL 8.36 Increased By ▲ 0.22 (2.7%)
LOTCHEM 28.36 Decreased By ▼ -0.16 (-0.56%)
MLCF 98.75 Increased By ▲ 1.08 (1.11%)
OGDC 334.04 Increased By ▲ 6.40 (1.95%)
PAEL 42.95 Decreased By ▼ -0.61 (-1.4%)
PIBTL 18.43 Increased By ▲ 0.08 (0.44%)
PIOC 285.02 Decreased By ▼ -2.75 (-0.96%)
PPL 245.58 Increased By ▲ 6.69 (2.8%)
PRL 37.18 Increased By ▲ 0.91 (2.51%)
SNGP 115.16 Increased By ▲ 2.22 (1.97%)
SSGC 31.41 Increased By ▲ 0.98 (3.22%)
TELE 9.54 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 11.17 Decreased By ▼ -0.10 (-0.89%)
TRG 69.96 Decreased By ▼ -0.46 (-0.65%)
UNITY 11.56 Decreased By ▼ -0.03 (-0.26%)
WTL 1.29 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

ایران جنگ سے عالمی معیشت سست، ٹرمپ کیساتھ ٹکراؤ سے بچنے کے لیے جی سیون کا نرم رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ

  • امریکہ اور ایران نے گزشتہ ویک اینڈ پر اعلان کیا کہ وہ لڑائی روکنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے معاہدے پر پہنچ گئے ہیں
شائع June 17, 2026 اپ ڈیٹ June 17, 2026 02:57pm

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں 30 فیصد اضافے نے عالمی ترقی کی رفتار کو سست کر دیا ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں کے رہنماؤں کی جانب سے بدھ کو فرانس میں معاشی صورتحال پر ہونے والے اجلاس کے دوران، جنگ کے باعث پیدا ہونے والی اس سستی کا ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہرائے جانے کا امکان نہیں ہے۔

جی 7 کے رہنما، جو پہلے ہی امریکی ٹیرف (محصولات)، نیٹو اور گرین لینڈ کے تنازعات کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ سے قبل مشاورت نہ کرنے پر ٹرمپ کے فیصلے پر عوامی سطح پر تنقید کر چکے ہیں اور انہوں نے اس کے ممکنہ معاشی نقصانات کے بارے میں بھی خبردار کیا تھا۔

امریکہ اور ایران نے گزشتہ اختتامِ ہفتہ (ویک اینڈ) پر اعلان کیا کہ وہ لڑائی روکنے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاہدے پر پہنچ گئے ہیں، جس سے عالمی منڈیوں میں امید کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے لیکن عالمی معیشت پر اس جنگ کے اثرات پہلے ہی نمایاں ہیں، اس نے توانائی کی قیمتوں کو تیزی سے بڑھا دیا ہے، مہنگائی کے دباؤ کو دوبارہ ہوا دی ہے اور ترقی پذیر ممالک میں خوراک کی سپلائی کے بڑے بحران کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

مرکزی بینکرز نے اپنی پالیسیوں کو سخت کر دیا ہے، جس کے تحت یورپی سنٹرل بینک اور بینک آف جاپان نے گزشتہ ہفتے سود کی شرحوں میں اضافہ کیا، تاکہ مہنگائی کے شدید اثرات کو روکا جا سکے۔

برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے کہا ہے کہ وہ توانائی کے بلوں پر اس تنازع کے اثرات سے تنگ“ آ چکے ہیں جبکہ اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے جنگ کے معاشی اور سماجی نتائج سے خبردار کیا ہے۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں نے اسٹارمر، جرمن چانسلر فریڈرک میرز اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی عوامی مقبولیت کے گراف کو بھی متاثر کیا ہے۔

تاہم رہنماؤں نے اس ہفتے کے جی 7 اجلاس کے دوران جنگ کے معاشی اثرات پر بحث کو کافی حد تک ایک طرف رکھ دیا ہے، کیونکہ وہ ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی قسم کے ٹکراؤ سے بچنا چاہتے ہیں، جن کا تعاون انہیں یوکرین اور نیٹو سے لے کر تجارت جیسے مسائل تک درکار ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جی 7 جو 1973 کے تیل کے بحران کے بعد معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے وجود میں آیا تھا ، اب دنیا کے سب سے بڑے معاشی چیلنج سے آنکھیں چرا رہا ہے، جس سے اس کی اپنی افادیت کمزور ہو سکتی ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کے چیف اکانومسٹ مارسیلو ایسٹیواؤ نے کہا کہ امریکی پالیسی سازی عالمی معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ آپ کے پاس سب سے بڑی معیشت والا ملک ہے جو جی 7 کے باہمی تعاون کے ایجنڈے کو سبوتاژ کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جی 7 کے رہنماؤں کو ایک ایسے وقت میں اس گروپ کی اہمیت کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے جب ابھرتی ہوئی معیشتیں جو اس گروپ کا حصہ نہیں ہیں عالمی معیشت میں بڑا حصہ رکھتی ہیں۔

تنازعات سے پاک ایجنڈا؟

فرانس، جو اس سال جی 7 کے صدر کی حیثیت سے تنازعات سے بچنے کا خواہشمند ہے نے کسی بھی وسیع یا حتمی مشترکہ اعلامیہ (اعلامیہ) جاری کرنے کی کوشش کو پہلے ہی مسترد کر دیا ہے اور اس کے بجائے اس کی توجہ عالمی عدم توازن، اہم معدنیات کی سپلائی چین اور ترقیاتی امداد کو سرمایہ کاری پر مبنی پروگراموں کی طرف منتقل کرنے جیسے محدود موضوعات پر مرکوز ہے لیکن ٹرمپ کے فرانس روانگی سے ٹھیک پہلے امریکی اور ایرانی حکام کے مابین ہونے والے عبوری معاہدے کے بعد کسی بڑے ٹکراؤ کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ عالمی معیشت کے لیے اچھی خبر ہے، لیکن انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ معاہدہ ناکام ہوا اور تنازع دوبارہ بڑھا تو بڑے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ تجارتی بہاؤ کو معمول پر لانے میں مہینوں بلکہ اس سے بھی زیادہ وقت لگے گا، جبکہ ایندھن کے شعبے کے تجزیہ کاروں اور بحری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بحری جہازوں کے ایندھن (بنکر فیول) کی سپلائی کو معمول پر آنے میں ایک سال لگ سکتا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا جنہوں نے فرانس میں جی 7 رہنماؤں کے ساتھ شرکت کی نے پیر کو معاہدے کے بعد ایک بلاگ پوسٹ میں زیادہ مثبت نقطہ نظر کا اظہار کیا اور دو ماہ قبل دی گئی اپنی سنگین انتباہات کو واپس لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت اب تک سنبھلی ہوئی ہے اور مختلف خطوں میں نمایاں اثرات کے باوجود فی الحال عالمی کساد بازاری کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ آئی ایم ایف جس کا سب سے بڑا شیئر ہولڈر امریکہ ہے 8 جولائی کو اپنے اپ ڈیٹڈ عالمی معاشی منظر نامے کی پیشن گوئی جاری کرے گا۔

جارجیوا کی یہ پوسٹ جو ورلڈ بینک کی ایک مایوس کن پیشن گوئی کے چند دن بعد سامنے آئی یہ ظاہر کرتی ہے کہ آئی ایم ایف تین ممکنہ منظرناموں میں سے سب سے کم نقصان دہ منظرنامے پر اکتفا کر سکتا ہے، جس کے تحت ایران کی جنگ کو قلیل مدتی فرض کیا گیا ہے اور 2026 میں ترقی کی شرح 3.1 فیصد رہنے کی پیشن گوئی کی گئی ہے، جو 2025 میں 3.4 فیصد تھی۔ اس کے بدترین منظرنامے میں ترقی کی شرح گر کر صرف 2 فیصد رہ جانے اور مہنگائی 5.8 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ تیل کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطح سے نیچے آ گئی ہیں اور امریکہ ایک ایندھن برآمد کنندہ ملک ہونے کی وجہ سے قیمتوں کے شدید جھٹکوں سے محفوظ رہا۔ ان کا استدلال ہے کہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلتے ہی عالمی معیشت پر جنگ کے اثرات تیزی سے کم ہو جائیں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی سوچ سے واقف ذرائع کے مطابق امریکہ کا ماننا ہے کہ یورپ بھی جو کہ ایندھن درآمد کرنے والا خطہ ہے ایندھن کی ممکنہ قلت سے بچ جائے گا۔

جی 7 کی اہمیت پر شکوک و شبہات

جی 7 جس کے ارکان میں بڑی یورپی معیشتوں کے علاوہ امریکہ، کینیڈا اور جاپان شامل ہیں کو بھارت، برازیل اور چین جیسی ترقی پذیر معیشتوں کی ترقی کے بعد اپنی افادیت کے حوالے سے سوالات کا سامنا ہے۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق یہ معاشی گروپ اب عالمی جی ڈی پی کے صرف 44.1 فیصد حصے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ اس کے آغاز کے وقت یہ حصہ 60.5 فیصد تھا۔

تاہم شرکاء کا کہنا ہے کہ جی 7 اب بھی بحرانوں کے وقت مفید ثابت ہوتا ہے، جیسے کہ 2008-2009 کا عالمی مالیاتی بحران۔ آئی ایم ایف کے سابق اسٹریٹجی چیف مارٹن موہلائیسن جنہوں نے ٹرمپ کے ساتھ ماضی کے سربراہی اجلاسوں میں حصہ لیا تھا نے کہا کہ جی 7 ہمیشہ ضرورت پڑنے پر ایسے حقیقی فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو اب بھی نصف عالمی معیشت کو چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی رہنما باضابطہ کارروائی کے دوران محتاط رہیں گے لیکن انفرادی ملاقاتوں اور عشائیوں کے دوران تیکھی گفتگو یا بحث تکرار اب بھی ممکن ہے۔

ترقیاتی گروپ جوبلی یو ایس اے نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایرک لے کامپٹے کا کہنا تھا کہ امن معاہدے اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے باوجود معاشی مسائل اب بھی اولین ترجیح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت شدید بحران کا شکار ہے اور یہ دیکھنے کے لیے آپ کا کسی ترقی پذیر ملک میں ہونا ضروری نہیں ہے۔ آپ صرف کسی کریانہ اسٹور (گروسری اسٹور) پر جا کر خود اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

Comments

200 حروف