قرض ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے، مگر جب اسے اصلاحات کے بجائے عارضی سہارا اور غیر پیداواری اخراجات کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کی قیمت پوری قوم چکاتی ہے
2025-26 میں ہدف سے کم مالی معاونت کے باوجود حکومت نے نئے مالی سال کے لیے 10.4 ارب ڈالر کی بیرونی معاونت کا ہدف مقرر کر دیا، جبکہ قرضوں کی ادائیگیوں میں نمایاں اضافے کے باعث مالیاتی چیلنجز برقرار ہیں
پاکستان نے ریل کو محض ایسا محکمہ سمجھا جسے سبسڈی دی جائے جبکہ بھارت نے اسے معاشی شہ رگ کے طور پر دیکھا، بھارتی ماڈل ثابت کرتا ہے کہ ریل کو معاشی محور بنانے سے شاندار نتائج ملتے ہیں
پاکستان اور عالمی بینک نے انسانی سرمایہ، صحت اور مہارتوں کے فروغ سے متعلق اہم ترقیاتی منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا، جن کا مقصد نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانا ہے