BR100 Increased By (0.24%)
BR30 Increased By (0.4%)
KSE100 Increased By (0.31%)
KSE30 Increased By (0.01%)
BAFL 58.15 Increased By ▲ 0.46 (0.8%)
BIPL 27.00 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
BOP 33.54 Increased By ▲ 0.15 (0.45%)
CNERGY 10.80 Increased By ▲ 0.19 (1.79%)
DFML 17.75 No Change ▼ 0.00 (0%)
DGKC 207.61 Increased By ▲ 0.38 (0.18%)
FABL 100.50 Increased By ▲ 0.68 (0.68%)
FCCL 54.30 Increased By ▲ 0.24 (0.44%)
FFL 16.14 Increased By ▲ 0.07 (0.44%)
GGL 22.80 Decreased By ▼ -0.99 (-4.16%)
HBL 304.00 Increased By ▲ 2.70 (0.9%)
HUBC 217.75 Increased By ▲ 0.53 (0.24%)
HUMNL 10.60 Increased By ▲ 0.17 (1.63%)
KEL 7.21 Increased By ▲ 0.02 (0.28%)
LOTCHEM 27.04 Decreased By ▼ -0.09 (-0.33%)
MLCF 95.17 Decreased By ▼ -0.42 (-0.44%)
OGDC 314.21 Increased By ▲ 0.21 (0.07%)
PAEL 42.34 Increased By ▲ 0.22 (0.52%)
PIBTL 17.11 Increased By ▲ 0.10 (0.59%)
PIOC 268.99 Decreased By ▼ -0.86 (-0.32%)
PPL 216.80 Increased By ▲ 1.65 (0.77%)
PRL 60.40 Increased By ▲ 3.77 (6.66%)
SNGP 102.70 Increased By ▲ 1.78 (1.76%)
SSGC 25.33 Increased By ▲ 0.15 (0.6%)
TELE 8.26 Decreased By ▼ -0.05 (-0.6%)
TPLP 13.60 Increased By ▲ 0.87 (6.83%)
TRG 60.52 Decreased By ▼ -1.28 (-2.07%)
UNITY 9.93 Decreased By ▼ -0.10 (-1%)
WTL 1.20 Increased By ▲ 0.01 (0.84%)
کاروبار اور معیشت

بجٹ 2026-27 : تنخواہ دار طبقے کو محدود ریلیف مل گیا

  • دفاعی اخراجات بڑھا کر 3 کھرب روپے کر دیے گئے ہیں، جبکہ پی ایس ڈی پی کیلئے1 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
شائع اپ ڈیٹ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعہ کو پاکستان کا وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2026-27 پیش کردیا، جس میں حکومت نے 4 فیصد جی ڈی پی گروتھ حاصل کرنے اور مہنگائی کو 8.2 فیصد تک رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ تنخواہ دار طبقہ جو کئی سالوں سے زیادہ ٹیکس بوجھ کا سامنا کر رہا تھا کو اس بار کچھ ریلیف ملا ہے۔ تاہم ماہانہ 50,000 روپے آمدن کی انکم ٹیکس حد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

موجودہ حکومت کے تیسرے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 18.77 ٹریلین روپے (67.5 بلین ڈالر) رکھا گیا ہے، جو گزشتہ مالی سال کے 17.6 ٹریلین روپے کے بجٹ کے مقابلے میں معتدل اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ پالیسی ساز مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے پیدا ہونے والے بیرونی چیلنجز کے باوجود معاشی استحکام برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026-27 میں سود کی ادائیگیوں کے لیے 8,054 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ حکومت کے جاری اخراجات (کرنٹ اخراجات) کے لیے 17,495 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

بجٹ تخمینوں کے مطابق حکومت نے مالی سال 2026-27 میں 4 فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ اختتام پذیر مالی سال میں یہ شرح 3.7 فیصد متوقع ہے۔

شعبہ جاتی سطح پر مالی سال 2026-27 میں زراعت کے شعبے کی ترقی 3.6 فیصد، صنعتی شعبے کی 4.5 فیصد اور خدمات کے شعبے کی 4.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

مالی سال 2026-27 میں مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جو رواں مالی سال کے 7 فیصد کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

اسی طرح بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 3.6 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ حکومت نے بنیادی سرپلس (پرائمری سرپلس) جی ڈی پی کے 2 فیصد کے برابر حاصل کرنے کا بھی ہدف رکھا ہے۔

بجٹ میں وفاقی خسارہ 7.02 کھرب روپے رہنے کا تخمینہ بھی پیش کیا گیا ہے۔

اپنی تقریر کے ابتدا میں وزیرِ خزانہ نے پاکستان کی مسلح افواج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ دفاعی شعبہ قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ایک اہم ذریعہ بن کر ابھرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ باعثِ فخر ہے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔

ایف بی آر کے ٹیکس ہدف میں اضافہ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مالی سال 2026-27 کے لیے تقریباً 15.26 ٹریلین روپے کا ٹیکس وصولی ہدف دیا گیا ہے، جو رواں مالی سال کے 14.13 ٹریلین روپے کے ہدف کے مقابلے میں 8 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

وفاقی محصولات میں سے صوبوں کے لیے 8,848 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

دریں اثنا، غیر ٹیکس آمدن مالی سال 2026-27 میں 5.34 کھرب روپے سے تجاوز کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع، پٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن اور سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی وصولیاں اہم کردار ادا کریں گی۔

حکومت کو توقع ہے کہ معیشت کی بہتر دستاویزی شکل (ڈاکیومنٹیشن)، ڈیجیٹل انوائسنگ نظام کے بڑھتے ہوئے استعمال اور ریٹیل و ہول سیل شعبوں کی سخت نگرانی سے محصولات کے ہدف کے حصول میں نمایاں مدد ملے گی۔

کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافہ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تسلیم کیا کہ مہنگائی نے تنخواہ دار طبقے کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دے رہی ہے۔

مزید برآں، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اسی طرح کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف

حکومت نے تنخواہ دار افراد خصوصاً درمیانی اور زیادہ آمدن والے طبقے کے لیے معتدل ٹیکس ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے، جو دستاویزی آمدن رکھنے والوں پر زیادہ ٹیکس بوجھ سے متعلق خدشات کے تناظر میں دیا گیا ہے۔

نئی تجاویز کے مطابق، سالانہ 2.2 ملین سے 3.2 ملین روپے آمدن رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم ہو کر 20 فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ 3.2 ملین سے 4.1 ملین روپے آمدن والے افراد کے لیے شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 25 فیصد کر دی گئی ہے۔

زیادہ آمدن رکھنے والے افراد کے لیے 4.1 ملین سے 5.6 ملین روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم ہو کر 29 فیصد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح 5.6 ملین سے 70 ملین روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کے لیے شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کر دی گئی ہے۔

مزید برآں حکومت نے زیادہ آمدن والے افراد پر عائد 9 فیصد سرچارج ختم کر دیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ان اقدامات سے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم ہوگا۔

حکومت نے سپر ٹیکس کے پہلے چھ سلیبز ختم کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔ اس کے علاوہ 500 ملین روپے سے زیادہ آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔

تعمیراتی شعبے کیلئے ریلیف

تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے جائیداد کی لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی تجویز دی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق فائلرز کے لیے جائیداد کی خرید پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ جائیداد کی فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ اس اقدام سے تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

مزید برآں، حکومت نے غیر ملکی اثاثوں کی ملکیت پر عائد کیپٹل ویلیو ٹیکس ( سی وی ٹی) بھی ختم کر دیا ہے۔

پی ایس ڈی پی

حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت تقریباً ایک ٹریلین روپے مختص کیے ہیں۔

ترجیحی شعبوں میں آبی انفرااسٹرکچر، ٹرانسپورٹ رابطہ کاری، توانائی کی ترسیل کے منصوبے، ڈیجیٹل تبدیلی (ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن) اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے اقدامات شامل ہیں۔

دفاعی اخراجات میں اضافہ

خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں ایک بار پھر اضافہ کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث ملک کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے دفاعی شعبے کے لیے 3 ٹریلین روپے سے زائد رقم مختص کی ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ رقم 2.56 ٹریلین روپے تھی۔ یہ اضافہ ایک غیر یقینی علاقائی ماحول میں فوجی تیاریوں کو برقرار رکھنے پر مسلسل توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔

مالی سال 2026-27 میں دفاعی اخراجات جی ڈی پی کے 2.1 فیصد کے برابر رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے نظرثانی شدہ اندازے کے مطابق یہ شرح 2.03 فیصد تھی۔

حکومت نے مالی سال 2026-27 میں پنشن اخراجات کے لیے 1,169 ارب روپے بھی مختص کیے ہیں۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں اضافہ

حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی مختص رقم بڑھا کر تقریباً 838 ارب روپے کر دی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد اضافہ ہے۔

یہ اضافہ مہنگائی کے دباؤ سے معاشرے کے کمزور اور مستحق طبقات کو محفوظ رکھنے کی حکومتی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

حکومت نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے 365 ارب روپے مختص کیے ہیں، جن میں این-25 ایکسپریس وے کے لیے 100 ارب روپے شامل ہیں۔

توانائی کے شعبے کے لیے 116.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ گزشتہ سال کے سیلاب نے پاکستان کی معیشت کو تقریباً 822 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔ حکومت نے 43 ہائیڈرو منصوبوں کے لیے 103.1 ارب روپے مختص کیے ہیں، جن میں دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 14 ارب روپے اور کراچی کے کے فور منصوبے کے لیے 10 ارب روپے شامل ہیں۔

تعلیم اور صحت

حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2026-27 کے تحت صحت کے شعبے کے لیے 25.1 ارب روپے مختص کیے ہیں، جس میں اعلیٰ درجے کی طبی سہولیات (ٹیریشری ہیلتھ کیئر) اور انتہائی نگہداشت کے مراکز شامل ہیں۔

اسی طرح اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے 46 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے 34.9 ارب روپے کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

آئی ٹی سیکٹر کیلئے رعایت

حکومت نے آئی ٹی سیکٹر کے لیے انکم ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ کو جون 2029 تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

اسی طرح برآمدی آمدن پر ٹیکس وصولی کی شرح موجودہ 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دی گئی ہے۔

مانع حمل ادویات پر ٹیکس کا خاتمہ

آبادی میں اضافے کو کنٹرول کرنے کے لیے، جو 250 ملین کی حد سے تجاوز کر چکی ہے حکومت نے مانع حمل ادویات پر عائد ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت نے بین الاقوامی بزنس کلاس سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) بھی ختم کر دی ہے۔

پیٹرولیم سالوینٹس پر ایف ای ڈی عائد

حکومت نے ملاوٹ کی روک تھام کیلئے پیٹرولیم بیسڈ سالوینٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) 80 روپے فی لیٹر عائد کر دی ہے، خصوصاً پیٹرولیم نیفتھا پر جو بنیادی طور پر پینٹس اور تھنرز میں استعمال ہوتا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ پیٹرولیم بیسڈ سالوینٹس بڑے پیمانے پر پیٹرول میں غیر قانونی ملاوٹ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف ایسے غیر قانونی کاموں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے بلکہ ان عناصر کو روکنا بھی ہے جو کم قیمت پر ملاوٹ شدہ ایندھن تیار کر کے اسے مارکیٹ میں فروخت کر کے قومی معیشت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

ایس یو ویز پر ایف ای ڈی عائد

حکومت نے 2000 سی سی سے زیادہ اور 3000 سی سی تک انجن کی گنجائش والی درآمدی ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کر دی ہے۔ اس کے علاوہ 3000 سی سی سے زیادہ گاڑیوں پر ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

اسی طرح 20 ملین روپے سے زائد مالیت والی لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر بھی یہ ٹیکس لاگو ہوگا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ٹیلی کام ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے عوام کے لیے سرکاری سرمایہ کاری اسکیموں میں سرمایہ کاری کو آسان بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس حوالے سے ایک سے دو ہفتوں کے اندر ایک منصوبے کا افتتاح کرنے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکسوں میں اضافہ کرنے کے بجائے ٹیکس قوانین کی بہتر پاسداری (کمپلائنس) اور مؤثر نفاذ کے ذریعے ٹیکس محصولات میں اضافہ یقینی بنایا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب سفر کے لیے ضروری بنیادی عوامل فراہم کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام حاصل کرنا ’صرف اس سفر کا آغاز ہے اور امید ظاہر کی کہ اعلان کردہ اقدامات پاکستان کو پائیدار معاشی ترقی کے راستے پر گامزن کریں گے۔

حکومت نے قبل ازیں اعلان کیا تھا کہ بجٹ ابتدائی شیڈول میں تبدیلی کے بعد 10 جون کو پیش کیا جائے گا۔

یہ بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کے کئی ارب ڈالر مالیت کے پروگرام کے تحت ہے، جس کے تقاضوں میں مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، غیر ہدفی سبسڈیز میں کمی اور محصولات کی وصولی کو بہتر بنانا شامل ہے۔

دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں اور پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کے درآمدی اخراجات میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ خدشہ ہے کہ علاقائی تجارتی راستوں میں طویل تعطل پاکستان کے بیرونی کھاتوں اور مہنگائی کے منظرنامے پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

قبل ازیں مالیاتی منڈیوں میں بھی ترقی دوست بجٹ کی توقعات دیکھی جا رہی تھیں، جس کے نتیجے میں کے ایس ای-100 انڈیکس تقریباً 2,700 پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ حکومتی حکام کے مطابق معیشت میں استحکام آ چکا ہے، اس لیے یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ اسلام آباد آئندہ مالی سال میں جی ڈی پی کی تیز تر شرح نمو کے حصول کی کوشش کرے گا۔

جمعرات کو حکومت نے مالی سال 26-2025 کے لیے پاکستان اقتصادی سروے جاری کیا جس کے مطابق اختتام پذیر ہونے والے مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

یہ شرح نمو پچھلے سال کی 3.18 فیصد کی شرح نمو سے زیادہ تھی لیکن پچھلے سال کے بجٹ میں اعلانیہ 4.2 فیصد کے ہدف سے کافی کم رہی۔

سروے میں بتایا گیا ہے کہ یہ بہتری مؤثر میکرو اکنامک انتظام، بہتر مالی کھاتوں، بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ترقی، 2025 کے سیلاب کے خلاف زرعی شعبے کی لچک، شرح مبادلہ کے استحکام اور آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت اصلاحات کی بدولت ہے۔

Comments

200 حروف