برآمد کنندگان نے حکومتی معاونت کے باوجود ناکامی کا الزام مسترد کردیا
- پیداواری لاگت اور کمزور مسابقت مسئلہ قرار
آل پاکستان ایکسپورٹرز ایسوسی ایشنز فورم نے اس تنقید کو مسترد کردیا کہ برسوں سے حکومتی معاونت کے باوجود برآمد کنندگان ناکام رہے ہیں۔ فورم کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش برآمدی مسئلہ مصنوعات کے معیار کا نہیں بلکہ پیداواری لاگت میں اضافے اور مسابقت کی کمزور صلاحیت کا ہے۔ انہوں نے طویل مدت کے لیے مستحکم صنعتی اور تجارتی پالیسیوں کا مطالبہ کیا۔
فورم کے چیف کوآرڈینیٹر محمد جاوید بِلوانی نے کہا کہ برآمد کنندگان برآمدات میں اضافے کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے زور دیا کہ حکومت کاروباری لاگت اور کاروبار کرنے میں آسانی سے متعلق مسائل کو حل کرے، تمام کاروباری اداروں کو یکساں مواقع فراہم کرے اور کم از کم 10 سال کے لیے ایک مستحکم پالیسی فریم ورک کے تحت برآمدات کو خصوصی طور پر وفاقی معاملہ قرار دے۔
وزیراعظم کے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں دیے گئے ریمارکس کے جواب میں جاری کیے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ برآمدات ایک اثاثہ ہیں، بوجھ نہیں اور برآمد کنندگان کو ان ساختی مسائل کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے جو بڑی حد تک ان کے اختیار سے باہر ہیں۔ جاوید بِلوانی نے کہا کہ فورم اور اس کے رکن برآمد کنندگان جو قیمتی زرمبادلہ کمانے کے ساتھ بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرتے ہیں، اس بات پر حیران ہیں کہ نجی شعبے کے بعض غیر برآمدی عناصر اور بیوروکریسی کے کچھ ارکان نے وزیراعظم کو ملک کے برآمد کنندگان کو درپیش حقیقی صورتحال سے آگاہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات سے متعلق پالیسی اور عملی نوعیت کے فیصلے وفاقی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں جبکہ برآمد کنندگان غیر معمولی مشکلات کے باعث بقا کی جدوجہد کررہے ہیں، جن میں بلند پیداواری لاگت، ٹیکسز کا بوجھ، پالیسی میں عدم استحکام اور ریفنڈز میں تاخیر شامل ہیں۔ انہوں نے مسابقتی توانائی ٹیرف، ٹیکس اصلاحات، بروقت ریفنڈز، مستقل مزاج پالیسیوں اور مسابقتی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے یکساں مواقع کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ ان کے بقول پاکستان کو زیادہ برآمدات، سرمایہ کاری اور ویلیو ایڈیشن کی ضرورت ہے۔
چیف کوآرڈینیٹر نے کہا کہ غیر برآمدی شعبوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی برآمدی صنعتیں کئی دہائیوں سے حکومتی معاونت حاصل کرنے کے باوجود ناکام رہی ہیں، جو درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان برآمدات میں اضافے کے لیے اتوار سمیت چوبیس گھنٹے کام کررہے ہیں اور وزیراعظم کی جانب سے زیادہ برآمدات، بہتر معیار اور پائیدار ترقی کے مطالبے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
























Comments