پاکستان نے مدینہ پاور اسٹیشن پر حوثی حملے کو اشتعال انگیزی قرار دے دیا
- پاکستان حرمین شریفین، عوام اور زائرین کا تحفظ یقینی بنانے کی کوششوں میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے، سجاد حیدر خان
پاکستان نے جمعہ کو مدینہ منورہ میں بجلی کی تقسیم کے اسٹیشن طیبہ پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک بیان میں کہا کہ مسجدِ نبویؐ کو بجلی فراہم کرنے والے شہری انفرااسٹرکچر کے خلاف یہ قابل مذمت حملہ سنگین اشتعال انگیزی ہے اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کیلئے گہری تشویش اور دکھ کا باعث ہے۔
یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے سعودی قیادت میں اتحاد نے جمعرات کو کہا تھا کہ حوثی گروپ نے رواں ہفتے مدینہ میں بجلی کی تقسیم کے ایک اسٹیشن کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک ٹرانسفارمر بند ہوگیا، تاہم بجلی کے مجموعی نظام کو نقصان نہیں پہنچا۔
اتحاد کے مطابق تحقیقات اور ڈرون کے ملبے کے جائزے سے منگل کو ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی اور کارروائی میں حوثیوں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی۔ اسٹیشن مسجد نبوی ﷺ کو بجلی فراہم کرتا ہے جو اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے مگر حوثیوں کے زیر انتظام خبر رساں ادارے ’صبا‘ کے مطابق حوثی فوجی ذرائع نے الزام مسترد کردیا۔
ترجمان نے ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا فوری اور غیر مشروط خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا جو علاقائی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ترجمان نے کہا حرمین شریفین کے تقدس اور نمازیوں اور عازمین حج کی سلامتی کا ہر حال میں احترام کیا جانا چاہیے۔
سجاد حیدر خان نے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ سجاد حیدر خان نے کہا پاکستان حرمین شریفین، عوام اور زائرین کا تحفظ یقینی بنانے کی کوششوں میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کیلئے پہلے بھی تمام ممکنہ کوششیں کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔
پاکستان نے کسی بھی تنازع کی صورت میں سعودی عرب کے دفاع کا عزم بھی دہرایا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ حوثیوں، کسی ملک یا کسی بھی ایسے گروہ کی جانب سے سعودی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان سعودی عرب کی مدد اور دفاع کے لیے موجود ہوگا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے اور سعودی عرب کی اس تنازع میں شمولیت بڑھ رہی ہے۔
حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے، جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف حملوں کے دعوے کرتے رہے ہیں۔
پاکستان نے حال ہی میں دوطرفہ اور کثیرالجہتی دفاعی معاہدوں کے تحت سعودی عرب کے ساتھ اپنے سکیورٹی عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔
























Comments