یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا یہ ایک وقتی کامیابی ہے یا پائیدار بہتری۔ 2026-27 کے لیے بجٹ خسارے کا ہدف جی ڈی پی کا 3.6 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک فیصد زیادہ ہے
اصل چیلنج ٹیکس شرح نہیں بلکہ ایسا مالیاتی نظام قائم کرنا ہے جو منصفانہ ٹیکسیشن، حکومتی جوابدہی، صوبائی ذمہ داری، مقامی خودمختاری اور عوامی سہولتیں یقینی بنائے
حقیقت یہ ہے کہ انکم ٹیکس وصولیوں کا 75 سے 80 فیصد حصہ ودہولڈنگ ٹیکس پر مشتمل ہے، جو عملاً سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیا جاتا ہے۔ دیانت داری سے دیکھا جائے تو اس آمدن کو انکم ٹیکس کے بجائے سیلز ٹیکس میں شمار کیا جانا چاہیے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان بھی یہ نکتہ ایف بی آر کے سامنے اٹھا کر اس حوالے سے سفارشات دے چکے ہیں، مگر اب تک ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔
شاید فنانس بل 2026 کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جسے یہ چھیڑنے سے گریز کرتا ہے۔ یہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کے مسئلے کو بنیادی سطح پر حل نہیں کرتا، نہ ہی ریٹیل سیکٹر کی ٹیکسیشن میں جامع اصلاحات متعارف کراتا ہے۔
یہ ودہولڈنگ ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا، قومی سطح پر یکساں سیلز ٹیکس نظام قائم نہیں کرتا