حقیقت یہ ہے کہ انکم ٹیکس وصولیوں کا 75 سے 80 فیصد حصہ ودہولڈنگ ٹیکس پر مشتمل ہے، جو عملاً سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیا جاتا ہے۔ دیانت داری سے دیکھا جائے تو اس آمدن کو انکم ٹیکس کے بجائے سیلز ٹیکس میں شمار کیا جانا چاہیے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان بھی یہ نکتہ ایف بی آر کے سامنے اٹھا کر اس حوالے سے سفارشات دے چکے ہیں، مگر اب تک ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔
شاید فنانس بل 2026 کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جسے یہ چھیڑنے سے گریز کرتا ہے۔ یہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کے مسئلے کو بنیادی سطح پر حل نہیں کرتا، نہ ہی ریٹیل سیکٹر کی ٹیکسیشن میں جامع اصلاحات متعارف کراتا ہے۔
یہ ودہولڈنگ ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا، قومی سطح پر یکساں سیلز ٹیکس نظام قائم نہیں کرتا
وفاقی بجٹ 2026-27 کا بڑا مثبت پہلو عوامی مالیات میں نمایاں استحکام ہے، جہاں مجموعی بجٹ خسارہ 2021-22 میں جی ڈی پی کے 7.7 فیصد سے کم ہو کر رواں مالی سال میں 3 فیصد کی متوقع سطح تک آگیا ہے
نئے بجٹ کا بڑا منفی پہلو وفاق کو صوبائی گرانٹس کی فراہمی کے باعث صوبوں کے ترقیاتی اخراجات میں 22 فیصد سے زائد متوقع کمی ہے