آبنائے ہرمز کی صورتحال، وزارتِ بحری امور اور ایف بی آر نے اہم حکمت عملی تیار کر لی
- بلک کارگو کی ٹرانس شپمنٹ کیلئے مشترکہ طور پر اہم اسٹرٹیجک اقدامات متعارف کرا دیے گئے
وزارت بحری امور اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)/کسٹمز نے آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں بلک کارگو کی ٹرانس شپمنٹ کے لیے مشترکہ طور پر اہم اسٹرٹیجک اقدامات متعارف کرا دیے ہیں، جن کا مقصد پاکستان کو عالمی سپلائی چینز کے ساتھ مزید مؤثر انداز میں جوڑنا ہے۔
ذرائع کے مطابق، آبنائے ہرمز میں شدید خلل کے باعث عالمی تجارتی راستے متبادل اور مستحکم بحری مراکز کی تلاش میں ہیں۔
پاکستان کا جنوبی ساحل اب ایک قابلِ عمل ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر ابھر رہا ہے، کیونکہ یہ خلیج فارس کے اتنا قریب ہے کہ اپنی جغرافیائی اہمیت برقرار رکھ سکے، جبکہ اتنا دور بھی ہے کہ موجودہ کشیدگی اور انشورنس کے بلند خطرات والے علاقوں سے باہر رہے۔ اس تبدیلی نے پاکستان کو ایک نئے تجارتی نظام کا حصہ بنا دیا ہے، جہاں بندرگاہوں کی کارکردگی اور کارگو کی ڈیجیٹل نگرانی جغرافیائی محل وقوع جتنی ہی اہم ہو چکی ہے۔
اس طلب میں اضافہ غیر معمولی نوعیت کا ہے۔ سال 2025 کے دوران کراچی نے ٹرانس شپمنٹ کارگو کے تقریباً 8,300 ٹی ای یوز سنبھالے تھے، لیکن صرف مارچ 2026 کے ابتدائی 24 دنوں میں یہ حجم 8,860 ٹی ای یوز تک پہنچ گیا، جو پورے گزشتہ سال کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں یہ اضافہ 1,400 فیصد سے زائد بتایا جا رہا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کامیاب بندرگاہ صرف قریب ترین بندرگاہ نہیں ہوتی بلکہ وہ ہوتی ہے جو سامان کے ساتھ معلومات کی ترسیل بھی تیزی سے انجام دے سکے۔
پاکستان کے پورٹ کمیونٹی سسٹم (پی سی ایس) پورٹ ورس نے اس بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے کے لیے ضروری ڈیجیٹل سہولت فراہم کی ہے۔ ملک کی بڑی بندرگاہوں پر اس نظام کا نفاذ تیزی سے جاری ہے۔ 21 اپریل کو قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل پر کامیاب منتقلی کے بعد کراچی گیٹ وے ٹرمینل کو 6 مئی کو اس نظام سے منسلک کیا جانا طے ہے، جبکہ ایس اے پی ٹی اور کے آئی سی ٹی بھی آئندہ دو ہفتوں میں اس میں شامل ہو جائیں گے۔ اس طرح ملک کے تمام بڑے کنٹینرائزڈ میری ٹائم ٹرمینلز الیکٹرانک ڈلیوری آرڈرز (ای ڈی او) کے لیے ایک ہی ڈیجیٹل نظام کے تحت آ جائیں گے۔
اب تک 17 ہزار سے زائد ڈلیوری آرڈرز کا اجرا کیا جا چکا ہے، جبکہ پورٹ ورس خاص طور پر دستاویزی کارروائیوں سے متعلق رکاوٹوں کو ختم کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔ اگرچہ کارگو کے قیام کا دورانیہ مختلف عملی عوامل سے متاثر ہوتا ہے، تاہم دستی رابطوں اور کارروائیوں میں کمی ٹرمینلز کی کارکردگی بہتر بنانے اور پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
اس مثبت پیش رفت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے وزارتِ بحری امور اور ایف بی آر/کسٹمز نے ایسے اسٹرٹیجک اقدامات متعارف کرائے ہیں جن کا مقصد صرف سامان کی نقل و حمل نہیں بلکہ پوری ویلیو چین سے فائدہ حاصل کرنا ہے۔
بلک کارگو کی ٹرانس شپمنٹ کے لیے نئے قانونی طریقہ کار، آٹو موبائل شعبے کے لیے خصوصی رو-رو آپریشنز، اور ایل سی ایل کارگو کنسولیڈیشن جیسی سہولتیں پاکستان کو عالمی سپلائی چینز کا زیادہ مؤثر حصہ بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں۔ یہ اقدامات وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے ہوئے ممالک کے لیے ٹرانزٹ تجارت کو بھی درکار لچک اور سہولت فراہم کریں گے۔
حکام کے مطابق، پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) اور پورٹ ورس کے نظام کو وسعت دے کر ایک ایسا تجارتی ماحول تشکیل دے رہا ہے جو نہ صرف موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ آئندہ کئی دہائیوں تک خطے کے ٹرانس شپمنٹ نقشے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments