BR100 Decreased By (-0%)
BR30 Decreased By (-0.24%)
KSE100 Increased By (0.02%)
KSE30 Decreased By (-0.01%)
BAFL 57.00 Increased By ▲ 0.13 (0.23%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.34 Decreased By ▼ -0.01 (-0.03%)
CNERGY 13.12 No Change ▼ 0.00 (0%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 192.00 Decreased By ▼ -0.45 (-0.23%)
FABL 94.35 Increased By ▲ 0.21 (0.22%)
FCCL 52.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.08%)
FFL 14.62 Decreased By ▼ -0.10 (-0.68%)
GGL 19.43 Decreased By ▼ -0.13 (-0.66%)
HBL 307.29 Increased By ▲ 1.19 (0.39%)
HUBC 201.00 Decreased By ▼ -0.42 (-0.21%)
HUMNL 10.10 Decreased By ▼ -0.06 (-0.59%)
KEL 6.15 Increased By ▲ 0.06 (0.99%)
LOTCHEM 26.50 Increased By ▲ 0.04 (0.15%)
MLCF 93.20 Increased By ▲ 0.04 (0.04%)
OGDC 315.90 Decreased By ▼ -0.83 (-0.26%)
PAEL 35.60 Decreased By ▼ -0.03 (-0.08%)
PIBTL 14.85 Increased By ▲ 0.17 (1.16%)
PIOC 243.50 Increased By ▲ 0.29 (0.12%)
PPL 224.49 Decreased By ▼ -2.42 (-1.07%)
PRL 92.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.08%)
SNGP 91.89 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
SSGC 23.85 Increased By ▲ 0.04 (0.17%)
TELE 7.80 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 12.80 Decreased By ▼ -0.17 (-1.31%)
TRG 56.74 Increased By ▲ 0.18 (0.32%)
UNITY 8.05 Decreased By ▼ -0.02 (-0.25%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
پاکستان

آئندہ بجٹ میں صنعتی ترقی کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے، وزیر اعظم

  • ایکسپورٹ فنانس اسکیم کی شرح جون 2027 تک برقرار رہے گی، شہباز شریف
شائع اپ ڈیٹ

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی ترقی کو فروغ دینے اور ملکی پیداوار میں اضافے کے لیے آئندہ بجٹ میں مزید اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔ وزیر اعظم آفس کے مطابق انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر رہنماؤں کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ وفد نے وزیر اعظم کو آئندہ بجٹ اور ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ مسلسل کوششوں کی بدولت معیشت کو استحکام ملا ہے اور حکومت تیز تر اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے کام جاری رکھے گی۔

وزیر اعظم نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت کی کہ ٹیکس ریفنڈز کے تمام زیر التوا کیسز 15 جون تک حل کیے جائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی حکومت کا اولین مشن ہے اور مشترکہ کوششوں سے اسے حاصل کیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں حالیہ اضافے کے باوجود ایکسپورٹ فنانس اسکیم کی شرح جون 2027 تک 4.5 فیصد پر برقرار رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے بینکوں کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔

کاروباری برادری کی سہولت کے لیے وزیر اعظم نے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پی آر اے ایل) کو اپنا ہیڈ آفس کراچی منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ سمندر پار پاکستانیوں اور تاجر برادری کی درخواست پر انہوں نے حکام کو گجرات میں پاسپورٹ آفس قائم کرنے کا حکم بھی دیا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ایز) کے شعبے کی ترقی کے لیے اصلاحات اور مراعات حکومت کے اقتصادی ایجنڈے کا لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے پاکستانی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مشترکہ سرمایہ کاری (جوائنٹ وینچرز) کے ذریعے الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی سطح پر تیاری کو فروغ دیں۔

وزیر اعظم آفس کے مطابق وفد کے ارکان نے خلیجی خطے میں کشیدگی کے دوران امن کے فروغ کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا۔

کاروباری برادری کے نمائندوں نے کہا کہ وہ اقتصادی ترقی کو تیز کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی حکومتی کوششوں میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وفد نے کم اور مڈل انکم والے خاندانوں کے لیے وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت آسان شرائط پر قرضوں کی اسکیم کے آغاز کا خیرمقدم کیا۔

وفد نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ بورڈ میں اصلاحات، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی کامیاب نجکاری، ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن اور ای-انوائسنگ متعارف کرانے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔ ارکان نے یقین دلایا کہ کاروباری برادری ڈیجیٹلائزیشن اور دیگر اصلاحات کے ذریعے غیر دستاویزی (گرے) معیشت کو باقاعدہ معیشت میں لانے کے لیے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔

اس اہم مشاورتی اجلاس میں ایف پی سی سی آئی کے صدور سمیت کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، سرحد، کوئٹہ، گجرات، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے چیمبرز آف کامرس کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک اور اویس احمد خان لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔

Comments

200 حروف