BR100 Decreased By (-0.59%)
BR30 Decreased By (-1.1%)
KSE100 Decreased By (-0.52%)
KSE30 Decreased By (-0.49%)
BAFL 56.95 Increased By ▲ 0.08 (0.14%)
BIPL 24.98 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
BOP 30.14 Decreased By ▼ -0.21 (-0.69%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.10 Decreased By ▼ -4.35 (-2.26%)
FABL 94.12 Decreased By ▼ -0.02 (-0.02%)
FCCL 52.25 Decreased By ▼ -0.54 (-1.02%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.11 Decreased By ▼ -0.45 (-2.3%)
HBL 305.56 Decreased By ▼ -0.54 (-0.18%)
HUBC 200.00 Decreased By ▼ -1.42 (-0.7%)
HUMNL 9.99 Decreased By ▼ -0.17 (-1.67%)
KEL 6.11 Increased By ▲ 0.02 (0.33%)
LOTCHEM 26.30 Decreased By ▼ -0.16 (-0.6%)
MLCF 91.64 Decreased By ▼ -1.52 (-1.63%)
OGDC 314.50 Decreased By ▼ -2.23 (-0.7%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.70 Increased By ▲ 0.02 (0.14%)
PIOC 240.80 Decreased By ▼ -2.41 (-0.99%)
PPL 222.21 Decreased By ▼ -4.70 (-2.07%)
PRL 91.60 Decreased By ▼ -1.42 (-1.53%)
SNGP 90.89 Decreased By ▼ -0.95 (-1.03%)
SSGC 23.27 Decreased By ▼ -0.54 (-2.27%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.64 Decreased By ▼ -0.33 (-2.54%)
TRG 56.50 Decreased By ▼ -0.06 (-0.11%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
کاروبار اور معیشت

حکومت کا ہاؤسنگ کمپنیوں کے لیے ایس ای سی پی کی رجسٹریشن لازمی قرار دینے پر غور

  • اجلاس میں ہاؤسنگ سیکٹر میں اصلاحات سے متعلق تجاویز پیش کر دی گئیں
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے پاکستان کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں شفافیت اور ریگولیشن کو بہتر بنانے کے لیے ہاؤسنگ اور ڈویلپمنٹ کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے پاس رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے پر غور شروع کر دیا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق یہ پیش رفت جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہاؤسنگ سیکٹر میں اصلاحات سے متعلق منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سامنے آئی۔

اجلاس میں ہاؤسنگ سیکٹر میں اصلاحات سے متعلق مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ ہاؤسنگ سیکٹر میں شفافیت لانے کے لیے ایک ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دیا جائے گا، جس کے تحت معتبر سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کو سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ ہاؤسنگ اور ڈویلپمنٹ کے شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے ایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

مزید بتایا گیا کہ شہروں کے غیر منصوبہ بند پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بھی ایک حکمت عملی وضع کی جائے گی، جس کے تحت بڑے شہروں میں کثیر المنزلہ عمارتوں اورکثیرالمنزلہ تعمیرات کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

شرکاء نے بڑے شہروں کے لیے ماسٹر ٹاؤن پلاننگ کی تجویز بھی دی۔ اس کے علاوہ ڈویلپرز، خریداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے ون ونڈو سسٹم قائم کرنے کی تجویز دی گئی۔

جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ہاؤسنگ سیکٹر میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ وزیراعظم کے بقول کم آمدنی والے طبقے کے لیے رہائش کی فراہمی، سستی ہاؤسنگ اسکیمیں اور عوامی سہولیات کی بہتری ہماری ترجیحات میں شامل ہیں۔

وزیراعظم کا موقف تھا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں کے بے ہنگم پھیلاؤ کی وجہ سے زرعی اراضی پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے لیے ایک مناسب حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت کے فروغ کے لیے ہاؤسنگ سیکٹر کے تمام معاملات کو ڈیجیٹلائز اور خودکار بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ سیکٹر میں سمندر پار سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے اس شعبے کو ریگولیشن کے تحت لانا ضروری ہے۔

وزیراعظم نے پیش کی گئی تجاویز کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ مشاورت کی ہدایت بھی جاری کی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیرزادہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد بٹ، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

Comments

200 حروف