امریکہ ایران جنگ خاتمے سے دور، قطری ٹینکر آبنائے ہرمز کی جانب رواں دواں
- واشنگٹن چند گھنٹوں میں جواب کی توقع کر رہا ہے، امریکی وزیر خارجہ
آبنائے ہرمز کے اطراف اتوار کے روز نسبتاً امن رہا، جب کہ کئی دنوں کی وقفے وقفے سے جھڑپوں کے بعد صورتحال قدرے معمول پر آ گئی۔ اس دوران امریکہ نے ایران کے جواب کا انتظار کیا کہ آیا وہ جنگ کے خاتمے اور امن مذاکرات کے آغاز سے متعلق تازہ امریکی تجاویز کو قبول کرتا ہے یا نہیں، جو دو ماہ سے زائد جاری لڑائی ختم کرنے کیلئے پیش کی گئی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ واشنگٹن چند گھنٹوں میں جواب کی توقع کر رہا ہے، تاہم تہران کی جانب سے ابھی تک کسی واضح پیش رفت کے آثار سامنے نہیں آئے۔
اسی دوران قطر کے وزیرِاعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے میامی میں ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں استحکام اور خطرات کو روکنے کیلئے مشترکہ کوششوں پر زور دیا، تاہم ایران کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا۔
فرانسیسی صحافی مارگو حداد کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔
ادھر ایک قطری ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز کی جانب بڑھ رہا ہے جو پاکستان کیلئے گیس لے جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام ایران کی منظوری سے ہوا ہے تاکہ قطر اور پاکستان کے ساتھ اعتماد سازی بڑھائی جا سکے، جو اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اگر یہ سفر مکمل ہوتا ہے تو یہ 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد پہلی قطری ایل این جی شپمنٹ ہوگی جو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے گی۔ آبنائے ہرمز، جس سے عالمی تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے، پہلے ہی شدید کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
حالیہ دنوں میں اس علاقے میں جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ کچھ بحری جہازوں پر حملوں کی بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کی حمایت کرنے والے ممالک کے جہازوں کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ خطے میں بحری سلامتی کیلئے بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔





















Comments