جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز مشن پر غور کیلئے 40 ممالک کا اجلاس آج ہوگا
- فرانس اور برطانیہ اہم بین الاقوامی اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے
فرانس اور برطانیہ آج ایک اہم بین الاقوامی اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے جس میں تقریباً 40 ممالک شرکت کریں گے۔ اس اجلاس کا مقصد امریکہ کو یہ پیغام دینا ہے کہ اس کے قریبی اتحادی آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی آزادی بحال کرنے میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم یہ اقدام اس وقت کیا جائے گا جب حالات سازگار ہوں گے۔
آبنائے ہرمز کو ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد بڑی حد تک غیر ملکی جہازوں کے لیے بند کر رکھا ہے، جس سے عالمی تیل اور تجارتی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ ادھر امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر آنے جانے والے جہازوں پر ناکہ بندی بھی عائد کر دی ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دیگر ممالک سے اس ناکہ بندی پر عملدرآمد میں تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر یورپی ممالک کا مؤقف ہے کہ اس ناکہ بندی میں شامل ہونا جنگ میں براہِ راست شریک ہونے کے مترادف ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مستقل جنگ بندی یا تنازع کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
اجلاس میں عالمی سمندری تجارت کو درپیش اقتصادی چیلنجز اور 20 ہزار سے زائد پھنسے ہوئے ملاحوں اور تجارتی جہازوں کی حفاظت پر بھی غور کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ایک دفاعی نوعیت کے کثیرالقومی مشن کی تیاریوں پر بات ہوگی، جس کا مقصد بحری گزرگاہ کو محفوظ بنانا ہے۔
یہ اجلاس پیرس میں ہوگا جس میں ایمانوئل میکرون، کیئر اسٹارمر، فریڈرک مرز اور جارجیا میلونی شریک ہوں گے، جبکہ دیگر ممالک ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوں گے۔






















Comments