سیمنٹ سیکٹر، مقامی طلب سہارا بن گئی
- جولائی 2026 میں سیمنٹ کی مجموعی ڈسپیچز سالانہ بنیاد پر 6 فیصد بڑھ کر 4.48 ملین ٹن ہوگئے
پاکستان کی سیمنٹ صنعت نے مالی سال 2026-27 کا آغاز مقامی طلب میں اضافے کے ساتھ کیا ہے۔ جولائی 2026 میں سیمنٹ کی مجموعی ڈسپیچز سالانہ بنیاد پر 6 فیصد بڑھ کر 4.48 ملین ٹن ہوگئے، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ یہ 4.22 ملین ٹن تھے۔ جون کے مقابلے میں بھی ڈسپیچز 3.3 فیصد زیادہ رہیں، جس سے مالی سال 26 کے اختتام پر نظر آنے والی بحالی کا سلسلہ جاری رہا۔
یہ بہتری مکمل طور پر مقامی مارکیٹ کی وجہ سے آئی۔ مقامی ڈسپیچز سالانہ بنیاد پر 17.3 فیصد بڑھ کر 3.77 ملین ٹن ہوگئیں، جو 2020 کے بعد جولائی کی سب سے مضبوط کارکردگی ہے۔ دوسری جانب برآمدات 30 فیصد کمی کے ساتھ 0.71 ملین ٹن رہیں۔ یہ فرق اب زیادہ واضح ہوتا جا رہا ہے: ملک میں تعمیراتی سرگرمیاں بتدریج بحال ہو رہی ہیں، تاہم بیرونی مارکیٹیں اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
شمالی خطے نے مقامی بحالی میں سبقت حاصل کی۔ مون سون بارشوں اور سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مقامی ڈسپیچز 19 فیصد بڑھ کر 3.09 ملین ٹن ہوگئیں۔ تاہم افغانستان کی سرحد مسلسل بند رہنے کے باعث خطے سے کوئی برآمد نہیں ہوئی، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ 0.23 ملین ٹن برآمد کی گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں شمالی خطے کی مجموعی ڈسپیچز نسبتاً معمولی 9.5 فیصد اضافے کے ساتھ رہیں۔

جنوبی خطے میں صورتحال ملی جلی رہی۔ مقامی فروخت سالانہ بنیاد پر 9 فیصد بڑھ کر 0.68 ملین ٹن ہوگئی، تاہم برآمدات 9 فیصد کمی کے ساتھ 0.71 ملین ٹن رہیں۔ نتیجتاً جنوبی خطے کی مجموعی ڈسپیچز تقریباً 1 فیصد کمی کے ساتھ 1.39 ملین ٹن ہوگئیں۔ اس سے علاقائی فرق مزید نمایاں ہوتا ہے: شمالی علاقوں کے پروڈیوسرز کا انحصار مقامی مارکیٹ پر بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ جنوبی پلانٹس اب بھی سمندری راستے سے ہونے والی برآمدات پر کافی حد تک انحصار کرتے ہیں۔
جولائی کے اعداد و شمار مالی سال 26 کے دوران سامنے آنے والی تبدیلی کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ سال کے دوران مقامی ڈسپیچز میں 10 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ برآمدات 2.1 فیصد کم ہوئیں۔ تعمیراتی سرگرمیوں میں سست روی کے دوران پروڈیوسرز نے بیرونی مارکیٹوں پر انحصار کیا تھا، حالانکہ برآمدات عموماً کم قیمتیں فراہم کرتی ہیں اور ان میں مال برداری اور ہینڈلنگ کے اخراجات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لیے مقامی خریدار کی واپسی نہ صرف حجم کے لیے بلکہ صنعت کی فروخت کے مجموعی امتزاج کے لیے بھی مثبت پیش رفت ہے۔
ایسے اشارے موجود ہیں کہ کم شرح سود، آمدنی میں بہتری اور حکومتی ہاؤسنگ اقدامات تعمیراتی سرگرمیوں کو سہارا دینا شروع کر رہے ہیں۔ تعمیراتی فنانسنگ میں بہتری، پراپرٹی ٹرانزیکشنز کے لیے ٹیکس ریلیف، وفاقی ترقیاتی بجٹ اور وزیراعظم کی ’’اپنا گھر‘‘ اسکیم مزید معاونت فراہم کر سکتی ہیں، بشرطیکہ ان اعلانات پر مؤثر عمل درآمد ہو۔
قیمتیں بھی مستحکم رہی ہیں۔ جولائی میں سیمنٹ کی اوسط قیمت تقریباً 1,530 روپے فی 50 کلوگرام تھی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہے۔ اس سے پروڈیوسرز کو کوئلے، ایندھن اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا کچھ دباؤ برداشت کرنے میں مدد ملنی چاہیے۔ تاہم بین الاقوامی توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں تنازع بڑھنے کی صورت میں، منافع کے مارجن کو متاثر اور تعمیراتی طلب کو کمزور کر سکتا ہے۔
مقامی مارکیٹ کا منظرنامہ محتاط طور پر مثبت ہے۔ اگر نجی تعمیراتی سرگرمیوں میں بحالی جاری رہی اور ترقیاتی اخراجات بجٹ کے مطابق جاری کیے گئے تو مالی سال 27 میں صنعت کی ڈسپیچز مزید 7 سے 8 فیصد بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم صنعت کے پاس اب بھی خاصی اضافی پیداواری صلاحیت موجود ہے، گھرانوں کی قوتِ خرید کمزور ہے، جبکہ مالی دباؤ پیدا ہونے کی صورت میں سرکاری ترقیاتی اخراجات اکثر سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔
برآمدات کے لیے افغانستان کی سرحد کا دوبارہ کھلنا انتہائی اہم ہے۔ اس وقت تک صنعت کی بحالی بڑی حد تک ایک ہی ستون پر قائم رہے گی، مقامی طلب۔






















Comments