BR100 Increased By (0.37%)
BR30 Increased By (0.63%)
KSE100 Increased By (0.35%)
KSE30 Increased By (0.24%)
BAFL 58.13 Decreased By ▼ -0.03 (-0.05%)
BIPL 27.32 Increased By ▲ 0.09 (0.33%)
BOP 34.64 Increased By ▲ 0.24 (0.7%)
CNERGY 13.88 Increased By ▲ 0.77 (5.87%)
DFML 18.52 Increased By ▲ 0.12 (0.65%)
DGKC 216.78 Increased By ▲ 3.12 (1.46%)
FABL 99.82 Increased By ▲ 0.26 (0.26%)
FCCL 57.87 Decreased By ▼ -0.19 (-0.33%)
FFL 16.50 Increased By ▲ 0.27 (1.66%)
GGL 24.12 Increased By ▲ 0.14 (0.58%)
HBL 335.01 Decreased By ▼ -3.15 (-0.93%)
HUBC 213.40 Increased By ▲ 0.04 (0.02%)
HUMNL 10.68 Increased By ▲ 0.10 (0.95%)
KEL 7.45 Increased By ▲ 0.02 (0.27%)
LOTCHEM 27.70 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
MLCF 102.51 Decreased By ▼ -0.24 (-0.23%)
OGDC 320.75 Increased By ▲ 1.83 (0.57%)
PAEL 42.85 Decreased By ▼ -0.25 (-0.58%)
PIBTL 16.54 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 274.99 Increased By ▲ 1.99 (0.73%)
PPL 231.89 Increased By ▲ 2.44 (1.06%)
PRL 77.02 Increased By ▲ 6.22 (8.79%)
SNGP 103.71 Decreased By ▼ -0.87 (-0.83%)
SSGC 27.21 Decreased By ▼ -0.20 (-0.73%)
TELE 8.55 Increased By ▲ 0.02 (0.23%)
TPLP 15.61 Decreased By ▼ -0.15 (-0.95%)
TRG 60.15 Decreased By ▼ -0.14 (-0.23%)
UNITY 11.61 Decreased By ▼ -0.11 (-0.94%)
WTL 1.20 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

مالی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آگیا، خرم شہزاد

  • مالی سال 2022 میں جی ڈی پی کے 7.9 فیصد رہنے والا مالی خسارہ مسلسل تین سال سے کم ہو رہا ہے، مشیر وزیر خزانہ
شائع اپ ڈیٹ

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کا مالی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے 2.6 فیصد کی سطح پر آگیا جو دو دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح ہے۔

خرم شہزاد نے جمعرات کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ مالی سال 2022 میں جی ڈی پی کے 7.9 فیصد رہنے والا مالی خسارہ مسلسل تین سال سے کم ہو رہا ہے جبکہ مالی سال 2026 میں حکومت نے سود کی ادائیگیوں سے قبل بنیادی بجٹ سرپلس جی ڈی پی کے 2.9 فیصد کے برابر ریکارڈ کیا۔

انہوں نے اس کارکردگی کو 22 سال میں مضبوط ترین مالیاتی کارکردگی قرار دیا۔

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے مالی سال 2025-26 کا اختتام سرکاری مالیات میں تاریخی بہتری کے ساتھ کیا جو بار بار پیدا ہونے والے مالیاتی دباؤ سے نکل کر مالیاتی نظم و ضبط، استحکام اور پائیدار ترقی کی جانب فیصلہ کن پیش رفت ہے۔

خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کا بنیادی بجٹ سرپلس مالی سال 2024 میں جی ڈی پی کے 0.9 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں 2.4 فیصد اور مالی سال 2026 میں 2.9 فیصد ہوگیا جو مالی سال 2021 کے بعد سے سب سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف تین سال میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے لحاظ سے 5.2 فیصد پوائنٹس کم ہوا جبکہ بنیادی مالیاتی توازن میں 3.9 فیصد پوائنٹس کی بہتری آئی جو 1.0 فیصد خسارے سے بڑھ کر ریکارڈ 2.9 فیصد سرپلس تک پہنچ گیا۔

خرم شہزاد نے بتایا کہ مالی سال 2026 میں حکومت کا مجموعی مالیاتی خسارہ 3.31 ٹریلین روپے رہا جبکہ پرائمری سرپلس 3.63 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ریونیوز 19.8 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے جن میں 14.2 ٹریلین روپے کے ٹیکس وصولیاں شامل ہیں۔

بیان کے مطابق مالی سال 2026 میں سود کی ادائیگیاں گزشتہ مالی سال کے 8.9 ٹریلین روپے کے مقابلے میں کم ہو کر تقریباً 6.95 ٹریلین روپے رہ گئیں۔

خرم شہزاد نے کہا کہ یہ محض مالیاتی خسارے میں کمی نہیں بلکہ پاکستان کی مالیاتی پوزیشن میں بنیادی مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے جو بہتر آمدن، اخراجات میں نظم و ضبط اور مسلسل اصلاحات کے باعث ممکن ہوئی ہے۔

شہزاد کے مطابق قرضوں میں اضافے کی رفتار 20 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے جبکہ قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب کم ہو کر تقریباً 68 فیصد رہ گیا ہے، اس کے ساتھ ہی قرض کی سرویسنگ کے اخراجات میں بھی کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کم مالی دباؤ، قرضوں کی پائیداری میں بہتری اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ مالی گنجائش۔

مالیاتی استحکام کے عمل کے ساتھ پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن میں بھی بہتری آئی ہے جس میں زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ اور بیرونی کھاتوں کی مضبوطی شامل ہے۔ خرم شہزاد نے کہا کہ ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے جولائی میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ مائنس سے بڑھا کر بی کردی جس میں بالخصوص مالیاتی استحکام کی تیز رفتار پیشرفت، محصولات میں بہتر وصولی، زرمبادلہ ذخائر کی بحالی اور حکومتی قرضوں کے جی ڈی پی سے تناسب میں کمی کو تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر یہ بہتریاں سرمایہ کاری، ترقی اور پائیدار و جامع معاشی نمو کے لیے زیادہ مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

Comments

200 حروف