ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال، 500 ملین ڈالر کے برآمدی کنٹینرز فیکٹریوں میں پھنس گئے، پی ٹی ای اے
- بار بار پیدا ہونے والی ٹرانسپورٹ رکاوٹیں ملک کی برآمدی مسابقت کے لیے بتدریج ایک ساختی خطرہ بن گئی ہیں، خرم مختار
پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ٹی ای اے) کے سرپرست اعلیٰ خرم مختار نے فوری انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک گیر ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال مسلسل پانچویں روز بھی جاری ہے، جس کے باعث صنعت کے روایتی طور پر مصروف ترین شپنگ سیزن میں تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کے برآمدی کنٹینرز فیکٹریوں میں پھنس گئے ہیں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ شعبے کے لیے ایک مشکل دور کے بعد پاکستان کی برآمدات نے بالآخر جولائی سے دوبارہ رفتار پکڑی تھی، تاہم اس ہڑتال نے راتوں رات اس پیش رفت کو روک دیا ہے۔ سرپرست اعلیٰ نے کہا کہ فیکٹریوں میں ایک کے بعد ایک کنٹینر کھڑا ہے جبکہ غیرملکی خریدار انتظار کر رہے ہیں، اور تاخیر کا ہر گزرتا دن عالمی منڈی کو پاکستان کی بطور تجارتی شراکت دار قابلِ اعتماد حیثیت کے بارے میں غلط پیغام دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بار بار پیدا ہونے والی ٹرانسپورٹ رکاوٹیں ملک کی برآمدی مسابقت کے لیے بتدریج ایک ساختی خطرہ بن گئی ہیں۔ اس پیمانے اور تواتر کی ہڑتالوں کو معمول نہیں بننے دیا جا سکتا۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے، پاکستان ان مسابقتی برآمدی ممالک سے پیچھے رہ جاتا ہے جہاں ایسی رکاوٹیں درپیش نہیں ہوتیں، جبکہ موجودہ خریداروں کے ساتھ تعلقات اور مستقبل کے آرڈرز بھی خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔
پی ٹی ای اے نے خبردار کیا کہ بندرگاہیں پہلے ہی محدود استعداد کے ساتھ کام کر رہی ہیں، ایسے میں مزید تاخیر سے ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز میں اضافہ، شپمنٹ کی مقررہ مدت گزرنے اور عالمی خریداروں کی جانب سے ممکنہ جرمانوں کے دعووں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے رکے ہوئے مال کی براہِ راست مالیت سے کہیں زیادہ نقصان ہوگا۔
پی ٹی ای اے نے وفاقی حکومت سے فوری مداخلت کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز اور متعلقہ حکام کے درمیان مسئلے کا حل نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے یہ بھی تجویز دی کہ مستقبل میں کسی بھی صنعتی ہڑتال کے دوران برآمدی مال کی نقل و حرکت کو ترجیح دینے کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ پاکستان کی مشکل سے حاصل کردہ برآمدی کامیابیاں بار بار خطرے میں نہ پڑیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments