پاکستان نے زرعی اصلاحات کا تصور ضرور پیش کیا تھا اور اس کی بانی جماعت نے اس کے حق میں دوٹوک مؤقف بھی اختیار کیا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ مغربی حصے میں زمین دار طبقہ اس وعدے سے زیادہ طاقتور ثابت ہوا اور بالآخر اس نے اپنے تحفظ کو قانون کا حصہ بنا لیا۔ بدقسمتی سے یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
پاکستان نے 14 اگست 1947ء کو ریاستی خودمختاری حاصل کرلی تھی، مگر اب وقت آگیا ہے کہ اسے عوام کی مالیاتی خودمختاری میں تبدیل کیا جائے۔ حقیقی معاشی آزادی اسی وقت ممکن ہے جب حکومت کی تینوں سطحوں پر ذمہ داریاں، مالی وسائل اور جواب دہی ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں اور شہریوں کو معلوم ہو کہ ان کے ادا کردہ ٹیکس کہاں خرچ ہورہے ہیں۔
اصل چیلنج ٹیکس شرح نہیں بلکہ ایسا مالیاتی نظام قائم کرنا ہے جو منصفانہ ٹیکسیشن، حکومتی جوابدہی، صوبائی ذمہ داری، مقامی خودمختاری اور عوامی سہولتیں یقینی بنائے
پنجاب نے سپلائی چین کی حقیقی دستاویز سازی کے بجائے صرف آخری ڈیجیٹل ادائیگی پر ٹیکس عائد کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے؛ اس سے وقتی آمدن تو بڑھ سکتی ہے، مگر نہ حقیقی ویلیو ایڈڈ ٹیکس نظام قائم ہوگا، نہ نقد کے بغیر معیشت کو فروغ ملے گا، بلکہ نقد معیشت اور ٹیکس چوری کی مزید حوصلہ افزائی ہوگی۔
14 برس قبل ہم نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس قوانین کی تشکیل کے عمل سے پارلیمان بتدریج غائب ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ غیاب اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ آئین کا یہ وعدہ کہ ٹیکس صرف باخبر اور سنجیدہ قانون سازی کے عمل کے ذریعے عائد کیے جائیں گے، رفتہ رفتہ ایک ایسے نظام میں بدل گیا ہے جہاں انتظامیہ کی تجاویز کو پارلیمان نہایت محدود جانچ پڑتال کے بعد رسمی منظوری دے دیتی ہے۔
شاید فنانس بل 2026 کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جسے یہ چھیڑنے سے گریز کرتا ہے۔ یہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کے مسئلے کو بنیادی سطح پر حل نہیں کرتا، نہ ہی ریٹیل سیکٹر کی ٹیکسیشن میں جامع اصلاحات متعارف کراتا ہے۔
یہ ودہولڈنگ ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا، قومی سطح پر یکساں سیلز ٹیکس نظام قائم نہیں کرتا