ٹیکس اور جی ڈی پی تناسب سے بڑھ کر اصل چیلنج
- اصل چیلنج ٹیکس شرح نہیں بلکہ ایسا مالیاتی نظام قائم کرنا ہے جو منصفانہ ٹیکسیشن، حکومتی جوابدہی، صوبائی ذمہ داری، مقامی خودمختاری اور عوامی سہولتیں یقینی بنائے
پاکستان میں بجٹ سے پہلے اور بعد میں ہونے والی ہر بحث میں ایک ہی سرخی نمایاں رہتی ہے وہ یہ ہے کہ ”ملک کا ٹیکس اور جی ڈی پی تناسب خطے میں سب سے کم ہے“۔ تاہم رواں سال اس بحث نے ایک دلچسپ موڑ لیا ہے۔ ایک تھنک ٹینک نے نشاندہی کی ہے کہ تقریباً 10 فیصد کا سرکاری ہدف ادھورا ہے کیونکہ اس میں صوبائی ٹیکسز اور پیٹرولیم لیوی شامل نہیں ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ان عناصر کو شامل کرنے سے مالی سال 2026-27 کے لیے پاکستان کا مؤثر تناسب 10.5 فیصد کے بجائے تقریباً 12.9 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔
یہ تصحیح ایک اہم شماریاتی کمزوری کو نمایاں کرتی ہے مگر یہ اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتی کہ آخر ہم کس چیز کی پیمائش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟
پاکستان کے مالیاتی بحران کو صرف کسی تناسب کے شمار کنندہ کو بہتر بنا کر نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے لیے اس پورے ڈھانچے پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت ہم ٹیکسیشن، ریاستی صلاحیت اور عوامی مالیات کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آئینی سیاسی معیشت روایتی عوامی مالیات کے مقابلے میں زیادہ مفید زاویہ فراہم کرتی ہے۔
پہلا نقطہ بالکل واضح ہے۔ پاکستان ایک وفاق ہے اور آئین وفاق اور صوبوں کے درمیان ٹیکس کے اختیارات تقسیم کرتا ہے۔ صوبائی ٹیکسز پاکستان کی مجموعی مالیاتی کاوشوں کا لازمی حصہ ہیں اور انہیں صرف اس بنیاد پر قومی بحث سے نہیں نکالنا چاہیے کہ وہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے دائرہ کار سے باہر جمع کیے جاتے ہیں۔
ٹیکس اور جی ڈی پی کا ایسا قومی تناسب جو صوبائی آمدن کو نظر انداز کرتا ہو ملک کی مجموعی ٹیکس وصولی کو حقیقت سے کم کر کے دکھاتا ہے۔
صوبائی ٹیکسز کی شمولیت تجزیاتی اعتبار سے درست ہے۔ ان کی عدم شمولیت نے ایک طویل عرصے سے اس تاثر کو جنم دے کر عوامی بحث کو متاثر کیا ہے کہ صرف وفاق ہی پاکستان کے ٹیکس نظام کی نمائندگی کرتا ہے۔
پیٹرولیم لیوی کا معاملہ ایک مختلف نوعیت کا ہے۔ معاشی نقطہ نظر سے یہ لیوی ٹیکس ہی کی ایک شکل معلوم ہوتی ہے، یہ لازمی ہے، اختیاری نہیں اور بالآخر اس کا بوجھ صارفین ہی اٹھاتے ہیں۔ تاہم آئینی اور بجٹ سازی کے اعتبار سے اسے غیر ٹیکس آمدن (نان ٹیکس ریونیو) میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ایک مختلف قانونی ڈھانچے کے تحت عائد کی جاتی ہے اور سرکاری اعداد و شمار میں تاریخی طور پر اسے ٹیکس سے الگ رکھا گیا ہے۔
کوئی بھی شخص اپنی سہولت کے مطابق قانونی درجہ بندیوں میں ردوبدل نہیں کر سکتا۔ اگر بجٹ میں لیوی کو غیر ٹیکس آمدن کے طور پر شمار کیا جاتا ہے تو محض ایک بین الاقوامی اشاریے کو بہتر دکھانے کے لیے اسے اچانک ”ٹیکس“ نہیں قرار دیا جا سکتا۔ ایسا کرنا صرف ایک شماریاتی غلطی کی جگہ دوسری غلطی کو جنم دیتا ہے۔ پاکستان کو اس معاملے میں مزید فکری اور مفہوم کی شفافیت کی ضرورت ہے۔
وفاقی حکومت سرکاری طور پر سہ ماہی اور سالانہ بنیادوں پر الگ الگ اشاریے شائع کرتی ہے، جن میں کل آمدن اور جی ڈی پی کا تناسب (مالی سال 26-2025 میں 15.7 فیصد)، ٹیکس آمدن اور جی ڈی پی کا تناسب (مالی سال 26-2025 میں 11.1 فیصد)، وفاقی ٹیکس انتظامیہ کی کارکردگی ناپنے کے لیے ایف بی آر ٹیکس تا جی ڈی پی تناسب (مالی سال 26-2025 میں 10.2 فیصد) اور صوبائی ٹیکس تا جی ڈی پی تناسب (مالی سال 26-2025 میں جی ڈی پی کا 0.9 فیصد) شامل ہیں۔
ہر اشاریہ ایک مختلف مقصد پورا کرتا ہے، انہیں ایک ہی سیاسی طور پر پسندیدہ عدد میں ضم کر دینا مالیاتی حقیقت کو اجاگر کرنے کے بجائے مبہم کر دیتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی تناسب اس بات کی وضاحت نہیں کرتا کہ مستند معیشت (ڈاکیومنٹڈ اکانومی) پر مسلسل بھاری بوجھ ڈالنے کے باوجود پاکستان کو بار بار مالیاتی بحرانوں کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے۔
موجودہ بیانیہ یہ فرض کر لیتا ہے کہ پاکستان ٹیکسوں کی کم وصولی کا شکار اس لیے ہے کیونکہ شہریوں پر کم ٹیکس عائد ہے لیکن یہ نتیجہ باریک بینی سے جائزہ لینے پر پورا نہیں اترتا۔
پاکستان کی رسمی معیشت کو پہلے ہی درپیش نظامِ ٹیکس کے تحت ترقی پذیر دنیا کی شدید ترین مالیاتی نچوڑ کا سامنا ہے۔ کمپنیاں سپر ٹیکس کے اضافے کے ساتھ شرحِ مؤثر پر بھاری کارپوریٹ ٹیکس ادا کرتی ہیں، جبکہ تنخواہ دار طبقہ ودہولڈنگ اور براہ راست ٹیکسوں میں مسلسل اضافے کا سامنا کر رہا ہے۔
صارفین کو خدمات پر صوبائی سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹیز، ریگولیٹری ڈیوٹیز، ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹیز، پیٹرولیم لیوی، بجلی کی ڈیوٹیز، گیس سرچارجز اور تجارتی لین دین میں شامل بے شمار ودہولڈنگ ٹیکسز کے ساتھ ساتھ 18 فیصد عمومی سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
ریاست کے لیے اب تقریباً ہر منظم معاشی سرگرمی ٹیکس کٹوتی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ بینک، ٹیلی کام کمپنیاں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، برآمد کنندگان، درآمد کنندگان، مینوفیکچررز اور آجر سب کے سب ٹیکس جمع کرنے والے ایجنٹوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس لیے یہ تضاد بالکل واضح ہے۔
پاکستان میں ایک ہی وقت میں مجموعی ٹیکس اور جی ڈی پی کا نسبتاً کم تناسب اور مستند معیشت سے منسلک افراد پر غیر معمولی طور پر زیادہ مؤثر ٹیکس کا بوجھ دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ بظاہر نظر آنے والا تضاد اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب توجہ ٹیکس کی شرحوں کے بجائے ٹیکس بیس (دائرہ کار) پر مرکوز کی جاتی ہے۔
ملک کی مالیاتی کمزوری بنیادی طور پر اس وجہ سے پیدا نہیں ہوتی کہ موجودہ ٹیکس دہندگان بہت کم تعاون کرتے ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ دولت، جائیداد، زرعی آمدن، تجارتی سرگرمیوں اور معاشی فوائد کا ایک بڑا حصہ مؤثر ٹیکسیشن سے باہر رہتا ہے جبکہ حکومتیں مسلسل ٹیکس دہندگان کے سکڑتے ہوئے دائرے سے ہی مزید وصولی بڑھاتی رہتی ہیں۔
اس کا نتیجہ ایک ایسے مالیاتی نظام کی صورت میں نکلتا ہے جو ٹیکس کی شرحوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ مزید محدود ہوتا جاتا ہے۔ پالیسی بحثوں میں اس باریک بینی کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مسلسل آنے والی حکومتیں سالانہ وصولیوں میں اضافے کا جشن تو مناتی ہیں لیکن یہ بتانے میں ناکام رہتی ہیں کہ اس اضافے کا کتنا حصہ ٹیکس بیس کی حقیقی توسيع کے بجائے افراط زر، پیٹرولیم لیوی، ودہولڈنگ ٹیکس کی بلند شرحوں، روکے گئے ریفنڈز یا عارضی اقدامات کا نتیجہ تھا۔ اسی طرح صوبائی مالیاتی کاوشوں پر بھی کوئی بحث نظر نہیں آتی۔
پاکستان کا آئین صوبوں کو اہم مالیاتی ذرائع تفویض کرتا ہے، جن میں زرعی آمدن پر ٹیکس، شہری غیر منقولہ جائیداد، خدمات پر سیلز ٹیکس اور مختلف مقامی ٹیکس شامل ہیں۔ اس کے باوجود این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے فنڈز کے مقابلے میں صوبوں کی اپنی پیدا کردہ آمدن انتہائی کم رہتی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی خامی نہیں ہے بلکہ ایک گہرے آئینی عدم توازن کی عکاسی کرتی ہے۔
سیاسی مفادات صوبائی حکومتوں کو اس بات پر اکساتے ہیں کہ وہ قابل تقسیم پول کے تبادلوں پر حد سے زیادہ انحصار کریں جبکہ زرعی آمدن پر ٹیکسیشن، جائیداد کی مالیت کے تعین اور بلدیاتی مالیات سے متعلق سیاسی طور پر مشکل اصلاحات کو مؤخر کرتی رہیں۔ اس کا نتیجہ ایک ایسے وفاق کی صورت میں نکلتا ہے جہاں حکومت کی دونوں سطحیں ایک دوسرے سے سیاسی طور پر سخت اور ناگوار ٹیکس اصلاحات کرنے کی توقع رکھتی ہیں۔
یہ بحث بھی اسی طرح مزید باریک بینی سے جائزے کی متقاضی ہے کہ آیا پاکستان کو واقعتاً 18 فیصد ٹیکس تا جی ڈی پی تناسب کی ضرورت ہے۔ یہ مفروضہ بظاہر پرکشش معلوم ہوتا ہے۔ پائیدار ترقی کا خواہا ں کوئی بھی ملک قرضوں کے ذریعے جاری اخراجات اور ترقیاتی کاموں کو لامحدود مدت کے لیے نہیں چلا سکتا، لہٰذا ملکی سطح پر آمدن میں اضافہ انتہائی ضروری ہے۔ اس کے باوجود کوئی بھی عالمگیر معاشی اصول 18 فیصد کو کوئی حتمی یا معجزاتی حد قرار نہیں دیتا۔
ٹیکس کی مناسب سطح کا انحصار حکومت کے سائز، آبادیاتی دباؤ، دفاعی ضروریات، قرضوں کی ادائیگی کی پاسداری، پبلک سیکٹر کی کارکردگی، سماجی تحفظ کی ذمہ داریاں اور اخراجات کی ذمہ داریوں کی آئینی تقسیم پر ہوتا ہے۔
ایک ایسی حکومت جو غیر موثر اخراجات، خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں، غیر شفاف سبسڈیز اور کمزور احتساب کی حامل ہو، وہ محض جی ڈی پی کے 5 فیصد کے برابر اضافی آمدن حاصل کر لینے سے ترقی پسند یا ترقی کی حامل نہیں بن جاتی۔ آمدن کو اخراجات سے الگ تھلگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔
بنیادی سوال یہ نہیں کہ حکومت کتنی آمدن جمع کرتی ہے بلکہ یہ ہے کہ کس قسم کی حکومت اسے جمع کر رہی ہے اور ان وسائل کو بعد میں کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں آئینی سیاسی معیشت روایتی عوامی مالیات سے الگ ہوتی ہے۔
روایتی مالیاتی تجزیہ ٹیکسیشن کو بنیادی طور پر آمدن میں اضافے کی ایک تکنیکی مشق کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ آئینی سیاسی معیشت زیادہ بنیادی سوالات اٹھاتی ہے کہ ٹیکس عائد کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ اس کا بوجھ کون اٹھاتا ہے؟ اخراجات کی ترجیحات کا تعین کیسے ہوتا ہے؟ مالیاتی حد سے تجاوز کے خلاف شہریوں کی حفاظت کے لیے کون سی آئینی رکاوٹیں موجود ہیں؟ کون سے ادارہ جاتی انسینٹوز پیداواری سرمایہ کاری کو فروغ دیتے ہیں یا اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں؟ اور ٹیکسیشن اور عوامی اخراجات سیاسی جواز کو کس طرح متاثر کرتے ہیں؟
ان سوالات کا جواب کسی ایک تناسب سے دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی جی ڈی پی کو ایک غیر جانبدار شمار کنندہ تسلیم کیا جا سکتا ہے۔
شماریاتی طریقہ کار میں تبدیلیاں، افراطِ زر، اعداد و شمار کی نئی بنیاد کا تعین اور نومینل آؤٹ پٹ میں اتار چڑھاؤ، یہ تمام عوامل ٹیکس پالیسی سے قطع نظر ٹیکس تناسب کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تناسب میں مثبت تبدیلی بعض اوقات بگڑتے ہوئے بنیادی معاشی ڈھانچے کو چھپا سکتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے اس میں عارضی کمی کے ساتھ مثبت طرز تعمیر میں بہتری کا عمل جاری ہو سکتا ہے۔ نتیجے کے طور پر مالیاتی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے مزید جامع اور وسیع اشاریوں کے نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔
ٹیکس تا جی ڈی پی تناسب کے ساتھ ساتھ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ باقاعدگی سے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں (ٹیکس ایکسپیڈیچر)، مختلف آمدنی والے طبقات پر موثر ٹیکس کے بوجھ، صوبوں کی ذاتی آمدن، ریفنڈز کا التوا، ٹیکس وصولی کی لاگت، خالص آمدن کے تناسب سے قرضوں کی ادائیگی، عوامی سرمایہ کاری کی افادیت اور کاروبار پر عائد تعمیل کے اخراجات سے متعلق اعداد و شمار شائع کریں۔ صرف اسی صورت میں پالیسی ساز، پائیدار مالیاتی استحکام اور عارضی وصولیوں میں فرق کو سمجھ سکتے ہیں۔
پاکستان کا طویل المدتی چیلنج شماریاتی ہے اور نہ ہی محض انتظامی بلکہ یہ ادارہ جاتی ہے۔ ملک کا نوآبادیاتی دور کے بعد کا مالیاتی ڈھانچہ باہمی احتساب کے بجائے نچوڑ کے گرد استوار ہوا ہے۔ شہری ریاست کو انصاف، تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور مقالمی عوامی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے کے بجائے ٹیکس، لیوی، ڈیوٹیز اور سرچارجز جمع کرنے والی مشینری کے طور پر دیکھتے ہیں، جس سے رضاکارانہ طور پر ٹیکس دینے کا رجحان کمزور ہوتا ہے۔
جب ٹیکس دہندگان یہ محسوس کرتے ہیں کہ اضافی وصولیاں عوامی فلاح و بہبود کے بجائے مسلسل خساروں، غیر فعال اداروں، انتظامی پھیلاؤ اور اشرافیہ کی مراعات پوری کرنے کےلیے کی جا رہی ہیں تو مزاحمت میں اضافہ لازمی ہو جاتا ہے۔ ایسے میں قانونی شرحوں کا اضافہ ٹیکس سے بچاؤ، جبر و تشدد پر مبنی نفاذ اور ودہولڈنگ جیسے طریقوں پر انحصار کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ یوں یہ منفی چکر خود کو دہراتا رہتا ہے۔
اس جمود کو توڑنے کے لیے صرف ٹیکس انتظامیہ میں بہتری سے زیادہ کچھ درکار ہے۔ پاکستان کو ایک ایسے آئینی و مالیاتی معاہدے کی ضرورت ہے جس کی بنیاد وسیع ٹیکس بیس، متوازن و قابلِ پیش گوئی شرحوں، بااختیار صوبائی مالیاتی ذمہ داری، بااختیار مقامی حکومتوں، شفاف اخراجات اور قابلِ اعتماد ادارہ جاتی احتساب پر ہو۔
معاشی نمو اور ٹیکس اصلاحات کو ایک ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ڈاکیومنٹیشن کے ذریعے دائرہ کار کو وسیع کرنا، استثنیٰ کو معقول بنانا، غیر رسمی معیشت کو شامل کرنا اور صوبائی ٹیکسیشن کو مضبوط بنانا موجودہ ٹیکس دہندگان پر جابرانہ بوجھ ڈالے بغیر تدریجی بنیادوں پر آمدن میں اضافہ کرسکتا ہے۔
اس کے برعکس پیٹرولیم لیوی، بار بار عائد کیے جانے والے ودہولڈنگ ٹیکسز، ماضی سے لاگو ہونے والے اقدامات اور بالواسطہ ٹیکسیشن کے ذریعے آمدن بڑھانے کا مسلسل سلسلہ سالانہ اعداد و شمار کو تو بہتر بنا سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور عوامی اعتماد کو کمزور کر دیتا ہے۔
پاکستان کو یقیناً ٹیکس کی گنتی سے جڑے ایک مسئلے کا سامنا ہے، تاہم یہ صرف ایک بہت گہرے آئینی مسئلے کا بیرونی مظہر ہے۔ اصل چیلنج یہ نہیں ہے کہ ملک کا ٹیکس تا جی ڈی پی تناسب 10 فیصد، 13 فیصد یا بالآخر 18 فیصد ہے یا نہیں، بلکہ اصل چیلنج یہ ہے کہ آیا پاکستان اپنے نچوڑ پر مبنی مالیاتی نظام کو ایک ایسے آئینی سماجی معاہدے میں تبدیل کر سکتا ہے جہاں ٹیکسیشن کی بنیاد ادا کرنے کی صلاحیت پر ہو، حکومتیں اپنے اخراجات کے لیے جوابدہ ہوں، صوبے حقیقی مالیاتی ذمہ داری قبول کریں، مقامی حکومتیں اپنے ذرائع سے آمدن حاصل کرکے اسے خود خرچ کریں اور شہری اپنی واجب الادا ادائیگیوں کے بدلے میں واضح اورنظر آنے والی عوامی سہولتیں حاصل کر سکیں۔
جب تک یہ تبدیلی رونما نہیں ہوتی، ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب میں چند فیصد کے ردوبدل کی بحثیں سرخیوں کا حصہ تو بنتی رہیں گی، مگر پاکستان کے مالیاتی بحران کی بنیادی وجوہات کا حل تلاش نہیں کیا جا سکے گا۔
ملک کا مستقبل محض زیادہ آمدن جمع کرنے پر منحصر نہیں، بلکہ ان آئینی بنیادوں کی ازسرنو تعمير پر منحصر ہے جو یہ طے کرتی ہیں کہ آمدن کیسے حاصل کی جائے اور کہاں خرچ ہو، اس کا بوجھ کون اٹھائے اور کیا ریاست بالآخر وہ اعتماد حاصل کر پاتی ہے جو منصفانہ و ہمہ گیر ترقی کے ساتھ پائیدار ٹیکس نظام کو ممکن بناتا ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026

























Comments