13 کھرب روپے سے زائد ٹیکس وصولی سے آگے کا مرحلہ
- ریکارڈ ٹیکس وصولیاں حقیقی مالیاتی اصلاحات کا ثبوت نہیں، اصل پیمانہ ٹیکس نیٹ کی وسعت، معیشت کی پائیداری اور رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی ہے
ہر سال مالی سال کے اختتام کے فوراً بعد قوم کے سامنے ایک مانوس داستان دہرائی جاتی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ریکارڈ ٹیکس وصولی کا اعلان کرتا ہے، حکومت اسے غیرمعمولی کامیابی قرار دیتی ہے، اور بحث کا محور یہی بن جاتا ہے کہ آیا سالانہ ہدف حاصل ہوا یا نہیں۔ یہ روایت برسوں سے، اقتدار میں آنے والی ہر حکومت کے دور میں، تقریباً اسی انداز سے جاری ہے۔
مالی سال 2025-26 بھی اس روایت سے مختلف نہیں۔ غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ایف بی آر نے عبوری طور پر تقریباً 13 کھرب روپے ٹیکس جمع کیا، جو پاکستان کی تاریخ میں موجودہ مالیت کے لحاظ سے سب سے زیادہ وصولی ہے۔ حسبِ توقع، اسے ایک غیر معمولی ادارہ جاتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
تاہم موجودہ قیمتوں کی بنیاد پر ظاہر کی جانے والی یہ وصولیاں، جنہیں معیشت کی مجموعی صورتحال، حقیقی ٹیکس استعداد اور اکاؤنٹنگ کی شعبدہ بازیوں سے الگ کر کے پیش کیا جاتا ہے، شاذونادر ہی کسی ریونیو ادارے کی حقیقی کارکردگی کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ صرف اتنا بتاتی ہیں کہ موجودہ قیمتوں پر کتنی رقم وصول کی گئی، خواہ اس کے لیے غیر ضروری پیشگی ٹیکس وصول کیا گیا ہو یا جائز ریفنڈز روک لیے گئے ہوں۔
گزشتہ دو دہائیوں سے ٹیکس انتظامیہ پر اپنے کالموں میں ہم مسلسل یہی مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ ایف بی آر کی کارکردگی کا معیار صرف مجموعی ٹیکس وصولی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا جائزہ اس بات پر لیا جانا چاہیے کہ ٹیکس محصولات کس معیار کے ساتھ جمع کی گئیں، ٹیکس دہندگان کی تعداد میں کتنا اضافہ ہوا، تعمیل (کمپلائنس) کی لاگت میں کتنی کمی آئی، ریفنڈز کتنی بروقت ادا کیے گئے، ٹیکس مقدمات میں کتنی کمی ہوئی، اور معیشت کی نمو میں ادارے نے کتنا مثبت کردار ادا کیا۔
کسی بھی ریونیو ادارے کا مقصد صرف سالانہ ٹیکس وصولی کو ہر قیمت پر بڑھانا نہیں، بلکہ معیشت کو مضبوط بنانا ہوتا ہے، نہ کہ جارحانہ اور استحصالی طریقوں سے زیادہ سے زیادہ محصولات اکٹھا کرنا۔
سالانہ بجٹ گوشوارہ 2026-27 میں شامل نظرثانی شدہ تخمینے سرکاری دعووں اور جشن سے کہیں زیادہ حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتے ہیں۔
حکومت نے خود مالی سال 2025-26 کے لیے ایف بی آر کا اصل ہدف 14.131 کھرب روپے سے کم کرکے 12.983 کھرب روپے کر دیا، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے نیا ہدف 15.264 کھرب روپے مقرر کیا، جو نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں 2.281 کھرب روپے یا 17.57 فیصد زیادہ ہے۔
اسی طرح براہِ راست ٹیکسوں کا تخمینہ 6.902 کھرب روپے سے کم کرکے 6.432 کھرب روپے اور بالواسطہ ٹیکسوں کا تخمینہ 7.229 کھرب روپے سے گھٹا کر 6.551 کھرب روپے کر دیا گیا۔
یہ نظرثانیاں خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ ابتدائی تخمینے غیر حقیقی ثابت ہوئے۔ اس لیے کارکردگی کا منصفانہ جائزہ خواہش پر مبنی اہداف کے بجائے زمینی حقائق اور وفاقی سطح پر ٹیکس وصولی کی حقیقی استعداد کو سامنے رکھ کر لیا جانا چاہیے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو تصویر سرکاری بیانات کے مقابلے میں اتنی حوصلہ افزا نہیں۔ ایک آزادانہ اخباری رپورٹ کے مطابق ایف بی آر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مقررہ معیار سے 975 ارب روپے پیچھے رہا، جبکہ ٹیکس وصولی کی تمام بڑی مدیں، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، بھی توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہیں۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ معیشت کی برائے نام نمو سے بھی کم رہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محصولات میں ہونے والا بڑا اضافہ ٹیکس انتظامیہ کی کارکردگی میں نمایاں بہتری یا ٹیکس نیٹ کے پھیلاؤ کے بجائے زیادہ تر افراطِ زر اور برائے نام مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کا نتیجہ تھا۔
سرکاری کارکردگی پیش کرنے کے انداز میں ایک اور بنیادی خامی بھی موجود ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے اعلان کردہ سالانہ ہندسہ مالی سال کے دوران وصول کی گئی نقد رقم کو ظاہر کرتا ہے، لیکن نقد وصولی کو حقیقی ٹیکس محصولات میں اضافے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔
رپورٹ کی گئی وصولیوں کا ایک بڑا حصہ ایڈوانس ٹیکس (حتیٰ کہ بعض اوقات وہ بھی جو ابھی واجب الادا نہیں ہوتے) اور مستقبل کی ٹیکس واجبات سے متعلق ودہولڈنگ ٹیکس پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ دوسری جانب قانون کے تحت طے شدہ جائز ریفنڈز اکثر مقررہ قانونی مدت گزرنے کے باوجود ادا نہیں کیے جاتے۔
اس طرح وقت کے فرق کی بنیاد پر سال کے اختتام پر وصولیوں کا حجم تو بڑھا ہوا دکھائی دیتا ہے، لیکن ریاست کی حقیقی ٹیکس آمدن میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا، اور اسی بنیاد پر اگلے مالی سال کے لیے غیر حقیقی طور پر زیادہ محصولات کے اہداف مقرر کر دیے جاتے ہیں۔
محاسبے (اکاؤنٹنگ) کے نقطۂ نظر سے یہ طریقہ سالانہ کارکردگی کے تقابلی جائزے کو مسخ کرتا ہے، جبکہ آئینی اعتبار سے اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قانون کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان عملاً حکومت کے اخراجات بلا سود پورے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مزید برآں، ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کو بھی اصل آمدن سے زیادہ ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔
ایک جدید ریونیو ادارے کی کارکردگی کا معیار یہ ہونا چاہیے کہ وہ واجب الادا ریفنڈز کو تسلیم کرنے کے بعد حاصل ہونے والی حقیقی خالص ٹیکس آمدن کی بنیاد پر جانچی جائے، نہ کہ مالی سال کے اختتام پر آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی خاطر اپنے پاس روکی گئی مجموعی نقد وصولیوں کی بنیاد پر، جس کی قیمت مالیاتی نظم و ضبط کو چکانی پڑے۔
اتنی ہی اہم ایک اور حقیقت دستاویزی معیشت اور حقیقی معیشت کے درمیان فرق ہے۔ ایف بی آر کا نفاذی نظام زیادہ تر منظم شعبے تک محدود ہے، جس میں کارپوریٹ ادارے، بینک، تنخواہ دار طبقہ، صنعت کار، درآمدکنندگان اور بڑے ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹس شامل ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) سمیت مختلف آزاد تحقیقی اداروں کی رپورٹس مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان کی غیر دستاویزی (شیڈو) معیشت ملکی معاشی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ ہے۔
اگرچہ مختلف مطالعات میں اس کے حجم کے تخمینے طریقۂ کار کے لحاظ سے مختلف ہیں، تاہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ پیداوار، تجارت اور خدمات کا ایک بڑا حصہ اب بھی مؤثر ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ نتیجتاً ہر نئے فنانس ایکٹ کے ذریعے انہی دستاویزی ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ معیشت کا وسیع غیر ٹیکس شدہ حصہ بدستور مؤثر ٹیکس نظام کی دسترس سے باہر رہتا ہے۔
یہ ٹیکس نیٹ میں توسیع نہیں بلکہ ٹیکس کے بوجھ کا ارتکاز ہے۔ بار بار بوجھ انہی افراد اور اداروں پر منتقل کیا جاتا ہے جو پہلے ہی ریونیو حکام کی نظر میں ہیں، جبکہ ٹیکس نیٹ سے باہر موجود طبقے کو اس میں شامل کرنے کی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔
اسی وجہ سے ٹیکس کی بنیاد آج بھی بنیادی طور پر محدود ہے۔ زرعی آمدن پر ٹیکس کے حوالے سے متعدد قانون سازی کے باوجود محصولات نہ ہونے کے برابر ہیں، حالانکہ جہاں صوبائی سطح پر زرعی آمدن پر ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا، وہاں ایف بی آر کو اس پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔
ہول سیل اور ریٹیل تجارت کا ایک بڑا حصہ اب بھی غیر دستاویزی ہے۔ معیشت کے کئی اہم شعبوں میں نقد لین دین کا غلبہ برقرار ہے، جبکہ رئیل اسٹیٹ کا شعبہ آئینی اور انتظامی دونوں حوالوں سے بدستور تنازعات کا شکار ہے۔ اسی طرح ڈیجیٹل معیشت بھی ابھی تک صرف جزوی طور پر ہی دستاویزی شکل اختیار کر سکی ہے۔ نتیجتاً دستاویزی معیشت سے وابستہ محدود طبقہ قومی ٹیکس بوجھ کا بڑھتا ہوا حصہ اٹھانے پر مجبور ہے۔
یہی فرق اس حقیقت کی وضاحت کرتا ہے کہ ریکارڈ برائے نام ٹیکس وصولیاں ہونے کے باوجود ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی کی شرح مسلسل نسبتاً کم کیوں رہتی ہے۔ افراطِ زر، روپے کی قدر میں کمی اور برائے نام جی ڈی پی میں اضافہ، ٹیکس انتظامیہ میں حقیقی بہتری نہ ہونے کے باوجود، خود بخود ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کر دیتے ہیں۔
چیئرمین ایف بی آر تقریباً 46 ارب امریکی ڈالر کی ٹیکس وصولی کو ایک غیر معمولی مالیاتی کامیابی قرار دیتے ہوئے اس کا جشن منا رہے ہیں۔ ایسے دعوے ٹی وی ٹاک شوز، پریس کانفرنسوں اور سرکاری بریفنگز میں تو متاثر کن محسوس ہو سکتے ہیں، لیکن ٹیکس انتظامیہ کی سنجیدہ جانچ کے لیے صرف برائے نام اعدادوشمار کافی نہیں ہوتے، بلکہ ان کے پس منظر اور حقیقی حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔
سرکاری تخمینوں کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی جی ڈی پی تقریباً 452 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس حساب سے ایف بی آر کی وصولیاں ڈالر کے لحاظ سے بھی جی ڈی پی کا صرف 10.18 فیصد بنتی ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک طرف ایف بی آر کی قیادت اپنی کارکردگی پر خود کو مبارک باد دے رہی تھی، تو دوسری جانب ورلڈ بینک نے 40 کروڑ ڈالر مالیت کے ”پاکستان ریزز ریونیو (پی آر آر) پراجیکٹ“ کی درجہ بندی اس کے بنیادی اہداف کے حصول میں کمزور پیش رفت کے باعث ”اطمینان بخش“ سے کم کرکے ”جزوی طور پر اطمینان بخش“ کر دی۔
ادارہ جاتی کارکردگی کا ایک اہم مگر اکثر نظر انداز کیا جانے والا پیمانہ ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی ہے۔ ریفنڈز میں تاخیر ایک طرف مالی سال کے اختتام پر ٹیکس وصولیوں کو مصنوعی طور پر بڑھا چڑھا کر ظاہر کرتی ہے، تو دوسری جانب برآمدکنندگان اور دیگر قانون کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان کو اپنے کاروبار کے لیے درکار ورکنگ کیپیٹل سے محروم کر دیتی ہے۔
اگرچہ ایسے اقدامات محض حسابی اعدادوشمار کو بہتر بنا دیتے ہیں، لیکن ان سے معاشی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ عوامی مالیات کا کوئی بھی جدید نظام اس وقت تک خالص ٹیکس آمدن کی درست تصویر پیش نہیں کر سکتا جب تک جائز ریفنڈز کو ریاست کی واجب الادا ذمہ داری کے طور پر تسلیم نہ کیا جائے۔
چونکہ وزیرِ خزانہ اور ایف بی آر کی قیادت مسلسل ڈالر کے لحاظ سے ٹیکس وصولیوں کو کامیابی قرار دے رہی ہے، اس لیے بین الاقوامی موازنہ بھی ان دعوؤں کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔
مثال کے طور پر فن لینڈ کو دیکھیے۔ تقریباً 60 لاکھ آبادی اور لگ بھگ 374 ارب یورو کی معیشت رکھنے والے اس ملک نے 2025 کے دوران تقریباً 84 ارب یورو ٹیکس جمع کیا۔ اس کے برعکس 25 کروڑ سے زائد آبادی اور وسیع غیر استعمال شدہ معاشی صلاحیت رکھنے والا پاکستان تقریباً 46 ارب امریکی ڈالر کی ٹیکس وصولی پر خوشی منا رہا ہے، حالانکہ اس کی ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح ہم پلہ معیشتوں میں اب بھی کم ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔
یہ موازنہ بہت کچھ واضح کر دیتا ہے۔ فن لینڈ زیادہ محصولات ودہولڈنگ ٹیکس، من مانے نوٹس، ریفنڈز روکنے یا جابرانہ نفاذ کے ذریعے حاصل نہیں کرتا، بلکہ اس کی بنیاد وسیع ٹیکس نیٹ، رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی، ٹیکس دہندگان کے اعتماد، ادارہ جاتی ساکھ اور ایک مؤثر فلاحی ریاست پر قائم ہے۔
اس کے برعکس پاکستان مجموعی ٹیکس وصولیوں پر جشن مناتا ہے، مگر ان اشاریوں کو نظر انداز کر دیتا ہے جو درحقیقت ادارہ جاتی کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ریکارڈ برائے نام وصولیوں کے باوجود ملک مسلسل بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں، مستقل مالیاتی خسارے اور قرضوں کی ادائیگی کے بڑھتے بوجھ کا سامنا کر رہا ہے۔
ٹیکس وصولیوں کا جائزہ مالیاتی نتائج سے الگ ہو کر نہیں لیا جا سکتا۔ اگر زیادہ ٹیکس وصولیوں کے باوجود سرکاری مالیات مسلسل بگڑ رہی ہوں تو مسئلہ صرف ٹیکس انتظامیہ میں نہیں بلکہ پورے مالیاتی ماڈل میں ہے۔ پائیدار مالیاتی نظام اس بنیاد پر استوار نہیں کیا جا سکتا کہ ہر سال انہی ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈال دیا جائے، جبکہ معیشت کا ایک بڑا حصہ مؤثر ٹیکس نظام سے باہر ہی رہے۔
پاکستان کو ٹیکسوں کی کمی کا نہیں بلکہ ٹیکس ادا کرنے کے قابل معاشی نمو کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ جب تک مالیاتی پالیسی کا رخ دستاویزی معیشت سے مزید محصولات نچوڑنے کے بجائے حقیقی معیشت کو دستاویزی بنانے کی جانب نہیں موڑا جاتا، تب تک ریکارڈ ٹیکس وصولیاں محض ایک حسابی کامیابی رہیں گی، حقیقی مالیاتی اصلاحات کا ثبوت نہیں۔
لہٰذا ایف بی آر کی کارکردگی کو سالانہ ٹیکس وصولیوں کے حجم سے نہیں، بلکہ اس معیشت کی مضبوطی، وسعت اور پائیداری سے جانچا جانا چاہیے، جو ان محصولات کو جنم دیتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments