دکانداروں کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوشش
- پاکستان کو عارضی ٹیکس اقدامات نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ کی توسیع، ڈیجیٹل نظام اور تمام شعبوں پر یکساں و منصفانہ ٹیکس پالیسی درکار ہے
پاکستان کا مالیاتی بحران دہائیوں سے برقرار ہے مگر ہر آنے والی حکومت نے اسے حل کرنے کے لیے معیشت کے دستاویزی (ڈاکیومنٹڈ) شعبے پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا وہی محدود اور روایتی طریقہ اپنایا ہے جبکہ بنیادی نقائص کو بڑے پیمانے پر ناصرف نظر انداز کیا گیا بلکہ ان کو چھیڑا تک نہیں گیا۔
پائیدار بنیادوں پر ریونیو جمع کرنے میں مسلسل ناکامی کے نتیجے میں اکثر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، خاص طور پر جب بھی سالانہ ٹیکس وصولی کے اہداف حاصل نہیں ہوتے۔ تاہم اس طرح کی تنقید اصل اور انتہائی گہری پالیسی ناکامی کو حد سے زیادہ سطحیت کے ساتھ ڈھانپ دیتی ہے۔مناسب ریونیو جمع کرنے میں ناکامی صرف ایف بی آر کے اندرونی انتظامی مسائل کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ ان مالیاتی پالیسیوں کا حاصل ہے جو ٹیکس کے بنیادی دائرہ کار کو مسلسل محدود کرتی ہیں، بااثر سیاسی طبقوں کے پسندیدہ شعبوں کو ترجیحی مراعات (رعایتیں) فراہم کرتی اور تنخواہ دار طبقے و باقاعدگی سے ٹیکس دینے والے کاروباری افراد پر غیر متناسب بوجھ ڈالتی ہیں۔ چھوٹے دکانداروں کے لیے حال ہی میں نوٹیفائی کیا گیا ”ڈرافٹ اسپیشل پروسیجر“ (تجویز کردہ خصوصی طریقہ کار) ایک بار پھر اسی پالیسی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے اور ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کے حوالے سے حکومت کے عزم پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔پاکستان کی قیادت دہائیوں سے درپیش مالیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی کوششیں تو کر رہی ہے لیکن ان پر قابو پانے کے لیے مسلسل غلط راستے پر گامزن ہے۔ دنیا کی پانچویں بڑی آبادی کا مسکن ہونے کے باوجود پاکستان نے اب تک اپنی اندرونی مارکیٹ اور کاروباری صلاحیتوں (انٹرپرینیور کیپیسٹی) میں پوشیدہ عظیم معاشی امکانات کو تسلیم نہیں کیا اور اس کے بجائے روایتی و قلیل مدتی ریونیو اقدامات پر انحصار جاری رکھا ہوا ہے۔
حکومت نے ملک کے تازہ ترین معاشی سروے میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جی ڈی پی کا 3.2 فیصد پرائمری سرپلس حاصل کیا، مالیاتی خسارے کو کم کرکے 0.7 فیصد تک محدود کیا، ریونیو میں 10.7 فیصد اضافہ کیا، ترقیاتی اخراجات میں 18.7 فیصد کا اضافہ اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے اخراجات میں 26.8 فیصد تک توسیع (پھیلاؤ) کی، یہ میکرواکنامک (کل معاشی) اشاریے بلا شبہ بہتر مالیاتی نظم و ضبط کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم دوسری جانب وہی سروے یہ بھی انکشاف کرتا ہے کہ غریب طبقے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ 2018-19 کے 21.9 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 28.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس میں دہی (دیہاتی) غربت 36.2 فیصد اور شہری غربت 17.4 فیصد پر کھڑی ہے۔ یہ تضاد انتہائی واضح اور نمایاں ہے۔ اگرچہ کاغذی حد تک مالیاتی اشاریے بہتر ہوئے ہیں، لیکن عام شہریوں کی معاشی بہبود اور حالتِ زار مزید بگڑی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ منصفانہ ریونیو جمع کیے بغیر اور ہمہ گیر معاشی نمو کے بغیر محض میکرواکنامک استحکام پائیدار خوشحالی نہیں دے سکتا۔موجودہ بجٹ نے پہلے سے نازک مالیاتی صورتحال پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔ مالیاتی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں این ایف سی (این ایف سی ایوارڈ) کے تحت صوبائی حصوں کی ادائیگی کے بعد حکومت کی صافی (نیٹ) ریونیو وصولیوں کا تخمینہ 11,751 ارب روپے لگایا گیا ہے، جبکہ اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ہے۔ صرف قرضوں کی ادائیگی (ڈیٹ سروسنگ) پر 8,054 ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے، جو کل تخمینہ شدہ ریونیو کا تقریباً نصف (آدھا) حصہ نگل جائے گا۔ دفاعی اخراجات، پینشن، سبسڈیز، گرانٹس، شہری انتظامیہ اور ترقیاتی اخراجات مسلسل بھاری مالیاتی وسائل کھا رہے ہیں، جس کی وجہ سے حکومت کو اضافی ملکی و غیر ملکی قرضوں پر شدید انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔متوقع مالیاتی منصوبے کے تحت کثیر الجہتی (ملٹی لیٹرل) قرضوں، تجارتی (کمرشل) استقراض، سرکاری تمسکات (سیکیورٹیز) اور قومی بچت اسکیموں کے ذریعے اربوں روپے حاصل کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان آج کے اخراجات کل کے واجبات (قرضوں) سے پورے کر رہا ہے۔ تاہم اس بڑھتے ہوئے مالیاتی دباؤ کے باوجود پالیسی سازوں کی تمام تر توجہ ملک کا ٹیکس بیس بنیادی طور پر بڑھانے کے بجائے پہلے سے دستاویزی معیشت سے مزید ریونیو نچوڑنے پر مرکوز ہے۔
اہم ریونیو اہداف حاصل نہ کرنے پر حکومت کی جانب سے ایف بی آر پر مسلسل تنقید ایک اہم ادارہ جاتی حقیقت کو نظر انداز کرتی ہے۔ کوئی بھی ٹیکس انتظامیہ، چاہے وہ کتنی ہی فعال اور موثر کیوں نہ ہو اس وقت تک غیر حقیقت پسندانہ اہداف حاصل نہیں کر سکتی جب تک کہ مالیاتی پالیسی بیک وقت وسیع چھوٹ دے رہی ہو، نفاذ کے نظام کو کمزور کرتی ہو اور معیشت کے بڑے شعبوں کو باقاعدہ دستاویز سازی سے باہر رکھتی ہو۔ریونیو حکام صرف ٹیکس قوانین نافذ کرتے ہیں، وہ اس معاشی ڈھانچے کو تشکیل نہیں دیتے جس کے اندر یہ قوانین کام کرتے ہیں۔ جب حکومتیں بغیر مناسب تدابیر کے مستثنیات (ایگزیمپشنز)، مفروضہ ٹیکس نظام (پریزمپٹیو رجیم) اور ترجیحی طریقہ کار متعارف کراتی ہیں تو وہ بالواسطہ طور پر اسی ٹیکس صلاحیت کو کم کر دیتی ہیں جسے نچوڑنے کی توقع ایف بی آر سے کی جاتی ہے۔ وصولی کے ذمہ دار ادارے کو ملامت کرنا اور ساتھ ہی موثر ٹیکس بیس کو مسلسل محدود کرنا معقول مالیاتی حکمتِ عملی کے بجائے ایک پالیسی تضاد کی نشاندہی کرتا ہے۔چھوٹے دکانداروں کے لیے تجویز کردہ ”ڈرافٹ اسپیشل پروسیجر“ اس تضاد کا واضح ثبوت ہے۔ یہ تجاویز 200 ملین (20 کروڑ) روپے تک کی سالانہ سیلز (ٹرن اوور) والے انفرادی ریٹیلرز پر لاگو ہوتی ہیں اور اہل دکانداروں کو کل ٹرن اوور پر صرف 1 فیصد ٹیکس کی بنیاد پر ایک آسان نظام کا انتخاب کرنے کی اجازت دیتی ہیں، جس میں کم از کم 25,000 روپے کی ادائیگی شرط ہے۔
یہ اسکیم رضاکارانہ ہے، شامل ہونے والوں کو کئی ود ہولڈنگ ذمہ داریوں سے مستثنیٰ کرتی ہے، محدود حالات کے علاوہ عموماً انہیں آڈٹ سے تحفظ فراہم کرتی ہے، لازمی پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) یا ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹمز سے چھوٹ دیتی ہے اور یہاں تک کہ ایک گرین پلیٹ (سبز نشان) بھی فراہم کرتی ہے، جو اس بات کی علامت ہوگی کہ مذکورہ دکاندار پرامید اور قانون کے مطابق ہے، جس سے ایف بی آر کا اس کاروبار کے ساتھ عمل دخل انتہائی محدود ہو جائے گا۔حقیقی معنوں میں چھوٹے روزگار کے تعمیل اخراجات (کمپلائنس کاسٹ) کو کم کرنے کا مقصد قابلِ فہم اور بین الاقوامی طرزِ عمل کے عین مطابق ہے۔ تاہم مجوزہ فریم ورک ان تمام مراعات کو 200 ملین روپے تک سالانہ ٹرن اوور والے اور کاروبار تک وسعت دیتا ہے، حالانکہ اس حد تک کام کرنے والے اداروں کو کسی صورت محض مائیکرو انٹرپرائزز (انتہائی چھوٹے کاروبار) نہیں کہا جا سکتا۔اتنے بڑے پیمانے پر ٹرن اوور پیدا کرنے والا ریٹیل بزنس معقول منافع کما سکتا ہے، اہم تجارتی اثاثوں کا مالک ہو سکتا اور مارکیٹ میں مضبوط وجود رکھتا ہے۔ لہذا اس سطح کے پراپرٹیز اور کاروباروں کو ایک اختیاری آسان نظام کے تحت کام کرنے کی اجازت دینا اور ساتھ ہی انہیں اہم رپورٹنگ اور قانونی تعمیل کے تقاضوں سے استثنیٰ دینا، مساوات، شفافیت اور ریونیو کی وصولی کے حوالے سے جائز خدشات کو جنم دیتا ہے۔
بین الاقوامی طرزِ عمل کے ساتھ موازنہ بھی اتنا ہی چشم کشا ہے، بھارت، برازیل، جنوبی افریقہ، فرانس، اٹلی اور میکسیکو جیسے ممالک چھوٹے کاروباروں کے لیے آسان ٹیکس نظام چلاتے ہیں، لیکن ان سسٹمز کا بنیادی مقصد انتظامی پیچیدگیوں کو کم کرنا ہوتا ہے، نہ کہ موثر ٹیکس واجبات کو مستقل طور پر کم کر دینا۔مثال کے طور پر بھارت کا انکم ٹیکس ایکٹ 1961 کے سیکشن 44AD کے تحت قائم پریزمپٹیو ٹیکسیشن کا نظام ٹیکس دہندگان کو ٹرن اوور کے ایک کم از کم فیصد کو قابلِ ٹیکس آمدنی کے طور پر ظاہر کرنے کا پابند بناتا ہے، لیکن وہ ٹرن اوور کی واضح حد کو برقرار رکھتا ہے اور ٹیکس اتھارٹی کی قانون کی تعمیل کی تصدیق کی صلاحیت کو محفوظ رکھتا ہے۔برازیل کا ”سمپلز نیشنیل“ کئی ٹیکسوں کو ایک یکجا (یونیفائیڈ) سسٹم میں آسان تو بناتا ہے لیکن الیکٹرانک رپورٹنگ اور ڈیجیٹل ایڈمنسٹریشن کے ساتھ مکمل طور پر منسلک رہتا ہے۔ جنوبی افریقہ کا ٹرن اوور ٹیکس کمپلائنس اخراجات کو کم کرتا ہے لیکن تھرڈ پارٹی انفارمیشن سسٹمز اور رسک پر مبنی نگرانی کو برقرار رکھتا ہے۔فرانس اور اٹلی آڈٹ کے اختیارات یا ڈیجیٹل رپورٹنگ کی ذمہ داریوں کو ختم کیے بغیر چھوٹے اداروں کے لیے آسان اکاؤنٹنگ فراہم کرتے ہیں۔ یہ تمام ممالک اور دائرہ اختیار تعمیل کو تو آسان بناتے ہیں لیکن دستاویز سازی، ڈیجیٹلائزیشن اور نفاذ کو مسلسل مضبوط کرتے رہتے ہیں۔اس کے برعکس پاکستانی تجویز بالکل مخالف سمت میں جاتی ہے اور ان بنیادی میکانزمز کو ہی ڈھیلا کر دیتی ہے جن پر جدید ٹیکس انتظامیہ تعمیل کو بہتر بنانے کے لیے انحصار کرتی ہے۔ پی او ایس سسٹمز اور ڈیجیٹل انوائسنگ سے استثنیٰ ایسے وقت میں لین دین کی شفافیت (ٹرانزیکشن وزیبلٹی) کو ختم کر دیتا ہے جب دنیا بھر کی حکومتیں ٹیکس چوری اور غلط رپورٹنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے الیکٹرانک رپورٹنگ کو وسعت دے رہی ہیں۔
آڈٹ کی سرگرمیوں پر عملی حد بندی اور اس کے ساتھ تاجر تنظیموں کے ساتھ مشاورت کے تقاضے، آزادانہ ٹیکس نفاذ کو مزید کمزور کرتے ہیں۔ اگرچہ تھرڈ پارٹی معلومات اور استثنائی حالات مداخلت کی بنیاد کے طور پر برقرار ہیں، لیکن مجموعی پالیسی پیغام یہ جا رہا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے تجارتی شعبوں میں سے ایک ایسے وقت میں کم سے کم ریگولیٹری نگرانی کا مستحق ہے جب پاکستان کو ہم پلہ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سب سے کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کا سامنا ہے۔یہ تجویز ہوریزنٹل ایکویٹی کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھاتی ہے۔ تنخواہ دار افراد کا ٹیکس براہ راست ان کی آمدنی کے سورس سے بغیر کسی مذاکرات، اختیار یا اختیاری تعمیل کے کاٹ لیا جاتا ہے۔ کارپوریٹ ٹیکس دہندگان تفصیلی حسابی ریکارڈ (اکاؤنٹنگ ریکارڈز) برقرار رکھتے، آڈٹ سے گزرتے، ود ہولڈنگ کی پابندیوں کی تعمیل کرتے اور ڈیجیٹل رپورٹنگ سسٹمز کو تیزی سے اپنا رہے ہیں۔
صنعت کار، برآمد کنندگان اور رسمی کاروبار، پیداواری اور سپلائی چین کے دوران رپورٹنگ کے وسیع تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ اس مجوزہ طریقہ کار سے فائدہ اٹھانے والے ریٹیل بزنسز معیشت کے سب سے بڑے نقد (کیپٹل/کیش پر مبنی) شعبوں میں شامل ہونے کے باوجود ترجیحی سلوک حاصل کریں گے۔ اس طرح کے امتیازی سلوک کو اس آئینی اصول کے ساتھ آسانی سے ہم آہنگ نہیں کیا جا سکتا کہ یکساں معاشی صلاحیت رکھنے والے ٹیکس دہندگان کو عوامی مالیات میں منصفانہ حصہ ڈالنا چاہیے۔یہ پالیسی ناپسندیدہ اور غیر ارادی معاشی طرزِ عمل کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ 200 ملین روپے کی حد کے قریب پہنچنے والے کاروبار اس ترجیحی نظام کے اندر رہنے کے لیے قصداً اپنی توسیع روک سکتے ہیں، اپنے آپریشنز کو خاندان کے افراد میں تقسیم کر سکتے ہیں یا ملکیت کی ساخت میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر بھی ایسے ہی تجربات دیکھے گئے ہیں جہاں حد سے زیادہ سخاوت پر مبنی آسان ٹیکس نظام کاروباروں کو ریگولر ٹیکس سسٹم میں آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔ دستاویز سازی کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے حد سے زیادہ وسیع مراعات غیر رسمی (ان فارمل) معیشت کو مزید مضبوط کر سکتی ہیں کیونکہ وہ غیر دستاویزی رہنے کو معاشی طور پر زیادہ کشش بنا دیتی ہیں۔ پائیدار ٹیکس پالیسی کو کاروباروں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ وہ بڑھ کر رسمی معیشت کا حصہ بنیں نہ کہ ریگولیٹری حد سے نیچے رہنے پر انہیں انعام دیا جائے۔
اس کا زیادہ وسیع اور سنگین نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان بڑھتے ہوئے قرضوں کے ذریعے سرکاری اخراجات کو پورا کرنا جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ ملک کے اندر موجود ٹیکس کی بھاری صلاحیت کا استعمال ہی نہیں ہو پا رہا۔ منافع بخش لیکن کم ٹیکس والے شعبوں سے غیر وصول شدہ رہ جانے والا ہر روپیہ بالاخر باقاعدہ ٹیکس دینے والوں پر مزید ٹیکس، غیر براہ راست (ان ڈائریکٹ) ٹیکسوں میں اضافے، عوامی خدمات میں کمی یا مزید عوامی قرضوں کے ذریعے ہی پورا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی آپشن طویل مدتی مالیاتی پائیداری کو مضبوط نہیں بناتا۔اس کا حتمی بوجھ ان پابند اور قانون پسند شہریوں پر پڑتا ہے جن کے پاس اپنے ٹیکس کے واجبات پر مذاکرات کا کوئی موقع نہیں ہوتا، جبکہ ترجیحی مراعات سے فائدہ اٹھانے والے افراد اپنی معاشی صلاحیت سے کہیں کم حصہ ڈالنا جاری رکھتے ہیں۔پاکستان کو درپیش اصل چیلنج محض ٹیکس انتظامیہ کا نہیں بلکہ مالیاتی جرات و ہمت (فسکل کریج) کا ہے۔ ملک کو کسی ایسے عارضی اور خصوصی طریقہ کار کی ضرورت نہیں ہے جو ٹیکس سسٹم کو مزید ٹکڑوں میں بانٹے۔ اسے ایک جامع اور واضح حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو ٹیکس بیس کو وسعت دے، ڈیجیٹل قدموں کو مضبوط کرے، بینکنگ و ٹرانزیکشن ڈیٹا کو یکجا کرے، الیکٹرانک انوائسنگ کو پھیلاۓ، رسک کی بنیاد پر آڈٹ کو بہتر بنائے اور معیشت کے تمام شعبوں میں منصفانہ ٹیکس اصولوں کا اطلاق کرے۔
حقیقی مائیکرو انٹرپرائزز یقیناً آسان تعمیلی نظام کے مستحق ہیں، لیکن سادگی کو کبھی بھی انصاف یا احتساب کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔ جب تک پاکستان شعبہ جات کی بنیاد پر دی جانے والی مراعات کو ایک شفاف اور منصفانہ ٹیکس فریم ورک سے تبدیل نہیں کرتا، لوگ ریونیو کی کمی پر ایف بی آر پر تنقید کرتے رہیں گے، حالانکہ اس کی جڑیں ان مالیاتی پالیسیوں میں پیوست ہیں جن پر خود مسلسل حکومتیں کاربند چلی آ رہی ہیں۔
(ڈاکٹر اکرام الحق وکیل، وزٹنگ فیکلٹی لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لہمز)، رکن ایڈوائزری بورڈ اور وزٹنگ سینئر فیلو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) ہیں جبکہ عبد الرؤف شکوری امریکہ میں مقیم کارپوریٹ وکیل اور وائٹ کالر کرائمز اور پابندیوں کی تعمیل کے ماہر ہیں)
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026


























Comments